اللہ تعالی نے اس دنیا میں بہت سے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا ہے اور انبیاء کرام کا مقصد انسانوں کو ہدایت کے راستے پہ چلانا اور ان کو گمراہی سے پیچھے کرنا ہے انہی میں سے ایک حضرت یونس جو کہ اللہ تعالی کے نبی ہیں ان کا مکمل نام یونس بن متی اور آپ کا لقب ذوالنون ہے، آج ہم حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں جانتے ہیں ۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء ،پارہ نمبر 17، سورۃ نمبر 21 ،آیت نمبر 87)

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(پارہ نمبر 10، سورۃ یونس ،آیت نمبر 98 )

پہلی آیت سےہمیں یہ معلوم ہوا کہ رب تعالی نے حضرت یونس کو ان کی قوم کی طرف ان کا نبی بنا کر بھیجا اور انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالی کی وحدانیت کی دعوت دی لیکن انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا اور آپ کی نافرمانی کی انہوں نے اپنی قوم کو عذاب کی خبر دی اور اس کے بعد آپ اس بستی سے چلے گئے آپ کی جانے کے بعد انہوں نے توبہ کی لیکن ان کی بستی پر عذاب نہیں آیا اور اس کے بعد حضرت یونس جب کشتی میں جا رہے تھے تو ان کے ساتھ ایک واقعہ پیش آتا ہے کہ ان کو ایک مچھلی نگل جاتی ہے اور آپ نے رب تعالی کی مدد پر یقین رکھا اور قرآن پاک کی ایک آیت کا ورد رکھا اور جس کی مدد سے اللہ پاک نے ان کی مدد فرمائی ۔

دوسری آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک بہت غفور الرحیم اور ہمارے توبہ قبول کرنے والا ہے اگر ہم سے کوئی گناہ ہو جائے تو ہمیں اللہ پاک سے توبہ کرنی چاہیے وہ ہمیں معاف کرنے پر قادر ہے اور وہ ہماری توبہ کو بھی قبول فرماتا ہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں سچے دل سے توبہ کی توفیق عطا فرمائے اٰمین۔