حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ قرآنِ کریم کے پُراثر اور سبق آموز واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک نبی کا نہیں، بلکہ انسانی ندامت، الٰہی رحمت اور توبہ کی قبولیت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔قرآنِ کریم نے جہاں انبیاء کرام کے تذکرے کیے ہیں، وہاں ہر قصے میں انسانی زندگی کے لیے کوئی نہ کوئی ایسا گوشہ ضرور چھوڑا ہے جو اسے اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام، جنہیں قرآن نے "صاحب الحوت" (مچھلی والا) اور "ذوالنون" کے لقب سے یاد کیا، ان کا ذکر ربِ کائنات نے متعدد بار فرمایا ہے۔

​دعوت اور ہجرتِ اضطراری:​حضرت یونس علیہ السلام کو "نینوٰی" کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ جب ان کی قوم نے طویل جدوجہد کے باوجود دعوتِ حق کو ٹھکرا دیا، تو آپ علیہ السلام بشری تقاضے کے تحت غصے کی حالت میں بستی چھوڑ کر تشریف لے گئے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا ۔(سورۃ الانبیاء آیت - 87)

​یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ آپ کا بستی سے نکلنا اللہ کے صریح حکم کے بغیر تھا، جو ایک جلیل القدر نبی کے لیے "ترکِ اولیٰ" (بہتر عمل کو چھوڑنا) قرار پایا۔

​سمندر کی وسعتیں اور امتحان کی گھڑی:آپ ایک کشتی پر سوار ہوئے، جو بوجھ کی زیادتی کی وجہ سے ڈولنے لگی۔ قرعہ اندازی ہوئی تو نام یونس علیہ السلام کا نکلا۔ آپ کو سمندر کی لہروں کے حوالے کر دیا گیا، جہاں ایک عظیم الجثہ مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ اندھیرا، سمندر کی گہرائی اور مچھلی کا پیٹ یہ وہ حالات تھے جہاں ظاہری طور پر زندگی کی کوئی امید باقی نہ تھی۔

​وہ دعا جو عرش کو ہلا گئی:مچھلی کے پیٹ کی ان تین تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا، مگر ان کا اندازِ دعا نرالا تھا۔ انہوں نے کوئی شکوہ نہیں کیا، بلکہ اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اس کو اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:​ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء آیت،87)

​اس تسبیح نے اللہ کی رحمت کو جوش دلایا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔

آپ علیہ السلام کی دعا پر حدیث شریف:حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)

آپ علیہ السلام کی ​قوم کی توبہ کا ایک منفرد واقعہ:​حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کی سب سے منفرد بات ان کی قوم کا رویہ ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ واحد قوم ہے جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر اجتماعی توبہ کی اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔ قرآن میں سورۃ یونس میں اس کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے کہ کس طرح ان کے ایمان نے انہیں رسوائی کے عذاب سے بچا لیا۔

​حضرت یونس علیہ السلام کے تذکرہ سے ہمیں دو بڑے سبق ملتے ہیں :

(1) ​صبر اور استقامت: اللہ کے کاموں میں جلدی کرنا یا مایوس ہو کر میدان چھوڑنا پسندیدہ نہیں۔

(2) توبہ کی طاقت: انسان کتنا ہی گناہ گار یا کتنی ہی بڑی مشکل میں کیوں نہ ہو، اگر وہ خلوصِ دل سے اپنی غلطی تسلیم کر لے، تو اللہ سمندر کی تہوں سے بھی اسے نکالنے پر قادر ہے۔

​آج کے دور میں جب ہم مسائل کی مچھلی کے پیٹ میں قید محسوس کرتے ہیں، تو "آیتِ کریمہ" کی وہی پکار ہمارے لیے بھی نجات کا راستہ بن سکتی ہے۔