آج کے معاشرے کا اگرجائزہ لیا جائے تو واضح ہے کہ لوگوں نے کس جراءت کے ساتھ علماء اور دیندار طبقہ کی بے ادبی اور ان پر بے جا تنقید کرنے کو اپنا شیوہ بنایا ہے۔ فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جو شخص علماء کی توہین و بے ادبی کرتا ہے اس پر کفر اور سوئے خاتمہ کا اندیشہ ہے۔

علامہ ابن نجیم مصری فرماتے ہیں: الاستہزاء بالعلم والعلماء کفر علم اور علما کی توہین کفر ہے۔

دین اسلام ہمیں ہر ہر معاملے میں ادب کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم مقدس ہستیوں، متبرک مقامات اور با برکت چیزوں کا احترام کریں اور بے ادبی اور بے ادبوں کی صحبت سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ جیسا کہ منقول ہے: ما وصل من وصل إلّا بالحرمۃ وما سقط من سقط إلّا بترک الحرمۃ والتعظیم یعنی جس نے جو کچھ پایا ادب و احترام کے سبب سے پایا اور جس نے جو کھویا ادب و احترام نہ کرنے کی وجہ سے ہی کھویا۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص 42)

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

بےادب کیلئے حدیث میں وعید: حضور ﷺ فرماتے ہیں: جو ہمارے بڑوں کا ادب نہ کرے، ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت میں سے نہیں۔ (مسند امام احمد، 8/412، حدیث: 22819)

بے ادبی کا قہر: شیطان نے لاکھوں سال اللہ پاک کی عبادت کی، ایک قول کے مطابق چھ لاکھ سال عبادت کی اور صرف ایک بےادبی کی وجہ سے چھ لاکھ سال کی عبادت ضائع کر بیٹھا اور وہ بے ادبی حضرت آدم علیہ السلام کی تعظیم نہ کرنا تھی۔ (ادب کی اہمیت از مفتی امین صاحب، ص 26)

فاقے اور تنگی کا سبب: منقول ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی: حضور! میں فاقے کا شکار رہتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: کہ تو کسی بوڑھے (شخص) کے آگے چلا ہوگا۔ (آداب مرشد کامل، ص26، 27)

ولی کی بے ادبی: ولی خدا کے نیک بندوں میں شمار ہوتے ہیں، یہ بلند درجوں پر فائز ہیں، چنانچہ ان کی بے ادبی کرنے کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں، کہ اللہ تعالی نے فرمایا:جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، اسے میں نے لڑائی کا اعلان دے دیا۔ (بخاری،4/248، حدیث:6502)

بزرگان دین کی بے ادبی کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، جیسا کہ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ابن سقا ایک بزرگ کی زیارت کرنے کے لئے گیا، غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ نے تو ادب کی وجہ سے اعلی مقام حاصل کیا، مگر ابن سقا بے ادبی کی نحوست سے مرتد ہوگیا۔

اللہ پاک ہمیں بے ادبی اوربے ادبوں سے بچائے۔ آمین

محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو