اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں متعدد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا ہے ،ان میں سے جلیل القدر پیغمبر حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام بھی ہیں۔

تعارف: آپ علیہ السلام کا نام پاک یونس بن متی ہے، آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ اور چونکہ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو ” ذوالنون " اور " صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔آپ بستی نینوی کے نبی تھے جو موصل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے ، تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہ الہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ (سیرت انبیاء ،صفحہ493،مکتبہ کراچی)

حضرت یونس علیہ السلام اور نزولِ احکام:آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا،البتہ وحی کے ذریعے کچھ احکام نازل ہوئے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)

آپ علیہ السلام کی دعا:جب آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تو اس وقت آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی جو قرآن مجید میں مذکور ہے: وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔(سورۃ انبیاء:87)

اس آیت مبارکہ کے تحت امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔(تفسیر مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: 87، ص724)

مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔

( ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 3516 ، دار الکتب العلمیہ، بیروت لبنان)

ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اچھی امید،صبر اور توکل رکھنا ہے اور مصیبت کے وقت اس کی بارگاہ میں دعا کرنی ہے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم


اللہ تعالی نے اس دنیا میں بہت سے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا ہے اور انبیاء کرام کا مقصد انسانوں کو ہدایت کے راستے پہ چلانا اور ان کو گمراہی سے پیچھے کرنا ہے انہی میں سے ایک حضرت یونس جو کہ اللہ تعالی کے نبی ہیں ان کا مکمل نام یونس بن متی اور آپ کا لقب ذوالنون ہے، آج ہم حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں جانتے ہیں ۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء ،پارہ نمبر 17، سورۃ نمبر 21 ،آیت نمبر 87)

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(پارہ نمبر 10، سورۃ یونس ،آیت نمبر 98 )

پہلی آیت سےہمیں یہ معلوم ہوا کہ رب تعالی نے حضرت یونس کو ان کی قوم کی طرف ان کا نبی بنا کر بھیجا اور انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالی کی وحدانیت کی دعوت دی لیکن انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا اور آپ کی نافرمانی کی انہوں نے اپنی قوم کو عذاب کی خبر دی اور اس کے بعد آپ اس بستی سے چلے گئے آپ کی جانے کے بعد انہوں نے توبہ کی لیکن ان کی بستی پر عذاب نہیں آیا اور اس کے بعد حضرت یونس جب کشتی میں جا رہے تھے تو ان کے ساتھ ایک واقعہ پیش آتا ہے کہ ان کو ایک مچھلی نگل جاتی ہے اور آپ نے رب تعالی کی مدد پر یقین رکھا اور قرآن پاک کی ایک آیت کا ورد رکھا اور جس کی مدد سے اللہ پاک نے ان کی مدد فرمائی ۔

دوسری آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک بہت غفور الرحیم اور ہمارے توبہ قبول کرنے والا ہے اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جائے تو ہمیں اللہ پاک سے توبہ کرنی چاہیے وہ ہمیں معاف کرنے پر قادر ہے اور وہ ہماری توبہ کو بھی قبول فرماتا ہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں سچے دل سے توبہ کی توفیق عطا فرمائے اٰمین۔


حضرت یونس علیہ السلام کا نام مبارک یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت (مچھلی والے) ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ نینویٰ بستی کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو ربِّ کریم کی طرف بلایا اور شرک سے باز رہنے، بتوں کی پوجا چھوڑنے اور توحیدِ باری تعالیٰ اپنانے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ کی بات نہ مانی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور عذاب آنے کا کہا گیا۔ مزید تفصیل کے لئے ابواب میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں آپ علیہ السلام کی سیرتِ مبارکہ کو 4 ابواب میں بیان کیا گیا ہے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

حضرت یونس علیہ السلام کا اجمالی ذکر خیر سورۃ النساء، آیت: 163 اور سورۃ انعام، آیت: 86 میں ہے جبکہ تفصیلی تذکرہ درج ذیل 4 سورتوں میں ہے:سورۃ یونس، آیت: 98،سورۃ انبیاء، آیت: 87-88،سورۃ صافات، آیت: 139 تا 148،سورۃ قلم، آیت: 48 تا 50۔

نزولِ احکام:آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوئے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ6، النساء:163)

انعاماتِ الٰہی:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا، مچھلی کے پیٹ میں بھی توجّہ الی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکرِ الٰہی کی توفیق بخشی، خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔ اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ (پ29، القلم: 48-50) 


انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا یہی ایک مقصد تھا کہ وہ مخلوق کو اللہ تعالی کی عبادت کی دعوت دیں ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو اچھی جزا کی نوید سنا کر مطمئن کریں اور یہ بیان کردیں کہ دنیا میں عذاب یافتہ امتیں آخرت میں اللہ تعالی کی طرف ضرور لوٹیں گی اور جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گی ۔ قرآن پاک کی صداقت کو ثابت کرنے اور عبرت و نصیحت کے لیے حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم کا قرآن پاک میں ذکر کیا گیا ہے آئیے قران پاک میں ان سے متعلق چند آیات ملاحظہ کرتے ہیں۔

( 1 ) کتاب کا نازل ہونا :اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (سورۃ النساء:163)

( 2 ) تسبیح کرنے کی برکت : فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔(سورۃا لصفت:143تا 145)

تفسیر صراط الجنان:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

( 3 ) سیدھے رستے پر رہنا : وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔ (سورۃ انعام :86،87)

( 4 ) ایمان پر رہنا : فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس:98)

( 5 ) اللہ پر پختہ ایمان : وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ انبیاء:87)

اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وبارک وسلم۔


حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ قرآنِ کریم کے پُراثر اور سبق آموز واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک نبی کا نہیں، بلکہ انسانی ندامت، الٰہی رحمت اور توبہ کی قبولیت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔قرآنِ کریم نے جہاں انبیاء کرام کے تذکرے کیے ہیں، وہاں ہر قصے میں انسانی زندگی کے لیے کوئی نہ کوئی ایسا گوشہ ضرور چھوڑا ہے جو اسے اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام، جنہیں قرآن نے "صاحب الحوت" (مچھلی والا) اور "ذوالنون" کے لقب سے یاد کیا، ان کا ذکر ربِ کائنات نے متعدد بار فرمایا ہے۔

​دعوت اور ہجرتِ اضطراری:​حضرت یونس علیہ السلام کو "نینوٰی" کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ جب ان کی قوم نے طویل جدوجہد کے باوجود دعوتِ حق کو ٹھکرا دیا، تو آپ علیہ السلام بشری تقاضے کے تحت غصے کی حالت میں بستی چھوڑ کر تشریف لے گئے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا ۔(سورۃ الانبیاء آیت - 87)

​یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ آپ کا بستی سے نکلنا اللہ کے صریح حکم کے بغیر تھا، جو ایک جلیل القدر نبی کے لیے "ترکِ اولیٰ" (بہتر عمل کو چھوڑنا) قرار پایا۔

​سمندر کی وسعتیں اور امتحان کی گھڑی:آپ ایک کشتی پر سوار ہوئے، جو بوجھ کی زیادتی کی وجہ سے ڈولنے لگی۔ قرعہ اندازی ہوئی تو نام یونس علیہ السلام کا نکلا۔ آپ کو سمندر کی لہروں کے حوالے کر دیا گیا، جہاں ایک عظیم الجثہ مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ اندھیرا، سمندر کی گہرائی اور مچھلی کا پیٹ یہ وہ حالات تھے جہاں ظاہری طور پر زندگی کی کوئی امید باقی نہ تھی۔

​وہ دعا جو عرش کو ہلا گئی:مچھلی کے پیٹ کی ان تین تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا، مگر ان کا اندازِ دعا نرالا تھا۔ انہوں نے کوئی شکوہ نہیں کیا، بلکہ اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اس کو اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:​ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء آیت،87)

​اس تسبیح نے اللہ کی رحمت کو جوش دلایا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔

آپ علیہ السلام کی دعا پر حدیث شریف:حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)

آپ علیہ السلام کی ​قوم کی توبہ کا ایک منفرد واقعہ:​حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کی سب سے منفرد بات ان کی قوم کا رویہ ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ واحد قوم ہے جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر اجتماعی توبہ کی اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔ قرآن میں سورۃ یونس میں اس کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے کہ کس طرح ان کے ایمان نے انہیں رسوائی کے عذاب سے بچا لیا۔

​حضرت یونس علیہ السلام کے تذکرہ سے ہمیں دو بڑے سبق ملتے ہیں :

(1) ​صبر اور استقامت: اللہ کے کاموں میں جلدی کرنا یا مایوس ہو کر میدان چھوڑنا پسندیدہ نہیں۔

(2) توبہ کی طاقت: انسان کتنا ہی گناہ گار یا کتنی ہی بڑی مشکل میں کیوں نہ ہو، اگر وہ خلوصِ دل سے اپنی غلطی تسلیم کر لے، تو اللہ سمندر کی تہوں سے بھی اسے نکالنے پر قادر ہے۔

​آج کے دور میں جب ہم مسائل کی مچھلی کے پیٹ میں قید محسوس کرتے ہیں، تو "آیتِ کریمہ" کی وہی پکار ہمارے لیے بھی نجات کا راستہ بن سکتی ہے۔


اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی قوم کی طرف نبی بھیجا تو اس کا مقصد یہی تھا کہ وہ لوگوں کو شرک و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور ہدایت کی روشنی کی طرف لائے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اللہ نے قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا بیان فرمایا ہے ۔اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:139،140)

تفسیر صراط الجنان :وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصفت:141،142)

تفسیر صراط الجنان:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔ جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا جب اس میں تاخیر ہوئی تو قتل سے بچنے کے لیے آپ علیہ السلام ان سے چھپ کر نکل گئے آپ علیہ السلام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہو گئے جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا ملاحوں نے کہا اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ کون ہے چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں اس کے بعد آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دیے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ جب حضرت یونس علیہ السلام دریا میں ڈال دیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ علیہ السلام کا حال یہ تھا کہ اپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کہ اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالی کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا مروی ہے کہ اللہ تعالی نے مچھلی کو الہام فرمایا میں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تیرے لیے عذاب نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لیے قید خانہ بنایا ہے لہذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔

حضرت یونس علیہ السلام کے لیے سائے اور غذا کا قدرتی انتظام :جس جگہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ عزوجل نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کدو کا پیڑا گا دیا اور اللہ تعالی کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس علیہ السلام کے دھن مبارک میں دے کر آپ علیہ السلام کو صبح شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔(سورۃ الصفت:146)

یاد رہے کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے مگر یہ آپ علیہ السلام کا معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے بڑے پتوں کے سائے میں آپ علیہ السلام آرام کرتے تھےاس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چاہے کتنی بھی بڑی مصیبت کیوں نہ ہو ہر حال میں اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اللہ عزوجل سے مدد طلب کرنی چاہیے کیونکہ حقیقی مالک وہی ہے اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے چاہے چھوٹی مصیبت ہو چاہے بڑی ہو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔


(1) انبیاء کرام علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ پاک نے دنیا میں لوگوں کی اصلاح کے لیے بھیجا کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر دنیا میں تشریف لائے جن میں سے اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک قوم کی طرف بھیجا اپنی وحدانیت کی دعوت دینے کے لیے انہوں نے اپنی قوم کو اللہ پاک کی وحدانیت کا جام پلایا لیکن خوش نصیبوں نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت کو قبول کیا اور کچھ بدبختوں نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو معاذ اللہ جھٹلایا اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے عذاب کے حقدار ٹھہرے ۔

(2) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔ ( پارہ 7،سورۃ الانعام آیت نمبر86،87)

(3) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6،سورۃ النساء، آیت نمبر 163)

(4) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (پارہ 23،سورۃ الصفت، آیت نمبر139،140)

(5) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ 11،سورۃ یونس،آیت نمبر 98)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہم سب کو ان آیت مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور تمام انبیاء کرام علیہ الصلوۃ والسلام کی پکی سچی محبت نصیب فرمائے آمین بجاہ النبیین ﷺ ۔


(1)آپ علیہ السلام کا تعارف :آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ:486:7:139)

(2) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔ ( پارہ 7،سورۃ الانعام آیت نمبر86،87)

(3) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6،سورۃ النساء، آیت نمبر 163)

(4) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (پارہ 23،سورۃ الصفت، آیت نمبر139،140)

(5) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ 11،سورۃ یونس،آیت نمبر 98)


تعارف حضرت یونس علیہ السلام:آپ کا نام مبارک یونس بن متی اور لقب ذوالنون اور صاحب ‎الحوت ہے۔آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی ‎اولاد میں سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام بستی "نینوی" کی ‎طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ نے چالیس سال تک ‎اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی۔ آپ علیہ السلام کا ذکر ‎خیر سورۃ یونس ، انبیاء ، صافات اور دیگر سورتوں میں ‎آیا ہے آپ علیہ السلام پر علیحدہ سے کوئی کتاب یا ‎صحیفہ نازل نہیں ہوا البتہ وحی کے ذریعے احکام نازل ‎ہوئے جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)

اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو کئی انعامات سے نوازا جن ‎میں سے چند یہ ہیں۔ ‎

اللہ پاک نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کے رجوع کو ‎قبول فرمایا ۔مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الی اللہ رضا ‎بالقضاء اور ذکر الہی کی توفیق بخشی۔فضل خاص فرما ‎کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ۔آپ کو اپنے منتخب ‎بندوں میں سے کیا اور صالحین میں سے فرما کر اعلی ‎درجہ عطا فرمایا ۔ ‎

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں ‎تشریف لائے تو آپ کو مختلف قسم کی تاریکیوں کا سامنا ‎کرنا پڑا جیسے رات کی تاریکی ، سمندر کی تاریکی ، ‎مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ۔ انہی تاریکیوں میں آپ علیہ ‎السلام نے اللہ پاک سے دعا فرمائی جس کو اللہ پاک نے ‎اپنے پاک کلام میں ذکر فرمایا چنانچہ قرآن مجید میں ‎ارشاد ہوتا ہے: لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمہ کنز الایمان:کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے ‎بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)

اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کی اس دعا کو قبول فرمایا اور آپ ‎کو تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو ‎حکم دیا تو اس نے آپ کو دریا کے کنارے اپنے پیٹ سے نکال ‎دیا۔ ارشاد ہوتا ہے :

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔(سورۃ الانبیاء:88)

‎‎ حضرت یونس علیہ السلام کے دل دہلا دینے والے ‎واقعے سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ اللہ پاک کس ‎طرح اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے ۔پھر جب بندہ ‎ان آزمائشوں پر صبر وتحمل سے کام لیتا ہے تو اللہ پاک ‎اسکی نجات کا غیب سے ایسا نظام فرما دیتا ہے جس کا ‎بندے کو گمان بھی نہیں ہوتا ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ‎ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کے صبر سے حصہ عطا ‎فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ۔ ‎


وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔(سورۃ الانعام:86،87)

تفسیر صراط الجنان: وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ:اور اسماعیل اوریَسَع۔ اس آیت اور اس سے اوپر والی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر فرمایا اور ان کے ذکر میں جو ترتیب آیت میں موجود ہے وہ نہ توزمانہ کے اعتبار سے ہے اور نہ فضیلت کے اعتبار سے لیکن جس شان سے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اسماء ذکر فرمائے گئے اس میں ایک عجیب لطیفہ ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا ،جیسے حضرت نوح، ابراہیم ، اسحق اور یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پہلے ذکر کیا کیونکہ یہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اصول ہیں یعنی ان کی اولاد میں بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہوئے جن کے نسب انہیں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پھر نبوت کے بعد عظیم مقامات و مراتب میں سے ملک و اختیار اور سلطنت واقتدار ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کا بہت بڑا حصہ عطا فرمایا اور اس شعبے کا زیادہ تر تعلق مقامِ شکر سے ہے۔ پھر اس کے بعد حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ ہے کیونکہ مراتبِ رفیعہ (بلند مراتب) میں سے مصیبت و بلاء پر صابر رہنا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس مرتبے کے ساتھ ممتاز فرمایا پھر ملک ا ور صبر کے دونوں مرتبے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عنایت کئے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے شدت و بلاء پر مدتوں صبر فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ ملک مصر عطا کیا۔ پھرحضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ ہے کیونکہ معجزات کی کثرت اور دلائل و براہین کی قوت بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کے ساتھ مشرف کیا۔ پھرزہد اور ترک ِدنیا بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہے اور حضرت زکریا ،حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت الیاس عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کے ساتھ مخصوص فرمایا پھر ان حضرات کے بعداللہ تعالیٰ نے ان انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر فرمایا کہ جن کے نہ پیروکار باقی رہے اورنہ ان کی شریعت جیسے حضرت اسمٰعیل، حضرت یَسع، حضرت یونس اور حضرت لوط عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۶، ۲ / ۳۳)

اس شان سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر فرمانے میں ان کی کرامتوں اور خصوصیتوں کی ایک عجیب باریکی نظر آتی ہے۔

وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَ:اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اِس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ عالَم یعنی جہان میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۶، ۲ / ۳۳)

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:139،140)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)

اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴ / ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)


انبیاء کرام علیہم السلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں ہیں جنہیں اللہ پاک نے مختلف قوموں کی طرف توحید کی دعوت دینے اور ان کی اصلاح فرمانے کے لیے مبعوث فرمایا انہی حضرات میں سے ایک عظیم ہستی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں۔آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی ہے جبکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے آپ کاان دو القابات (صاحب الحوت یعنی مچھلی والے اور ذاالنون)کے ساتھ تذکرہ فرمایا ہے: چنانچہ ارشاد فرمایا:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔ (پ29 ،سورۃ قلم، آیت 48)

اس آیت میں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں ۔دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17 ،سورۃ الانبیاء 87)

اس آیت مبارکہ میں ذاالنون سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔

آپ علیہ السلام بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال تک لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے۔( سیرت الانبیاء ص491)

یونس علیہ السلام اور آپ کی قوم کا واقعہ :حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ طویل عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے بارگاہ الہی میں دعا کی: اے اللہ ! قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے ، پس تو ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ اس پر ان سے فرمایا گیا: آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے قوم کو نزول عذاب کی خبر دے دی نزول عذاب کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا : حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے ، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہو گئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا لیکن آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا۔ یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنی عورتوں، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہو گئے اور سب نے بارگاہ الہی میں گریہ وزاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھر کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کر دیا۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو پروردگار عالم نے ان پر رحم کیا ، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔ (سیرت الانبیاء ص493تا494)

چنانچہ قرآن پاک میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (پ11 یونس 98)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا، جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی : اے میرے رب ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔ قرآن پاک میں ہے:وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17 سورۃالانبیاء 87)

اللہ تعالیٰ ہمیں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نافرمانی سے محفوظ فرمائے۔


جب ہم قرآنِ مجید میں غورو فکر کرتے ہیں تو ہمیں ہر جگہ انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں کے وہ سبق ملتے ہیں جو آج بھی ہمارے لیے راستہ دکھانے کا کام کرتے ہیں۔ انہی برگزیدہ ہستیوں میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کی طرف رہنمائی کے لیے بھیجا، مگر جب اس قوم نے حق کو ٹھکراتے ہوئے انکار کی راہ اپنائی تو آپ کا دل رنجیدہ ہو گیا اور آپ ان کے درمیان سے چلے گئے۔ اللہ رب العزت نے پھر آپ کو ایک سخت آزمائش سے گزارا مچھلی کے اندھیرے پیٹ میں جہاں آپ نے خالص دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی، دعا مانگی اور استغفار کیا۔ یہ واقعہ قرآنِ پاک میں اس لیے بیان ہوا کہ ہم سمجھ سکیں کہ اللہ کا در کبھی بند نہیں ہوتا اور مصیبت میں بھی صبر، امید اور توبہ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (پارہ: 23 ،سورۃ الصافات، آیت: 139-140)

یہ توبہ صرف زبانی نہ تھی، بلکہ انہوں نے اپنے تمام پرانے گناہوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ دوسروں کا مال واپس لوٹایا، جو ناانصافیاں ہوئی تھیں انہیں درست کیا، حتیٰ کہ اگر کسی کی بنیاد میں دوسرے کا ایک پتھر بھی لگ گیا تھا تو دیوار اکھاڑ کر وہ پتھر نکالا اور واپس کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خلوص بھری توبہ قبول فرمائی، دعائیں سنیں اور اپنی بے انتہا رحمت سے عذاب اٹھا لیا۔اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو قرآنِ کریم میں یوں بیان فرمایا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ 11،سورۃ یونس، آیت: 98)

مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کی دعا:

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پ17،سورۃ الانبیاء، آیت: 87)

اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمانے کا اعلان کیا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔

(پارہ 17،سورۃ الانبیاء، آیت: 88)

فرعون اور قومِ یونس کی توبہ میں فرق ایک علمی نکتہ:یہاں ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے: قرآنِ پاک میں فرعون کا ذکر ہے کہ اس نے آخری لمحے میں توبہ کی مگر قبول نہیں ہوئی، جبکہ قومِ یونس نے توبہ کی تو اللہ نے مان لی آخر دونوں میں فرق کیا ہے؟ اس سوال کا بہت خوبصورت جواب امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ علیہ نے دیا ہے کہ فرعون نے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد ایمان لانے کی کوشش کی، جبکہ قومِ یونس نے عذاب کے آنے سے پہلے ہی، صرف اس کی علامات دیکھتے ہی، دل کی گہرائی سے توبہ کر لی تھی۔ اس سے ایک بنیادی اصول واضح ہوتا ہے کہ توبہ اسی وقت قبول ہوتی ہے جب عذاب ابھی آیا نہ ہو، صرف اس کی نشانیاں ظاہر ہوئی ہوں۔ جب عذاب سامنے آ جائے تو توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔(التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، امام فخرالدین محمد بن عمر الرازی رحمۃاللہ علیہ، جلد: 17، صفحہ: 167، ذیلِ سورۃ یونس، آیت: 98 — دارُ إحیاء التراث العربی، بیروت)

حضرت یونس علیہ السلام کا یہ واقعہ ہر اس انسان کے لیے ایک روشن چراغ ہے جو زندگی کی تاریکیوں میں راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مشکل گھڑی میں گھبرانا نہیں چاہیے، غلطی ہو جائے تو اللہ کی طرف لوٹنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے، اور یہ کہ اللہ کی رحمت کا دامن اتنا وسیع ہے کہ وہ سچے دل سے معافی مانگنے والے کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ آج بھی اگر ہم اپنے دلوں کو صاف کر کے، اپنے گناہوں کا بوجھ اتار کر، سچے جذبے سے اللہ کے سامنے جھک جائیں تو اس کی رحمت ہمیں بھی ڈھانپ لے گی۔ اللہ پاک ہمیں اس واقعے سے سبق حاصل کرنے توبہ کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ الخاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم