محمد
حسن اعوان (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
تعارف
حضرت یونس علیہ السلام:آپ کا نام مبارک یونس بن متی اور لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ہے۔آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
علیہ السلام بستی "نینوی" کی طرف نبی بنا کر بھیجے
گئے۔ آپ نے چالیس سال تک اپنی قوم کو توحید کی
دعوت دی۔ آپ علیہ السلام کا ذکر خیر سورۃ یونس ، انبیاء
، صافات اور دیگر سورتوں میں آیا ہے آپ علیہ السلام
پر علیحدہ سے کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا
البتہ وحی کے ذریعے احکام نازل ہوئے جیسا کہ اللہ پاک
کا فرمان:
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے
بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور
ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی
اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)
اللہ پاک
نے آپ علیہ السلام کو کئی انعامات سے نوازا جن میں سے چند یہ ہیں۔
اللہ پاک
نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کے رجوع کو قبول فرمایا ۔مچھلی کے پیٹ
میں بھی توجہ الی اللہ رضا بالقضاء اور ذکر الہی کی
توفیق بخشی۔فضل خاص فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات
دی ۔آپ کو اپنے منتخب بندوں میں سے کیا اور
صالحین میں سے فرما کر اعلی درجہ عطا فرمایا ۔
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس
علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو آپ کو
مختلف قسم کی تاریکیوں کا سامنا کرنا پڑا جیسے رات کی
تاریکی ، سمندر کی تاریکی ، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی
۔ انہی تاریکیوں میں آپ علیہ السلام نے اللہ پاک سے
دعا فرمائی جس کو اللہ پاک نے اپنے پاک کلام میں ذکر
فرمایا چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمہ کنز
الایمان:کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)
اللہ پاک
نے آپ علیہ السلام کی اس دعا کو قبول فرمایا اور آپ کو تنہائی اور وحشت کے
غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے آپ کو
دریا کے کنارے اپنے پیٹ سے نکال دیا۔ ارشاد ہوتا ہے :
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔(سورۃ الانبیاء:88)
حضرت یونس علیہ السلام کے دل دہلا دینے والے
واقعے سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ اللہ پاک کس طرح اپنے بندوں کو
آزمائش میں ڈالتا ہے ۔پھر جب بندہ ان آزمائشوں پر صبر
وتحمل سے کام لیتا ہے تو اللہ پاک اسکی نجات کا غیب سے ایسا
نظام فرما دیتا ہے جس کا بندے کو گمان بھی نہیں
ہوتا ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت یونس علیہ
السلام کے صبر سے حصہ عطا فرمائے آمین بجاہ النبی
الامین ۔
Dawateislami