قرآن مجید
انبیاء کرام علیہم السلام کے قصے بیان کرتا ہے، مگر یہ محض قصے نہیں، دلوں کو
جگانے والے آئینے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی
ہے۔ اس میں آزمائش ہے، توبہ ہے، رحمت ہے، اور بندے کے اپنے رب سے تعلق کی حقیقت
ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کا ذکر مختلف مقامات پر فرمایا:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ
ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ
الصافات، آیات 139-142)
ام ابن کثیر
رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہو کر بغیر
اللہ کے حکم کے نکل گئے، اسی لیے انہیں آزمائش میں ڈالا گیا۔(تفسیر ابن کثیر، 7/
35)
قرآن نے
ان کے دل کی کیفیت کو بھی بیان کیا۔ سورۃ الانبیاء میں ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 87)
ام قرطبی
رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ "ظلمات" سے مراد رات، سمندر اور مچھلی کے پیٹ کی
تاریکی ہے۔(الجامع لأحکام القرآن، 11/ 322)
یہ دعا ہی
تھی جس نے بندگی کی گہرائی کھول دی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دَعْوَةُ ذِی النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ لَا إِلَهَ
إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَإِنَّهُ لَمْ
یَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِی شَیْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُترجمہ:
"مچھلی والے کی دعا، جب انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں پکارا، یہ ہے کہ تیرے سوا
کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔ جو مسلمان بھی کسی
معاملے میں یہ دعا کرے، اللہ اسے قبول فرماتا ہے"۔ (سنن الترمذی، کتاب
الدعوات، حدیث نمبر: 3505)
حضرت یونس
علیہ السلام کا قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ بندہ اگرچہ نبی ہو، اگر وہ جلد بازی کرے اور
حکمِ الٰہی کا انتظار نہ کرے، تو اسے بھی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ مگر اللہ کی
رحمت یہ ہے کہ وہ توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں کرتا۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے
رب کو پکارا، تو اللہ نے انہیں نجات دی۔ فرمایا:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 88)
ام السعدی
رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کہ یہ وعدہ ہر اس مومن کے لیے ہے جو سچے دل سے اللہ کی
طرف رجوع کرے۔ (تفسیر السعدی، ص 529)
قرآن نے یہ
بھی بتایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے جب عذاب دیکھا تو سچے دل سے توبہ کی،
اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔ سورۃ یونس میں ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس، آیت 98)
ام ابن جریر
الطبری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کہ یہ امتِ محمدیہ کے لیے ایک بشارت ہے کہ سچی
توبہ عذاب کو ٹال دیتی ہے۔(جامع البیان، 11/ 191)
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آزمائش بندے کو توڑنے کے لیے نہیں آتی،
بلکہ اسے اپنے رب کے قریب کرنے کے لیے آتی ہے۔ اندھیریوں میں بھی ایک آواز سنی جاتی
ہے، وہ آواز ہے " لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ"۔ جب بندہ اس صدا کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹتا ہے، تو سمندر بھی
راستہ دے دیتا ہے، مچھلی کا پیٹ بھی قید خانہ نہیں رہتا، اور دل کو وہ سکون ملتا
ہے جو دنیا کی کوئی نعمت نہیں دے سکتی۔
علی
حسین عطاری (درجہ عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ رائیونڈ،لاہور،پاکستان)
قرآن کریم اللہ عزوجل کی اپنے
محبوب کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو عطا کردہ وہ لازوال کتاب ہے
جو مکمل اور جامع انداز میں نوع انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں ہر طرح ہر لحاظ ہر
حالات اور اعلام و آزمائش میں ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔جس میں ہر خشک و تر کا بیان
انسانیت کی راہنمائی کیلئے فرمایا گیا اور پچھلی امتوں کے کئی واقعات وحادثات و
حالات اسی ضمن میں بیان فرمائے گئے قصہ یونس علیہ السلام بھی انہیں میں سے ایک ہے
آئیں قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں قصہ یونس علیہ السلام اور اس سے ملنے والے
اسباق اور اہم نکات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
قرآن کریم
میں مختلف مقامات پر کم و بیش 6یا اس سے زائد مرتبہ حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر
فرمایا گیا ہے ۔جبکہ آپ کی قوم کا حال اور آپ علیہ السلام کی آزمائش اور پھر
دوبارہ قوم کی طرف جانے کا ذکر سورۃ الصٰفت میں کیا گیا ہے۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ
الصفت:139،140)
تفسیر
صراط الجنان:وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن،
والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴
/ ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے
کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ
انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو
جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ
گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی
مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)
مچھلی کا نگلنا :فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ
الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ
الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصفت:141،142)
تفسیر
صراط الجنان:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔جب
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا
ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے
مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے
لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو
ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت
الآیۃ: ۱۴۲، ۷
/ ۴۸۷، ملخصاً)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں
مختلف اَقوال ہیں ۔ اُسی دن یا3دن یا7دن یا20دن یا40دن کے بعد آپ مچھلی کے پیٹ سے
نکالے گئے ۔( جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ص۳۷۸)
آزمائش سے رہائی کا سبب :فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ
كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ
بیمار تھا۔(سورۃ الصفت:143،تا 145)
تفسیر
صراط الجنان:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ: تو اگر وہ تسبیح کرنے
والا نہ ہوتا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں
’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت
کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۳-۱۴۴، ۴
/ ۲۷)
دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی
کے پیٹ میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو
مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔(
ابن عساکر، حرف السین فی آبائہم، عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔ الخ، ۴۵ / ۳۸)
مچھلی کے پیٹ سے رہائی :فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا۔جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دعا مانگی تواللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں
ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ ایسے کمزور، دبلے پتلے اور نازک
ہوگئے تھے جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے،آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی اوربدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔( روح البیان،
الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۷
/ ۴۸۸)
کدو کا درخت ایک معجزہ :وَ
اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ: اور ہم نے اس پرکدو کا
پیڑ اگادیا۔ جس جگہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مچھلی کے پیٹ سے
باہرتشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں
مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے
روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
دہنِ مبارک میں دے کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صبح و شام دودھ پلا
جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال
اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۶، ۴
/ ۲۷)
یاد رہے کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی
ہے مگر یہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد
والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے بڑے پتوں کے سائے میں آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آرام کرتے تھے۔
موصل کی طرف واپسی :وَ اَنْۢبَتْنَا
عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ
اگایا۔ اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف
بھیجا بلکہ زیادہ۔ (سورۃالصفت:146،147)
تفسیر
صراط الجنان :آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو پہلے کی طرح موصل کی سرزمین میں قومِ نِینَویٰ کے ایک لاکھ بلکہ اس
سے کچھ زیادہ آدمیوں کی طرف انتہائی عزت واحترام کے ساتھ بھیجا،انہوں نے عذاب کے
آثار دیکھ کر توبہ کر لی تھی ، پھر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
دوبارہ تشریف لانے پر باقاعدہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیعت کی اور
اللہ تعالیٰ نے آخری عمر تک انہیں آسائش کے ساتھ رکھا ۔
قصہ یونس علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اہم نکات :
(1) دنیا
میں پہنچنے والی مصیبت و آزمائش کے سبب اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا مؤمن کی
شان نہیں ۔
(2) گناہ
جتنے بھی زیادہ ہوں اللہ عزوجل کی رحمت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے ۔
(3) گناہ ہو
جانے کے بعد اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حمد و ثنا اور تسبیح کے بعد توبہ واستغفار
کرنا بخشش کا ذریعہ ہے ۔
(4) اللہ
عزوجل کے ہر فیصلے میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے جو عموماً سمجھ سے بالاتر ہے ۔ جیسے یوسف
علیہ السلام کی آزمائش انکی قوم کی نجات کا سبب بنی۔ واللہ اعلم باالصواب
الله پاک
نے بنی آدم کی ہدایت و رہنمائی کیلئے مختلف زمانوں میں کئی انبیائے کرام علیہم
السلام مبعوث فرمائے جن کے بھیجنے کا مقصد مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی
توحید ومعرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور عبادت کے طریقوں کی تعلیم ہے،
انہیں میں الله پاک کے ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام ہیں جن کا ذکر الله پاک نے
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر فرمایا ہے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو
مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت
کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن اس کے باوجود اس ظالم و سرکش قوم نے آپ کو جھٹلایا
اور اپنے شرک سے باز نہ آئے جس کے نتیجے میں آپ علیہ السلام نے انہیں الله تعالیٰ
کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، حضرت یونس علیہ السلام کے اس واقعہ میں ہمارے
لئے صبر، الله پاک پر کامل توکل، توبہ، تسبیح و ذکرِ الٰہی اور دعا کا درس ملتا ہے۔(صراط
الجنان)
حضرت یونس علیہ السلام کی بعثت:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ
الصفت:139،140)
یہاں سے
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔کہ جب آپ
نے اپنی قوم کو عذاب آنے کی خبر دی تو عذاب آنے میں تاخیر ہوئی چونکہ آپ نے عذاب
آنے کا تو فرمایا تھا لیکن معین وقت بیان نہیں فرمایا تھا، اور آپ علیہ السلام کی
قوم اس شخص کو قتل کردیا کرتی تھی جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے اور آپ علیہ
السلام یقیناً سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی
انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب
آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا
واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے۔(صراط الجنان)
حضرت یونس علیہ السلام اور قرعہ
اندازی:
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔(سورۃ الصفت: 141)
اس آیت میں
بیان کیا گیا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب
کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔(صراط
الجنان)
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ
میں :
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا
اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (سورۃ الصفت:142)
آیت کریمہ
میں آپ علیہ السلام کو سمندر میں ڈالے جانے کے بعد کا واقعہ بیان کیا گیا کہ جب
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے
جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔(صراط الجنان)
الله پاک کی تسبیح بیان کرنے کی
برکت :
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔(سورۃا لصفت:143،144)
اس آیت
کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی
کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے
تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔(صراط الجنان)
الله پاک کی رحمت اور مچھلی کے پیٹ
سے نجات:
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (سورۃ الصفت:146)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مچھلی کے پیٹ سے باہرتشریف لائے وہاں کوئی سایہ
نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے
کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دہنِ مبارک میں دے کر آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد
شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔(صراط
الجنان)
یاد رہے
کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے مگر یہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے
بڑے بڑے پتوں کے سائے میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آرام کرتے تھے۔حضرت یونس
علیہ السلام کے اس واقعہ سے ہمیں کئی اہم باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں، ہمیں ہر حال میں
صبر اور الله پاک پر بھروسہ کرنا چاہیے، کس صورت بھی الله پاک کی رحمت سے مایوس نہ
ہوں، کیسی ہی مشکل کیوں نہ ہو اللہ پاک کو پکارا جائے اسکی تسبیح و تحمید کی جائے
اگر الله نے چاہا تو ضرور اس سے نجات مل جائے گی، ہر پریشانی میں اللہ پاک کی طرف
رجوع و دعا کرنا چاہیے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے۔
اللہ پاک
ہمیں اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے پیارے حبیب کریم ﷺ کی
سچی محبت نصیب فرمائے. آمین۔
محمد
اسماعیل عطاری (درجہ رابعہ مرکزی جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ، کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں آپ علیہ السلام کی
زندگی صبر، توبہ، اللہ پر کامل بھروسا اور انسانوں کو حق کی دعوت دینے کی روشن
مثال پیش کرتی ہے۔ قرآنِ پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کے ذریعے یہ سبق
دیا گیا ہے کہ انسان مشکلات اور آزمائشوں میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔
حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ نہ صرف ایمان کو مضبوط کرتا ہے بلکہ انسان کو صبر،
دعا اور رجوع الی اللہ کی اہمیت بھی سکھاتا ہے۔
آپ عَلَیْہِ
السَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ
السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو
النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے
علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے چالیس سال ان
لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن
انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد
عذاب آجانے کی خبردی ۔
حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم کو
عذاب آنے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنی
قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی
اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ خیال
کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گا اور نہ ہی اس فعل پر مجھ سے کوئی
باز پُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور
غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹا
ہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایا کہ اگر تم نے میری بات نہ
مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا
نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل
کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ
آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت
نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا
کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلیہ السَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب
کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ
عَلَیْہِ السَّلَام ہی کا نام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی
میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا
میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے
کشتی میں سوار ہوئے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ تھا اور مچھلی
کے پیٹ میں قید کرکے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا
کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔
جب حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور
اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر
ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے
حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔
دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ
مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا
قبول کی جائے گی۔( ابن عساکر، حرف السین فی آبائہم، عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔
الخ، ۴۵ / ۳۸) مفسرین فرماتے ہیں : ’’تم آسانی کے
وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو تو وہ تمہیں تمہاری سختی اور مصیبت کے وقت یاد کرے گا
کیونکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور
اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے تھے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گئے تو اللہ تعالیٰ نے
ان کے بارے میں فرمایا:
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔(سورۃ الصفت:143،144)
جب حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا مانگی
تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا اور مچھلی کے
پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ ایسے کمزور، دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے جیسے بچہ پیدائش
کے وقت ہوتا ہے،آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی
اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔
جس جگہ
حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ
تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے
کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن
حضرت یونس عَلَیْہ السَّلَام کے دہنِ مبارک میں دے کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو
صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسم کی جلد یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے
مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔
یاد
رہے کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے مگر یہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا
معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے
پتوں کے سائے میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام آرام کرتے تھے ۔
قرآنِ مجید
میں بیان کردہ یہ واقعہ انسان کو سکھاتا ہے کہ مشکلات اور مصیبتوں میں بھی اللہ
تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بندہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف
رجوع کرے تو وہ ضرور اس کی مدد فرماتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی ہر
مسلمان کے لیے ہدایت، نصیحت اور ایمان کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔”
(تفسیر
صراط الجنان،سورة الصافات،آيت نمبر 139 تا 186)
محمد
حیدر علی عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ بغداد ، کراچی،پاکستان)
اللہ تعالی
نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف بخشا۔ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اللہ کی
عبادت ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا
لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔(الذاریات:
56)
عبادت تب
ہی ممکن ہے جب بندے کو اپنے معبود کی پہچان ہو۔ اسی معرفت کے لیے اللہ تعالیٰ نے
اپنے برگزیدہ بندوں کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔
انہیں انبیاء
کرام علیہم السلام میں سے ایک حضرت سیّدنا یونس علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے
نبوت و رسالت عطا فرمائی۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ جن میں
سے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔(الصافات: 139)
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:آپ علیہ
السلام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں
سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام کا لقب ذو النّون اور صاحبُ الحوت ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی
کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ (روح البیان،
الصافات: 139)
قوم کو دعوتِ توحید:حضرت یونس
علیہ السلام نے 40 سال تک اپنی قوم کو بت پرستی چھوڑ کر اللہ کی وحدانیت کا اقرار
کرنے کی دعوت دی۔ مگر قوم نے جھٹلایا اور کفر و شرک پر اڑی رہی۔ (روح البیان،
الصافات: 139)
عذاب کا نزول:قوم کی اس سرکشی پر اللہ
نے ان پر عذاب نازل کردیا۔
خوش نصیب قوم: امام زجاج علیہ الرحمۃ
فرماتے ہیں: عذاب ابھی نازل نہیں ہوا تھا، صرف اس کی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔ قوم
نے سچے دل سے توبہ کر لی اس لیے عذاب ٹل گیا۔ (تفسیر القرطبی، یونس: 98)
اصول: مفتی
قاسم سلمّہ الباری فرماتے ہیں: عذاب نازل ہونے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی، البتہ
علامات ظاہر ہونے پر کی گئی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ (صراط الجنان، یونس: 98)
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (الصافات: 144,143)
مچھلی کے پیٹ میں تسبیح و تحمید:آپ علیہ
السلام مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا پڑھتے رہے:
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ آپ کی
پہلے کی عبادت اور اس دعا کی برکت سے اللہ نے آپ کو نجات عطا فرمائی۔(تفسیر الصاوی،
الصافات: 144،143)
فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان
میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ اور ہم نے
اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (الصافات:
145-146)
چٹیل میدان اور کدو کی بیل:مچھلی نے
آپ کو ایک چٹیل میدان میں باہر نکال دیا۔ مچھلی کے پیٹ میں رہنے سے آپ کمزور ہو
چکے تھے۔ اللہ نے آپ پر کدو کی بیل اُگائی جس نے ٹھنڈا سایہ دیا اور مکھیاں بھی اس
پر نہیں بیٹھتیں۔ (تفسیر الصاوی، الصافات: 145-146)
مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت:مچھلی کے
پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: ایک دن، 3 دن، 7 دن، 20 دن یا 40
دن۔ (تفسیر الجلالین، الصافات: 145)
وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے
انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔(الصافات:
147-148)
دوبارہ دعوت اور قوم کا ایمان:صحت یاب
ہونے کے بعد آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور دعوت دی۔ اس بار پوری قوم ایمان
لے آئی، اور اللہ نے انہیں ایک مقررہ وقت تک دنیا کے فائدے عطا فرمائے۔(تفسیر
الصاوی، الصافات: 147-148)
درس و نصیحت: اس واقعہ سے ہمیں یہ نصیحتیں
ملتی ہیں کہ:
(1)
گناہوں سے بچیں، بالخصوص کفر و شرک سے۔
(2)اگر
خدانخواستہ کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں۔
(3) اللہ
پر کامل بھروسہ رکھیں۔
(4) ہر
حال میں اُس کی تسبیح و تحمید بیان کریں۔
(5) ایک
بات ذہن نشین کرلیں کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہیں لہذا اُن سے گناہ
سرزد ہونا محال ہے۔
ضیاء
المصطفیٰ قادری(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ
فیضانِ عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
کے پیارے نبی حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق چند قرآنی آیات کریمہ درج ذیل ہیں:
(1) وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ
نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ
انبیاء، آیت 87)
(2) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ
نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ ( سورۃ انبیاء، آیت 88)
(3) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ
الصافات:139،140)
(4) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ
بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ
الصافات، آیت 143-144)
(5) فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔ (سورۃ القلم، آیت 48)
(1) دعائے یونس علیہ السلام کی فضیلت:عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ:لَا إِلٰهَ إِلَّا
أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ،فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا
رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ۔ترجمہ:نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کی دعا جب انہوں نے مچھلی کے پیٹ
میں کی:تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بیشک مجھ سے قصور ہواکوئی مسلمان کسی
بھی حاجت میں یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔( جامع ترمذی،
حدیث: 3505 ،حسن صحیح)
(2) حضرت یونس علیہ السلام کی تواضع
و شان: لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ
يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّىترجمہ:کسی بندے کے لیے
جائز نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں۔( صحیح بخاری، حدیث: 3413
صحیح مسلم، حدیث: 2377)
(3) نبی کریم ﷺ کا حضرت یونس علیہ
السلام سے نسبت فرمانا: مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ
يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّىترجمہ:کسی شخص کو یہ نہیں
کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متیٰ سے افضل ہوں۔( صحیح بخاری، حدیث: 4604)
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک عظیم نبی ہیں۔ آپ کا
نام قرآنِ پاک میں کئی مرتبہ آیا ہے۔ آپ کو ذوالنون یعنی (مچھلی والے) بھی کہا
جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھا تھا۔ آپ نینویٰ
کی قوم کی طرف بھیجے گئے تھے تاکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلائیں اور
شرک و گناہوں سے روکیں۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔
(سورۃ الانبیاء :87)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ (سورۃ الصفت:139،140)
آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب
اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و
نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی
ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا
کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی
بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک
ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت
ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ
مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا
نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل
کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے
حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن
وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم
جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن،
والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴
/ ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹،
حضرت
سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم ﷺ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا
’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر نہ دوں کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی
مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا
س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ ﷺ سےعرض
کی گئی :کیوں نہیں !ارشاد فرمایا ’’(وہ چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘
ہے۔(مستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ ،من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب
اللہ لہ،۲ / ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام کے واقعے سے ہمیں بہت سے اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں:
اللہ تعالیٰ
کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
چاہے حالات
کتنے ہی مشکل ہوں، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد فرماتا ہے۔
مصیبت میں
اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام نے مچھلی کے پیٹ میں بھی اللہ تعالیٰ کو پکارا تو اللہ تعالیٰ
نے انہیں نجات عطا فرمائی۔
جلد بازی
نہیں کرنی چاہیے۔
ہر کام
اللہ تعالیٰ کے حکم اور صبر کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
توبہ
انسان کو کامیابی دیتی ہے۔
اگر انسان
اپنی غلطی مان کر سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔
صبر اور
توکل مومن کی بڑی طاقت ہیں۔
مشکل وقت
میں صبر کرنے والا آخرکار کامیاب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ
ہر حال میں اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔
مچھلی کے
پیٹ میں بھی حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام محفوظ رہے۔
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا بہت عظیم دعا ہے۔
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
یہ دعا پریشانی
اور غم کے وقت پڑہنا بہترین عمل ہے۔
جواد
احمد (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ
عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ (سورۃ الصفت:139،140)
اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ
ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون
اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں
دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان
لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن
انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ
آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین
دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷
/ ۴۸۶)
علامہ
احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب
عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا
کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا
دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید
کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے
لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات،
تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵
/ ۱۷۵۲، ملخصاً)
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ یونس:98)
فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
محمد
لقمان(درجہ دار الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی،کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کےعظیم پیغمبر تھے جنہیں ایک قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث
فرمایا گیا۔ آپ نے اپنی قوم کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور برائیوں سے بچنے کی
دعوت دی ، مگر انہوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور انہوں نے آپ کی نبوت کا انکار کیا
۔حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ پاک میں صبر، توبہ، دعا اور اللہ تعالیٰ کی
بے پناہ رحمت کی بہترین مثال کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی سچی توبہ کو پسند فرماتا ہے اور مشکل وقت میں ان کی مدد
فرماتا ہے ۔
(1)دعوتِ قوم اور انکار:حضرت یونس
علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا، لیکن انہوں نے انکار کیا۔
تاہم جب عذاب کی نشانی ظاہر ہوئی تو وہ ایمان لے آئے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس:
98)
(2) قوم کو چھوڑ کر جانا اور آزمائش:حضرت یونس
علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہو کر بغیر اللہ کے حکم کے نکل گئے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا
کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو
بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)
(3) مچھلی کے پیٹ میں جانا:جب کشتی میں
قرعہ اندازی ہوئی تو انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا:
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (سورۃ الصفت:141،142)
(4)توبہ اور دعا:مچھلی کے
پیٹ کے اندھیروں میں حضرت یونس نے اللہ سے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی:
" لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ"
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)
یہ دعا
قرآن میں توبہ اور رجوع الی اللہ کی عظیم مثال ہے۔
(5) نجات اور اللہ کی رحمت:اللہ تعالیٰ
نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں نجات دی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء:88)
حضرت یونس
علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں
صبر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ قائم رکھیں، اپنی غلطیوں پر فوراً توبہ کریں اور
اخلاص کے ساتھ دعا مانگیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی فریاد سنتا ہے اور انہیں
مشکلات، پریشانیوں اور غموں سے نجات عطا فرماتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان، عاجزی اور
رجوع الی اللہ کی خوبصورت مثال ہے۔
محمد
فیضان عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
قرآن کریم
میں اللہ پاک نے سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے مقدس احوال بیان فرما کر امتِ محمدیہ
کے لیے عبرت اور نصیحت کے خزانے جمع فرمائے ہیں۔ انھی پاکیزہ ہستیوں میں سے ایک جلیل
القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام ہیں، جن کا ذکرِ خیر قرآنِ پاک کی مختلف سورتوں میں
نہایت منفرد انداز میں ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے نام پر
پوری ایک سورت "سورۃ یونس" نازل فرمائی، جو آپ کی عظمتِ شان کی واضح دلیل
ہے قرآنِ مجید میں آپ علیہ السلام کو "ذو النون" اور "صاحب
الحوت" یعنی مچھلی والا بھی کہا گیا ہے، کیونکہ آپ کو آزمائش کے طور پر کچھ
عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا تھا۔
سب سے پہلی
بات یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم تاریخ کی وہ واحد قوم ہے جو عذاب کی
نشانیاں دیکھنے کے بعد ایمان لائی اور اللہ پاک نے ان کی سچی توبہ قبول فرما کر
عذاب کو ٹال دیا۔ قرآنِ پاک اس بے مثال واقعے کو یوں بیان فرماتا ہے: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( سورۃ یونس، آیت: 98)
یہ آیتِ مبارکہ رب کریم کی رحمتِ واسعہ پر دلالت
کرتی ہے کہ جب بندے سچے دل سے رجوع کریں تو وہ عذابِ الٰہی سے امان پا جاتے ہیں۔قوم
پر سے عذاب ٹل جانے کے بعد، جب حضرت یونس علیہ السلام حکمتِ الٰہی سے ہجرت کے سفر
پر روانہ ہوئے، تو سمندر میں آزمائش کا سامنا کرنا پڑا اور ایک عظیم مچھلی نے آپ
کو نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ کی اتھاہ اندھیریوں اور سمندر کی گہرائیوں میں جب آزمائش
کا یہ وقت طویل ہوا، تو آپ علیہ السلام نے کمالِ عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے
رب کریم کی بارگاہ میں رجوع فرمایا۔ آپ علیہ السلام کی رات دن کی اس مسلسل تسبیح
اور گریہ و زاری نے بالاخر رحمتِ الٰہی کو جوش میں لا دیا، کیونکہ اللہ پاک اپنے
مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ چنانچہ جب 40 دن پورے ہوگئے توآپ پرغم طاری
ہوگیا اور روتے ہوئے اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کی: ( لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ)ترجَمۂ
کنز العرفان: تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔
حضرت یونس کی دعا قبولیت کے مقام پر فائز ہوئی
اورآخر کار ان کی آزمائش ختم ہوگئی۔
پیارے
اسلامی بھائیو! حضرت یونس علیہ السّلام کی دعا وہ بابرکت دعا ہے جس کے بارے میں
خود رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں اللہ کریم
کے اس اسمِ اعظم کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعا کی جائے تو
وہ قبول ہوجائے اورجب سوال کیاجائے تو عطا ہوجائے، وہ حضرت یونس علیہ السّلام کی
دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو
انہوں نے اندھیروں میں تین بار کی تھی۔ یاد رہے کہ یہ دعا حضرت یونس علیہ السّلام
کے لئے خاص نہیں دیگر مسلمانوں کے لئے بھی ہے، جب وہ ان الفاظ کے ساتھ دعامانگیں
گے تو ان کی دعا بھی قبول ہو گی۔ اِن شآءَ اللہ
اللہ پاک
ہمیں ہر طرح کی آزمائش سے محفوظ فرمائے اور ہرحال میں اپنی رضا والے کام کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن
بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
قرآنِ مجید
میں حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ نہایت عقیدت اور عبرت انگیز انداز میں کیا گیا
ہے، اور آپ کو قرآن میں "ذوالنون" (مچھلی والے) کے لقب سے بھی پکارا گیا
ہے۔ آپ کا واقعہ صبر، توبہ اور اللہ کی رحمت کی بہترین مثال ہے،قرآنِ پاک کی کل 6
سورتوں (النساء، الانعام، یونس، الانبیاء، الصافات، اور القلم) میں آپ کا ذکر
مختلف حوالوں سے آیا ہے۔جیسا کہ :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء: آیت نمبر 87 )
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء آیت نمبر : 88 )
فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ
یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ اور ہم نے
اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔ (سورۃ الانبیاء آیت نمبر
: 145 تا 148)
احادیث
مبارکہ :(1)کسی بندے کے لیے یہ کہنا لائق نہیں (یا جس نے یہ کہا) کہ میں یونس بن
متّٰی سے بہتر ہوں (تو اس نے جھوٹ کہا)۔( صحیح البخاری،جلد 4، صفحہ 160، حدیث نمبر
3395)
(2)مچھلی
والے (یونس علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی وہ ' لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ' ہے۔ کوئی بھی مسلمان مرد جب بھی
اپنے کسی معاملے کے لیے اس کے ذریعے دعا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول
فرمائے گا"۔(جامع ترمذی ، جلد 05 ، صفحہ نمبر 529 ، حدیث نمبر 3505)
امام رازی
فرماتے ہیں کہ:اہلسنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیاء کرام گناہوں سے معصوم ہوتے
ہیں۔ لہٰذا حضرت یونس علیہ السلام کا اپنی قوم کو چھوڑ کر جانا کوئی معصیت (گناہ)
نہیں تھا، بلکہ وہ ایک اجتہادی امر تھا جس میں انہوں نے سمجھا کہ اللہ کی طرف سے
عذاب کا وعدہ آ چکا ہے تو اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے ان پر جو سختی کی
(مچھلی کے پیٹ کی)، وہ سزا کے طور پر نہیں تھی بلکہ ان کے عالی مقام کے مطابق ایک
تنبیہ تھی"۔(تفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)،جلد 22، صفحہ نمبر 178سورۃ الانبیاء،
آیت نمبر 87 )
اعلی حضرت
فرماتے ہیں کہ :حضرت یونس علیہ السلام نے سمندر کی گہرائی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی
میں جو تسبیح فرمائی، وہ محض مصیبت سے نجات کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ وہ مقامِ
استغراق (اللہ کی ذات میں گم ہو جانا) تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا تھا
کہ وہ یونس کے لیے قید خانہ نہیں بلکہ جائے عبادت (مسجد) بنے۔ پس وہ تسبیح ایسی
قبول ہوئی کہ قیامت تک کے لیے ہر بے چین اور مصیبت زدہ مسلمان کے لیے جائے پناہ بن
گئی۔(ملفوظات اعلیحضرت ، جلد چہارم ، صفحہ نمبر 482)
محمد
ارسلان سلیم (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
قرآنِ مجید
میں انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات محض تاریخ بیان کرنے کے لیے نہیں بلکہ
انسانوں کی ہدایت، نصیحت اور رہنمائی کے لیے ذکر کیے گئے ہیں۔ انہی مقدس ہستیوں میں
حضرت یونس علیہ السلام بھی شامل ہیں جن کا واقعہ قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر بیان
ہوا ہے۔ آپ کی زندگی صبر، دعا، توبہ اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کی بہترین
مثال ہے۔
(1) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ
الصفت:139،140)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنَّ
یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ
ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب
ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل
کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے
کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ
کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت
الآیۃ: ۱۳۹، ۷
/ ۴۸۶)
(2)وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ
لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ
اِخْوَانِهِمْۚ-وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے
وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض
کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔(الانعام:6آیت نمبر(
86-87)
(3) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ
مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ
وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ
وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری
طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم
اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور
ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)
تفسیر صراط الجنان:اِنَّاۤ
اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ:بیشک ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی۔ اِس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہود و
نصاریٰ نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال
کیا تھا کہ اُن کے لئے آسمان سے یکبارگی کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر یہ آیتِ
کریمہ نازل ہوئی اور ان پر حجت قائم کی گئی کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے سوا بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جن میں سے
گیارہ کے اَسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں ، اہلِ کتاب اُن سب کی
نبوت کو مانتے ہیں ، توجب اس وجہ سے ان میں سے متعدد کی نبوت تسلیم کرنے میں اہلِ
کتاب کو کچھ پس و پیش نہ ہوا تو امامُ الانبیاء، سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے؟ نیز
رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھیجنے کا مقصد مخلوق کی ہدایت اور
ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید ومعرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور عبادت کے
طریقوں کی تعلیم ہے اورکتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ مقصد بڑے کامل طریقے
سے حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اس حکمت
کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال درجے کی حماقت ہے۔سُبْحَانَ اللہ! کیسا دل نشین
اور پیارا جواب ہے۔
(4) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ
فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(یونس :10 ،آیت نمبر 98)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ آپ کی زندگی میں امت کے لیے
بہت سی نصیحتیں اور عبرتیں موجود ہیں۔ صبر، توبہ، اللہ پر بھروسہ اور اس کی رحمت
سے امید رکھنا آپ کی زندگی کے اہم اسباق ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت یونس علیہ
السلام کی سیرت سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق
گزارنے کی کوشش کریں۔
Dawateislami