بزرگوں کی بے ادبی ایک ایسا سماجی اور اخلاقی جرم ہے جو معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے بزرگوں کی توہین یا دل آزاری کرنا نہ صرف معاشرے میں برائی پھیلاتی ہے بلکہ روحانی برکتوں کے خاتمے کا سبب بھی بنتی ہے۔

سماجی نقصان: بزرگ گھر یا معاشرے کا سایہ ہوتے ہیں ان کی بے ادبی خاندانی نظام کو تباہ کر دیتی ہے جس کی وجہ سے نئی نسل اخلاقی اقدار سے محروم ہو جاتی ہے۔

اخلاقی نقصان: مسلمان کی عزت و توقیر کو اللہ کی تعظیم قرار دیا گیا ہے جو بزرگوں کا احترام نہیں کرتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔

روحانی اور دنیاوی انجام: بزرگوں کی بے ادبی اور بد دعاؤں سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے بے ادبی ایسی نحوست ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں نقصان پہنچاتی ہے۔

بے ادبی اعمال کی بربادی کا سبب: قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ اسے زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)

حدیث مبارکہ میں مذمت:

حضور ﷺ کا فرمان: جو ہمارے بزرگوں کا ادب نہ کرے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت میں سے نہیں۔

ایک مشہور مقولہ: باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب یعنی انسان جو پاتا ہے ادب کی وجہ سے پاتا ہے اور جو کھوتا ہے اس کا سبب بے ادبی ہے بے ادبی کی نحوست اس قدر ہے کہ ایمان کو کاملیت تک نہیں پہنچنے دیتی۔

اعلیٰ حضرت کا فرمان: جو با ادب نہیں اس کا کوئی دین نہیں کیونکہ بعض اوقات بے ادبی کفر تک لے جاتی ہے اور ہمیشہ کیلئے جہنم کا ٹھکانہ بنا دیتی ہے۔

جیسے: شیطان نے اتنے سالوں تک اللہ کی عبادت کی اور علوم و فنون کا ماہر تھا یہاں تک کہ فرشتوں میں وعظ کرتا تھا لیکن ایک نافرمانی کی وجہ سے اس کا ٹھکانہ ہمیشہ کیلئے جہنم کر دیا اور وہ نافرمانی حضرت آدم علیہ السلام کی بے ادبی تھی۔

انسان اور جانور میں فرق: انسان اور جانور میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ ادب ہے یہ وہ تحفہ ہے جو اللہ نے انسان کو بطور خاص عطا فرمایا۔

خصوصیات: 1: ادب ہی انسان کو حیوانوں سے جدا رکھتا ہے 2: ادب ہی انسان کی معراج اور ارتقاء کا ذریعہ ہے 3: ادب ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان عزت و عظمت کی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے۔

نقصان:

1: اور بے ادبی وہ کھائی ہے جس میں گر کر انسان ذلت ورسوائی کی گہرائی میں چلا جاتا ہے یہی وجہ ہے اسلام میں ادب کی بہت اہمیت ہے۔

ان تمام معلومات سے معلوم ہوا کہ علما ہی دین اسلام لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ بد قسمتی سے آج کل ان کی عزت لوگوں کے دلوں سے ختم ہوتی جارہی ہے لیکن یاد رہے کہ علما ہی انبیا کے وارث ہیں ادب کرنے کی وجہ سے ہی ولایت کا درجہ بھی مل جاتا ہے۔

اس لیے ہمیں بھی ادب کے دائرے میں رہنا چاہیے کہ اسی میں بھلائی ہے اور جو بے ادب ہوتا ہے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ماں باپ، اساتذہ، اور بزرگوں کی عزت کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاق و آداب سیکھنے اور سکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔