بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت عبدالستار،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
اسلام میں
بزرگوں، والدین، اساتذہ اور عمر رسیدہ افراد کا احترام بہت اہم ہے۔ ان کی بےادبی
اور گستاخی سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
بزرگوں
کے ساتھ بے ادبی کسے کہتے ہیں؟ بزرگوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا
جس سے ان کی عزت، وقار یا دل آزاری ہو، بے ادبی کہلاتا ہے۔
بزرگوں
کے ساتھ بے ادبی کی چند مثالیں: ان سے اونچی آواز میں بات کرنا۔ ان کی
بات کاٹنا یا جواب میں سخت الفاظ استعمال کرنا۔ ان کا مذاق اڑانا یا تحقیر کرنا۔
والدین، اساتذہ یا دیگر بزرگوں کی نافرمانی کرنا۔ ان کے سامنے بدتمیزی سے بیٹھنا
یا کھڑا ہونا۔ ان کی نصیحتوں کو حقارت سے رد کرنا۔ گالی دینا، جھڑکنا یا انہیں
تکلیف پہنچانا۔
فقہی
حکم: بزرگوں
کی توہین،تحقیر،بدتمیزی سخت لہجے میں گفتگو یا ان کی دل آزاری کرنا شرعاً گناہ ہے،
خصوصاً اگر وہ والدین یا اساتذہ ہوں تو گناہ کی شدت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
بزرگوں کے
ساتھ بے ادبی کرنا اسلام میں ممنوع اور گناہ ہے، جبکہ ان کا ادب و احترام کرنا
باعث اجر برکت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے
بزرگوں سے ہمیشہ عزت نرمی اور حسن اخلاق کے ساتھ پیش آئے۔
والدین
سے ادب سے بات کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ
اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا
یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ
لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ
15، بنی اسرائیل:23) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا
کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے
کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نا کہنا اور انہیں نہ
جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم بات کہنا۔
بزرگوں
کے احترام کا حکم: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ
کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/369، حدیث:
1926)
سفید
بال والے مسلمان کی عزت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی
تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ سفید بال والے مسلمان کی عزت کی جائے۔ (ابو داود، 4/344،
حدیث: 4843)
والدین
کی نافرمانی کبیره گناه: حضور ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے
بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی
نافرمانی کرنا۔ (بخاری، 4/95، حدیث:5976)
حضرت
عبداللہ بن عمر کا بزرگ کا احترام: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
ایک دیہاتی شخص سے ملے جو ان کے والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دوستوں میں
سے تھا۔ آپ نے اسے اپنا عمامہ عطا فرمایا اور اپنی سواری پر بٹھایا۔ لوگوں نے عرض
کی کہ یہ ایک عام دیہاتی ہے، مگر آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے
سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک
کرے۔ (مسلم، ص 1060، حدیث: 6513)
حضرت
ابو ہریرہ کا اپنی والدہ کے ساتھ ادب: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب
اپنی والدہ کے گھر سے نکلتے تو دروازے پر کھڑے ہو کر عرض کرتے: السلام
علیک یا امتاہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اور والدہ جواب دیتیں۔ پھر آپ فرماتے:
اللہ آپ پر رحم فرمائے جس طرح آپ نے بچپن میں میری پرورش فرمائی۔ (الادب المفرد، ص
14، حديث: 14)
حضرت
ابن عباس کا اپنے استاد کے ادب کا واقعہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ
عنہما کسی صحابی سے حدیث سیکھنے کے لیے ان کے گھر تشریف لے جاتے۔ اگر وہ آرام فرما
رہے ہوتے تو آپ دروازے پر انتظار کرتے اور انہیں جگاتے نہ تھے، بلکہ فرماتے: طالب
علم کو چاہیے کہ وہ عالم کے پاس آئے۔ (سیر اعلام النبلاء، 3/331)
رسول
اللہ ﷺ کا بزرگوں کے احترام کی تعلیم دينا: حضرت انس رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے
اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)
یہ حدیث
بزرگوں کے احترام کی عظیم تعلیم دیتی ہے۔ بزرگوں کا احترام اسلامی تعلیمات کا
بنیادی حصہ ہے۔ والدین، اساتذہ اور بزرگوں کی عزت باعث برکت ہے۔ علم حاصل کرنے کے
لیے ادب ضروری ہے۔ بزرگوں کی خدمت اور تعظیم اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ جو
بزرگوں کا احترام کرتا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتا ہے۔
دعا ہے کہ
اللہ پاک ہمیں بزرگوں کا ادب و احترام کرنے اور آقا کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی سیرت
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami