ساجد
علی عطاری (درجہ دورہ حدیث جامعۃ المدینہ
فیضان بغداد ، کراچی،پاکستان)
انبیاء
کرام علیہم السلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں ہیں جنہیں اللہ پاک نے مختلف قوموں
کی طرف توحید کی دعوت دینے اور ان کی اصلاح فرمانے کے لیے مبعوث فرمایا انہی حضرات
میں سے ایک عظیم ہستی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں۔آپ علیہ السلام کا نام یونس
بن متی ہے جبکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے آپ کاان دو القابات (صاحب الحوت یعنی
مچھلی والے اور ذاالنون)کے ساتھ تذکرہ فرمایا ہے: چنانچہ ارشاد فرمایا:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔ (پ29 ،سورۃ قلم، آیت 48)
اس آیت میں
مچھلی والے سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں ۔دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17 ،سورۃ الانبیاء 87)
اس آیت مبارکہ میں ذاالنون سے مراد حضرت یونس علیہ
السلام ہیں۔
آپ علیہ
السلام بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔
آپ علیہ السلام نے چالیس سال تک لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن
انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے۔( سیرت الانبیاء
ص491)
یونس علیہ السلام اور آپ کی قوم کا
واقعہ :حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوی
میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام
کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے اور ایمان
لانے کا حکم دیا، لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس علیہ السلام
کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ طویل عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ
راست پر نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے بارگاہ الہی میں دعا کی: اے اللہ ! قوم مجھے
جھٹلانے پر ہی قائم ہے ، پس تو ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ اس پر ان سے فرمایا گیا:
آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جائے گا۔ چنانچہ
آپ علیہ السلام نے قوم کو نزول عذاب کی خبر دے دی نزول عذاب کی خبر سن کر لوگوں نے
آپس میں کہا : حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے ، دیکھو
اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری
تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے
تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہو گئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت
ناک بادل آیا، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین
ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا لیکن آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا۔ یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنی عورتوں، بچوں
اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار
کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہو گئے اور سب نے بارگاہ الہی میں گریہ وزاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان
لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا،
پرائے مال واپس کئے حتی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھر کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو
بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کر دیا۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ
مغفرت کی دعائیں کیں تو پروردگار عالم نے ان پر رحم کیا ، دعا قبول فرمائی اور
عذاب اٹھا دیا گیا۔ (سیرت الانبیاء ص493تا494)
چنانچہ
قرآن پاک میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا: فَلَوْ لَا كَانَتْ
قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ
اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (پ11 یونس 98)
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس
علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا
ہوا، جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں
میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی : اے میرے رب ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب
سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے
پہلے ہی جدا ہو گیا۔ قرآن پاک میں ہے:وَ ذَا النُّوْنِ
اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی
الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو)
جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17 سورۃالانبیاء 87)
اللہ تعالیٰ
ہمیں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نافرمانی سے محفوظ فرمائے۔
Dawateislami