اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی قوم کی طرف نبی بھیجا تو اس کا مقصد یہی تھا کہ وہ لوگوں کو شرک و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور ہدایت کی روشنی کی طرف لائے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اللہ نے قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا بیان فرمایا ہے ۔اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:139،140)

تفسیر صراط الجنان :وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصفت:141،142)

تفسیر صراط الجنان:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔ جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا جب اس میں تاخیر ہوئی تو قتل سے بچنے کے لیے آپ علیہ السلام ان سے چھپ کر نکل گئے آپ علیہ السلام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہو گئے جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا ملاحوں نے کہا اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ کون ہے چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں اس کے بعد آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دیے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ جب حضرت یونس علیہ السلام دریا میں ڈال دیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ علیہ السلام کا حال یہ تھا کہ اپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کہ اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالی کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا مروی ہے کہ اللہ تعالی نے مچھلی کو الہام فرمایا میں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تیرے لیے عذاب نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لیے قید خانہ بنایا ہے لہذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔

حضرت یونس علیہ السلام کے لیے سائے اور غذا کا قدرتی انتظام :جس جگہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ عزوجل نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کدو کا پیڑا گا دیا اور اللہ تعالی کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس علیہ السلام کے دھن مبارک میں دے کر آپ علیہ السلام کو صبح شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔(سورۃ الصفت:146)

یاد رہے کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے مگر یہ آپ علیہ السلام کا معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے بڑے پتوں کے سائے میں آپ علیہ السلام آرام کرتے تھےاس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چاہے کتنی بھی بڑی مصیبت کیوں نہ ہو ہر حال میں اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اللہ عزوجل سے مدد طلب کرنی چاہیے کیونکہ حقیقی مالک وہی ہے اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے چاہے چھوٹی مصیبت ہو چاہے بڑی ہو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔