محمد
فیضان عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
قرآن کریم
میں اللہ پاک نے سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے مقدس احوال بیان فرما کر امتِ محمدیہ
کے لیے عبرت اور نصیحت کے خزانے جمع فرمائے ہیں۔ انھی پاکیزہ ہستیوں میں سے ایک جلیل
القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام ہیں، جن کا ذکرِ خیر قرآنِ پاک کی مختلف سورتوں میں
نہایت منفرد انداز میں ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے نام پر
پوری ایک سورت "سورۃ یونس" نازل فرمائی، جو آپ کی عظمتِ شان کی واضح دلیل
ہے قرآنِ مجید میں آپ علیہ السلام کو "ذو النون" اور "صاحب
الحوت" یعنی مچھلی والا بھی کہا گیا ہے، کیونکہ آپ کو آزمائش کے طور پر کچھ
عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا تھا۔
سب سے پہلی
بات یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم تاریخ کی وہ واحد قوم ہے جو عذاب کی
نشانیاں دیکھنے کے بعد ایمان لائی اور اللہ پاک نے ان کی سچی توبہ قبول فرما کر
عذاب کو ٹال دیا۔ قرآنِ پاک اس بے مثال واقعے کو یوں بیان فرماتا ہے: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( سورۃ یونس، آیت: 98)
یہ آیتِ مبارکہ رب کریم کی رحمتِ واسعہ پر دلالت
کرتی ہے کہ جب بندے سچے دل سے رجوع کریں تو وہ عذابِ الٰہی سے امان پا جاتے ہیں۔قوم
پر سے عذاب ٹل جانے کے بعد، جب حضرت یونس علیہ السلام حکمتِ الٰہی سے ہجرت کے سفر
پر روانہ ہوئے، تو سمندر میں آزمائش کا سامنا کرنا پڑا اور ایک عظیم مچھلی نے آپ
کو نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ کی اتھاہ اندھیریوں اور سمندر کی گہرائیوں میں جب آزمائش
کا یہ وقت طویل ہوا، تو آپ علیہ السلام نے کمالِ عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے
رب کریم کی بارگاہ میں رجوع فرمایا۔ آپ علیہ السلام کی رات دن کی اس مسلسل تسبیح
اور گریہ و زاری نے بالاخر رحمتِ الٰہی کو جوش میں لا دیا، کیونکہ اللہ پاک اپنے
مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ چنانچہ جب 40 دن پورے ہوگئے توآپ پرغم طاری
ہوگیا اور روتے ہوئے اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کی: ( لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ)ترجَمۂ
کنز العرفان: تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔
حضرت یونس کی دعا قبولیت کے مقام پر فائز ہوئی
اورآخر کار ان کی آزمائش ختم ہوگئی۔
پیارے
اسلامی بھائیو! حضرت یونس علیہ السّلام کی دعا وہ بابرکت دعا ہے جس کے بارے میں
خود رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں اللہ کریم
کے اس اسمِ اعظم کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعا کی جائے تو
وہ قبول ہوجائے اورجب سوال کیاجائے تو عطا ہوجائے، وہ حضرت یونس علیہ السّلام کی
دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو
انہوں نے اندھیروں میں تین بار کی تھی۔ یاد رہے کہ یہ دعا حضرت یونس علیہ السّلام
کے لئے خاص نہیں دیگر مسلمانوں کے لئے بھی ہے، جب وہ ان الفاظ کے ساتھ دعامانگیں
گے تو ان کی دعا بھی قبول ہو گی۔ اِن شآءَ اللہ
اللہ پاک
ہمیں ہر طرح کی آزمائش سے محفوظ فرمائے اور ہرحال میں اپنی رضا والے کام کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن
بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami