عربی زبان میں ادب کے لغوی معنی شائستگی، اخلاق، سلیقہ اور عمدہ طریقہ کے ہیں۔ ادب ہی نسان کو حیوانوں سے جدا کرتا ہے۔ادب ہی انسان کی معراج اور ارتقا کا ذریعہ ہے۔ادب ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان عزت و عظمت کی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے اور بے ادبی وہ کھائی ہے جس میں گر کر انسان ذلت و رسوائی کی گہرائی میں چلا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ادب کی بڑی اہمیت ہے، بلکہ دین سارے کا سارا ادب ہے۔

بےادبی ادب کا متضاد ہے۔ بزرگوں کی بے ادبی سے مراد قابل احترام بزرگ کو انکے مرتبے کے مطابق عزت نہ دینا۔جہاں ادب کے بےشمار فوائد و برکات ہیں وہیں بےادبی کے کئی روحانی، دنیاوی اور اخروی نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے مشہور مقولہ ہے: باادب بانصیب، بے ادب بےنصیب یعنی ادب کی وجہ سے بعض اوقات انسان وہ مقام و مرتبہ حاصل کر لیتا ہے جو کئی سالوں کی محنت سے بھی نہیں حاصل کر پاتا۔

ہمارا اسلام بزرگ ہستیوں کا ادب و احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔ اس سے مراد وہ بزرگ بھی ہیں جو عمر اور تجربے کے لحاظ سے بزرگ ہیں اور وہ افراد بھی جو تقویٰ اور روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں۔ بے ادبی علم، برکت اور اللہ کی رحمت سے دوری کا سب سے بڑا سبب ہے۔ باادب انسان علم اور فیض حاصل کرتا ہے، جبکہ بے ادب صراط مستقیم اور فضل ربانی سے محروم رہ جاتا ہے۔

قرآن و حدیث سے بھی بزرگوں کا ادب کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔

بے ادبی اعمال کی بربادی کا سبب:اللہ تبارک وتعالیٰ اور مقدس ہستیوں (انبیاء، صحابہ کرام، اور اولیائے عظام) کی بارگاہ میں معمولی سی بھی گستاخی انسان کے سالوں کی نیکیوں اور اعمال صالحہ کو برباد کر دیتی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ اسے (اس کی بے ادبی کی وجہ سے) زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)

کسی شخص نے بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلاہوگا۔(روح البیان، 5/56)

محفوظ خدا رکھنا سدا بے ادبوں سے اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو

ادب پہلا قرینہ محبت کے قرینوں میں: حدیث پاک میں ہے کہ اصحاب کہف اللہ والوں سے محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کتے کو انسانی شکل میں جنت میں داخل فرمائے گا اب دیکھیں اللہ والوں سے محبت کرے، اگر نجس جانور وہ تو جنت میں داخل ہوجائے اور بلعم بن باعورا جس نے نبی کی بے ادبی کی حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی شان میں گستاخی کی، انسان ہونے کے باوجود فرمایا کہ بے ادبی کی وجہ سے یہ جہنم میں کتے کی شکل میں جائے گا۔ (الملفوظ (کامل)، حصہ سوم، ص 457)

بے ادبی کا وبال: شیطان نے لاکھوں سال اللہ پاک کی عبادت کی ایک قول کے مطابق چھ لاکھ سال عبادت کی اور وہ صرف ایک بے ادبی کی وجہ سے چھ لاکھ سال کی عبادت ضائع کر بیٹھا اور وہ بے ادبی حضرت آدم علیہ السّلام کی تعظیم نہ کرنا تھا۔ (ادب کی اہمیت از مفتی امین صاحب، ص 26)

تاریخ شاہد ہے کہ گزشتہ زمانوں میں جن قوموں کو ہلاکت خیز عذاب سے دو چار کیا گیا اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹا کر عبرت کا نشانہ بنایا گیا، اس کی وجہ صرف اللہ کی نافرمانی ہی نہ تھی بلکہ انبیا و رسل اور اولیا واتقیا کی بے حرمتی اور بے ادبی بھی تھی۔

حضرت ذالنون مصری فرماتے ہیں: جب مرید ادب کی حد یں توڑدے تو وہ لوٹ کروہیں پہنچ جا تا ہے جہاں سے چلا تھا۔ (الطرر و الحواشی علی الحکم العطائیہ، ص 96)

بزرگان دین کی بے ادبی کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا جیسا کہ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ابن سقا ایک بزرگ کی زیارت کرنے کے لئے گیا، غوث پاک نے تو ادب کی وجہ سے اعلیٰ مقام حاصل کیا مگر ابن سقا بےادبی کی نحوست سے مرتد ہوگیا۔ (بہجۃ الاسرار، ص 19)

خلاصہ یہ ہے کہ ادب میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔اللہ پاک ہمیں ہمیشہ بےادبیوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین