جب ہم
قرآنِ مجید میں غورو فکر کرتے ہیں تو ہمیں ہر جگہ انبیائے کرام علیہم السلام کی
زندگیوں کے وہ سبق ملتے ہیں جو آج بھی ہمارے لیے راستہ دکھانے کا کام کرتے ہیں۔
انہی برگزیدہ ہستیوں میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ آپ
علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کی طرف رہنمائی کے لیے بھیجا، مگر جب اس
قوم نے حق کو ٹھکراتے ہوئے انکار کی راہ اپنائی تو آپ کا دل رنجیدہ ہو گیا اور آپ
ان کے درمیان سے چلے گئے۔ اللہ رب العزت نے پھر آپ کو ایک سخت آزمائش سے گزارا
مچھلی کے اندھیرے پیٹ میں جہاں آپ نے خالص دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی،
دعا مانگی اور استغفار کیا۔ یہ واقعہ قرآنِ پاک میں اس لیے بیان ہوا کہ ہم سمجھ سکیں
کہ اللہ کا در کبھی بند نہیں ہوتا اور مصیبت میں بھی صبر، امید اور توبہ ہی کامیابی
کی کنجی ہے۔
اللہ تعالیٰ
کا ارشاد ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (پارہ:
23 ،سورۃ الصافات، آیت: 139-140)
یہ توبہ
صرف زبانی نہ تھی، بلکہ انہوں نے اپنے تمام پرانے گناہوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔
دوسروں کا مال واپس لوٹایا، جو ناانصافیاں ہوئی تھیں انہیں درست کیا، حتیٰ کہ اگر
کسی کی بنیاد میں دوسرے کا ایک پتھر بھی لگ گیا تھا تو دیوار اکھاڑ کر وہ پتھر
نکالا اور واپس کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خلوص بھری توبہ قبول فرمائی، دعائیں
سنیں اور اپنی بے انتہا رحمت سے عذاب اٹھا لیا۔اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو قرآنِ
کریم میں یوں بیان فرمایا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ 11،سورۃ یونس، آیت: 98)
مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کی دعا:
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔ (پ17،سورۃ الانبیاء، آیت: 87)
اللہ تعالیٰ
نے دعا قبول فرمانے کا اعلان کیا:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔
(پارہ 17،سورۃ
الانبیاء، آیت: 88)
فرعون اور قومِ یونس کی توبہ میں
فرق ایک علمی نکتہ:یہاں ذہن میں ایک سوال
ابھرتا ہے: قرآنِ پاک میں فرعون کا ذکر ہے کہ اس نے آخری لمحے میں توبہ کی مگر
قبول نہیں ہوئی، جبکہ قومِ یونس نے توبہ کی تو اللہ نے مان لی آخر دونوں میں فرق کیا ہے؟ اس سوال کا بہت
خوبصورت جواب امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ علیہ نے دیا ہے کہ فرعون نے عذاب کو
اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد ایمان لانے کی کوشش کی، جبکہ قومِ یونس نے عذاب کے
آنے سے پہلے ہی، صرف اس کی علامات دیکھتے ہی، دل کی گہرائی سے توبہ کر لی تھی۔ اس
سے ایک بنیادی اصول واضح ہوتا ہے کہ توبہ اسی وقت قبول ہوتی ہے جب عذاب ابھی آیا
نہ ہو، صرف اس کی نشانیاں ظاہر ہوئی ہوں۔ جب عذاب سامنے آ جائے تو توبہ کا دروازہ
بند ہو جاتا ہے۔(التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، امام فخرالدین محمد بن عمر الرازی
رحمۃاللہ علیہ، جلد: 17، صفحہ: 167، ذیلِ سورۃ یونس، آیت: 98 — دارُ إحیاء التراث
العربی، بیروت)
حضرت یونس
علیہ السلام کا یہ واقعہ ہر اس انسان کے لیے ایک روشن چراغ ہے جو زندگی کی تاریکیوں
میں راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مشکل گھڑی میں گھبرانا نہیں
چاہیے، غلطی ہو جائے تو اللہ کی طرف لوٹنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے، اور یہ کہ
اللہ کی رحمت کا دامن اتنا وسیع ہے کہ وہ سچے دل سے معافی مانگنے والے کو کبھی خالی
ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ آج بھی اگر ہم اپنے دلوں کو صاف کر کے، اپنے گناہوں کا بوجھ
اتار کر، سچے جذبے سے اللہ کے سامنے جھک
جائیں تو اس کی رحمت ہمیں بھی ڈھانپ لے گی۔ اللہ پاک ہمیں اس واقعے سے سبق حاصل
کرنے توبہ کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ الخاتم
النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم
Dawateislami