عبد
المجید (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
آپ علیہ
السلام کا نام یونس بن متی ہے چونکہ آپ
علیہ الصلوۃ والسلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو ذوالنون
اور صاحب الحوت یعنی مچھلی والے بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ علیہ السلام کے
القاب ہیں۔ (سیرۃ الانبیاء صفحہ 491)
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پارہ17
سورۃالانبیاءآیت87)
اپنی قوم سے دوری:حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نصیحت نہ مانی بلکہ وہ
اپنے کفر پر ہی قائم رہے تو حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے
علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لیے جائز ہے کیونکہ
اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالٰی کے لیے غضب کرنا ہے لیکن
آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالٰی کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ پاک
نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی
تاریکی، رات کی تاریکی، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔ ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ
السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی اے میرے رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں
اور تو ہر عیب سے پاک ہے بے شک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور
اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا ۔(صراط الجنان صفحہ 365، پارہ 17، سورۃ الانبیاء)
حضرت
عبداللہ بن عباس اور امام وہب رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ
السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ قتل سے
بچنے کے لیے ان سے چھپ کر نکل گئے آپ علیہ السلام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور
بھری کشتی پر سوار ہو گئے۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے
ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا ملاحو ں نے کہا جو کشتی میں اپنے مولا سے
بھاگا ہوا غلام ہے قرعہ اندازی کرنے سے معلوم کیا جائے کہ وہ کون ہے قرعہ اندازی کی
گئی تو اس میں آپ علیہ السلام کا نام نکلا حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا میں ہی وہ غلام ہوں۔ جس
کی وجہ سے آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دیے گئے اور لوگوں کا دستور یہ تھا کہ جب
تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت کشتی چلتی نہیں تھی حضرت یونس
علیہ السلام دریا میں ڈال دیے گئے تو ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا
آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی قوم سے جدا ہونے
میں اللہ تعالی کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا مچھلی کی طرف اللہ تعالی نے الہام
فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو میں نے تیرے لیے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ
کو ان کے لیے قید خانہ بنایا ہے تم نہ تو اس کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے
گوشت کو کھانا قرآن پاک میں ہے۔ (سیرۃالانبیاء :صفحہ 495تا 496)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ
ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔
(سورۃالصفت:139تا 142)
تیسرا
مسئلہ :اگر کوئی یہ کہے کہ بے شک اللہ تعالی نے فرعون کے بارے میں جو فرمایا کہ اس
نے آخری وقت توبہ کی اور اللہ تعالی نے اس کی توبہ قبول نہیں فرمائی اور یونس علیہ
الصلوۃ والسلام کی قوم کے بارے میں جو
فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی اور ان کی توبہ کو اللہ تعالی نے قبول فرما لیا تو بس
ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے؟
الجواب :بے
شک فرعون نے عذاب کو دیکھنے کے بعد توبہ کی تھی اور جو یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی
قوم تھی انھوں نےاللہ تعالی سے دعا کی جب ان کے لیے عذاب کی نشانیاں ظاہر ہوئیں
اور جو کہ عذاب پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے توبہ کی لیکن عذاب کو دیکھنے سے
پہلے کی ہے پس فرق ظاہر ہو گیا۔(سورۃ یونس آیت 98 تفسیرالکبیر ،فخرالدین الرازی
صفحہ303 جلد6)
حدیث میں
حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر :ایک مرتبہ سرکار صلّی اللّہ تعالی علیہ وسلم سے کسی
نے عرض کیا آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں نبی اکرم صلّی اللّہ تعالی علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا یہ میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔( سیرۃالانبیاء،503
)
صلاح
الدین عطاری (درجہ عالیہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ
الصفت:139،140)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ان جلیل القدر پیغمبروں میں سے ہیں جن کا ذکر قرآنِ مجید
میں نہایت سبق آموز انداز میں کیا گیا ہے۔ آپ کو "صاحب الحوت" (مچھلی
والا) اور "ذوالنون" کے القاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
آپ کی
زندگی کا واقعہ انسانیت کے لیے صبر، توبہ اور اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہ ہونے
کا ایک عظیم درس ہے۔
وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی
طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے
تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔(سورۃ
الصفت:147،148)
جب قوم نے
آپ کی دعوت کو جھٹلایاتو یہ آیت نازل ہوئی :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)
تفسیر
صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
لہٰذا آپ کی داستان کی منفرد بات یہ بھی ہے کہ
آپ کی قوم تاریخ کی وہ واحد قوم ہے جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر صدقِ دل سے توبہ کی
اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما کر ان سے عذاب ٹال دیا۔
حضرت یونس
علیہ السلام کا قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
مشکل ترین
حالات میں بھی اللہ کو پکارنا ہی نجات کا راستہ ہے۔
اللہ کی
تسبیح اور ذکر انسان کو بڑے سے بڑے غم سے نکال سکتے ہیں۔
اللہ کی
رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، بشرطیکہ انسان اپنی غلطی کا اعتراف کر لے۔
عبد
الرسول (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
ریجیکٹ:حوالہ
جات نہیں
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہایت
اہمیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آپ کا قصہ صبر، توبہ، اور اللہ کی رحمت کی وسعت کا ایک عظیم
درس ہے۔ قرآن مجید کی ایک پوری سورت،سورہ یونس آپ کے نام سے منسوب ہے، جبکہ قرآن
مجید میں اور جگہوں پر بھی آپ کا ذکر ملتا ہے۔
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (141)فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ
هُوَ مُلِیْمٌ(142)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصفت:141،142)
حضرت یونس
علیہ السلام کو نینوی کے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہاں کی آبادی ایک
لاکھ سے زائد تھی جو بت پرستی اور گمراہی میں غرق تھی۔ آپ نے طویل عرصے تک انہیں
حق کی دعوت دی، لیکن قوم نے آپ کا مذاق اڑایا اور ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ جب
قوم کی سرکشی حد سے بڑھ گئی، تو حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں اللہ کے عذاب کی
وعید سنائی اور اللہ کے حتمی حکم کا انتظار کیے بغیر غصے کی حالت میں بستی چھوڑ کر
چلے گئے۔ قرآن پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی ایک منفرد خصوصیت بیان کی
گئی ہے۔ جب آپ بستی سے نکل گئے اور عذاب کے آثار نمودار ہونے لگے، تو قوم کو اپنی
غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے خلوصِ دل سے توبہ کی اور اللہ سے معافی مانگی۔ دوسری
طرف حضرت یونس علیہ السلام ایک کشتی میں سوار ہوئے جو بوجھ کی وجہ سے ڈوبنے لگی۔
قرعہ اندازی کی گئی تو آپ کا نام نکلا، جس کے نتیجے میں آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔
اللہ کے حکم سے ایک عظیم مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں آپ
کو احساس ہوا کہ اللہ کی اجازت کے بغیر بستی چھوڑنا ایک اجتہادی غلطی تھی۔ اس کٹھن
گھڑی میں آپ نے اللہ کو پکارا اور آپ نے ان کلمات کا ورد کثرت سے کیا کرتےلَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ترجمہ
کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک
مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃانبیاء 87)
اللہ تعالیٰ
نے آپ کی اس مخلصانہ پکار کو سنا اور مچھلی
کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔ آپ نقاہت کی حالت میں تھے، چنانچہ اللہ نے
آپ کی حفاظت کے لیے وہاں کدو کی بیل اگا دی تاکہ آپ کو سایہ اور غذا میسر آ سکے۔
صحت یاب ہونے کے بعد آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے، جہاں ایک لاکھ سے زائد
افراد نے آپ کا استقبال کیا اور ایمان لائے حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں
سکھاتا ہے کہ ہمیں اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہونا چاہیے کتنی ہی بڑی مشکل کیوں
نہ ہو، اللہ کی طرف رجوع کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ خلوصِ دل سے مانگی گئی معافی آئے
ہوئے عذاب کو بھی روک سکتی ہے۔اس واقعہ سے ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ داعیِ حق کو ہر
حال میں صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے قرآن پاک میں آپ کو ذوالنون اور صاحب حوت
کے القاب سے بھی یاد کیا گیا ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے عاجزی اور دعا کی
علامت ہیں۔
اللہ پاک ہمیں بھی حضرت یونس علیہ السلام کے صبر
میں سے کچھ حصہ عطا فرمائے۔ آمین
قرآنِ کریم
محض ماضی کے قصوں کی کتاب نہیں، بلکہ یہ انسانی نفسیات اور آزمائشوں میں ثابت قدمی
کا ایک عظیم دستور ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان
مادی اسباب سے کٹ کر مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تو سمندر کی گہرائیاں
اور مچھلی کا پیٹ بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ قصہ درحقیقت "امیدِ پیہم"
کا وہ روشن چراغ ہے جو مایوسی کے گھور اندھیروں میں بھٹکتی انسانیت کو راستہ
دکھاتا ہے۔
آزمائش اور مچھلی کا پیٹ: اللہ
تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو "نینوٰی" (موجودہ عراق کا علاقہ) کی
طرف مبعوث کیا، لیکن جب قوم نے دعوت کو قبول کرنے میں تامل کیا تو آپ علیہ السلام
جلالِ نبوت میں حکمِ الہی کے انتظار کے بغیر وہاں سے نکل پڑے۔ یہ ہجرت ایک کڑے
امتحان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ کشتی سے سمندر میں جانا اور پھر مچھلی کا آپ کو نگل
لینا، بظاہر ایک ایسی تاریکی تھی جہاں مادی عقل جواب دے جاتی ہے۔
قرآنِ پاک
میں اس منظر کی منظر کشی یوں کی گئی ہے:
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ
الصافات: 142)
تسبیحِ یونس علیہ السلام: تاریکی
کے ان تین پردوں میں (رات، سمندر اور مچھلی کا پیٹ) حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی
کسی مادی طاقت پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ کی پاکیزگی بیان کی۔ آپ کی یہ پکار
"دعائے یونس" کے نام سے رہتی دنیا تک کے لیے ہر بے بس انسان کا سہارا بن
گئی۔قرآنِ پاک میں اس دعا کا ذکر یوں ملتا ہے:
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔ (سورۃ الانبیاء: 87)
اس دعا کی
فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:"مچھلی والے (یونس علیہ
السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی... جو مسلمان شخص بھی کسی (مصیبت)
کے لیے ان الفاظ کے ساتھ دعا کرے گا، اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے
گا۔"(جامع ترمذی، حدیث نمبر: 3505)
نجات کا قانون اور الٰہی ضمانت:قرآنِ کریم
نے اس واقعے کے بعد ایک بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے
یونس علیہ السلام کو غم سے نجات دی اور پھر ایک ایسا قانون بیان کیا جو کسی خاص
زمان و مکان کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ہے:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان:
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء: 88)
اس نجات کی
اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اگر یونس (علیہ السلام) اللہ کی
تسبیح بیان نہ کرتے، تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔(صحیح بخاری، کتاب
الانبیاء، حدیث نمبر: 3413)
توبہ کی طاقت اور اجتماعی اصلاح:حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم تاریخ کی وہ واحد قوم ہے جس پر عذاب کے بادل منڈلانے لگے تھے لیکن
ان کی توبہ نے تقدیر بدل دی۔ قرآن کہتا ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس:
98)
اسی توبہ
اور اللہ کی طرف رجوع کی اہمیت ایک اور حدیثِ مبارکہ میں بیان ہوئی ہے:
آزمائش سے سرخروئی: ایک ابدی
سبق:حضرت یونس علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کبھی بھی اللہ کی
گرفت سے باہر نہیں اور نہ ہی اس کی رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے
پیٹ سے نکال کر ساحلِ سمندر پر ایک کمزور پودے (کدو) کے سائے میں جگہ دی تاکہ آپ کی
نقاہت دور ہو سکے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ (سورۃ الصافات: 144-145)
نبی کریم ﷺ
نے حضرت یونس علیہ السلام کے بلند مقام کے بارے میں ارشاد فرمایا:کسی شخص کے لیے یہ
کہنا جائز نہیں کہ میں یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔(صحیح بخاری، حدیث
نمبر: 3415)
یہ حدیث
ہمیں سکھاتی ہے کہ انبیاء کرام کی آزمائشیں ان کے درجات کی بلندی کے لیے ہوتی ہیں
اور ہمیں ان کی زندگی سے صبر اور عجز کا سبق لینا چاہیے۔
انجامِ بخیر
اور ہماری زندگی حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی کے یہ گوشے ہمیں بتاتے ہیں کہ:
پکار کی تاثیر: جب تمام
مادی سہارے ختم ہو جائیں، تب بھی اللہ کی مدد موجود ہوتی ہے۔
خودی کا اعتراف: اپنی غلطی
کو تسلیم کرنا اور اللہ کے سامنے جھک جانا ہی اصل کامیابی ہے۔
مستقل ذکر: اللہ کی یاد وہ ڈھال ہے
جو انسان کو گھٹن زدہ زندگی سے نکال کر امن و سکون کے ساحل پر لا کھڑا کرتی ہے۔
اگر ہم آج
کے دور کی مایوسیوں، معاشی تنگیوں اور سماجی تاریکیوں سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں
بھی اسی تڑپ کے ساتھ "رجوع الی اللہ" کرنا ہوگا جو مچھلی کے پیٹ میں
بلند ہوئی تھی۔ نجات کا راستہ کل بھی وہی تھا، آج بھی وہی ہے۔
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان:
تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم
جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت
تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس:98)
تفسیر صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں
ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کیا کوئی
قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ توبہ کر کے ایمان لے
آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ قوم نہ کرتی تاکہ اس کا
ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ
عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بے شمار انبیاءِ کرام علیہم السلام کو دنیا میں بھیجا۔
ان مقدس ہستیوں نے اپنی قوموں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت، نیکی اور سچائی کی تعلیم دی۔
قرآنِ مجید میں انبیاءِ کرام کے واقعات بیان کرکے انسانوں کو نصیحت اور عبرت دی گئی
ہے۔ انہی عظیم انبیاء میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام بھی شامل ہے۔ آپ کا واقعہ
قرآنِ پاک میں نہایت مؤثر انداز میں بیان ہوا ہے جس میں صبر، توبہ، دعا اور اللہ
تعالیٰ کی رحمت کا عظیم درس موجود ہے۔حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ
نبی تھے۔ آپ کو نینویٰ کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید
اور نیکی کی دعوت دی، مگر قوم نے آپ کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ جب قوم مسلسل
نافرمانی کرتی رہی تو حضرت یونس علیہ السلام ناراض ہو کر بستی چھوڑ کر چلے گئے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصافات: 139)
حضرت یونس
علیہ السلام ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ سمندر میں سخت طوفان آیا تو کشتی والوں نے
قرعہ اندازی کی۔ قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام نکلا اور آپ کو سمندر میں ڈال
دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی
حفاظت فرمائی۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ
الصافات: 142)
مچھلی کے
پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور اخلاص کے ساتھ دعا کی۔
یہ دعا قرآنِ پاک کی مشہور دعاؤں میں شامل ہے:لَّاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ
مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء: 87)
یہ دعا
توبہ اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کا بہترین نمونہ ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام
نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اللہ تعالیٰ سے رحم کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے
اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی۔ قرآنِ مجید
میں ارشاد ہوتا ہے:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ
نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ
الانبیاء: 88)
حضرت یونس
علیہ السلام کے واقعہ سے ہمیں بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا
ہے کہ انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ مشکلات اور مصیبتوں
میں صبر اور دعا سے کام لینا چاہیے۔ اگر انسان سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ
اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں عاجزی، صبر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر یقین
کا درس دیتا ہے۔
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ پاک کے نہایت سبق آموز واقعات میں سے ایک ہے۔ اس میں
اللہ تعالیٰ کی قدرت، بندے کی عاجزی اور دعا کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ
ہم حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کو یاد رکھیں اور اپنی زندگی میں صبر، توکل اور
توبہ کو اختیار کریں۔ قرآنِ مجید انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے اور انبیاءِ
کرام کے واقعات ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک کو سمجھنے
اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حافظ
محمد مصطفٰی عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدينہ فیضان مدینہ، کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
نے انسانوں کی تربیت اور رہنمائی کے لیے بے شمار انبیاء کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام بھیجے۔ بعض انبیاء کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات
قرآن مجید میں بیان فرمائے تاکہ انسان ان واقعات سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنی
زندگی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں گزاریں۔ انہی انبیاء کرام عَلَیْہِم
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی اللہ
تعالیٰ کے ایک عظیم نبی ہیں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آپ کی قوم کا
تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (پ23، الصفت:139)
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا تعارف: آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے
ہیں۔ آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع
تھی۔ (صراط الجنان، 8/ 345)
سوال:
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قرآن مجید میں کن القابات سے یاد کیا
گیا ہے؟
جواب:
قرآن مجید میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مختلف القابات سے یاد
کیا گیا ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو “ذوالنون” اور “صاحب الحوت”
کہا گیا ہے، جن کا مطلب “مچھلی والے” ہے۔
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اپنی قوم کو تبلیغ اور قوم کا انکارِ ایمان:آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں (اپنی قوم) کو بُت پرستی
چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد
عذاب آجانے کی خبردی ۔(صراط الجنان، 8/ 345)
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی قوم کا ایمان لے آنا:آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
نے انہیں (اپنی قوم کو) بُت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے
انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی،
ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی
کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں
اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات
ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح
کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت
سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب
آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیا تو
آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو پروردگارِ عالَم نے ان پر
رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔ (صراط الجنان، 4/ 378-379)
چنانچہ
ارشاد باری تعالٰی ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ
اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا
كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ
اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (پ11، یونس:98)
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پر آزمائش آنا:حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے
بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب
کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود
نہ تھا۔ ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا، اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ (صراط
الجنان، 8/ 346)
چنانچہ
ارشاد باری تعالٰی ہے:اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ
الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ
مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس
دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ (پ23، الصفت:140-141)
مچھلی کا حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نگلنا:جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر ملامت
کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو اِلہام فرمایا: ’’میں
نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے
پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی
ان کے گوشت کو کاٹنا۔ (صراط الجنان، 8/ 348)
چنانچہ
ارشاد باری تعالٰی ہے:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ
مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:
پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے
آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (پ23، الصفت:142)
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رجوع کرنا: جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو مچھلی نے نگل لیا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر الٰہی
میں مشغول ہو گئے اور مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا ''لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھتے
رہے۔ جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ
نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو مچھلی کے پیٹ
سے نجات عطا فرمائی۔
دعا قبول ہونے کا وظیفہ:حضرت سعد
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو
مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔
(صراط الجنان، 8/ 347-348)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمائش اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی قوم کی سرگزشت سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب بھی انسان پر کوئی آزمائش یا
عذاب آئے تو اس سے نجات پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان توبہ و استغفار میں
مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگے۔ امید ہے کہ ارحم الراحمین اپنے بندوں کی
توبہ و استغفار کی برکت سے ان پر رحم فرمائے اور آزمائش و عذاب کو دور فرما دے۔اللہ
تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام زمینی و آسمانی آفات و بلیات سے محفوظ فرمائے۔
آمین!
قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات ذکر فرمائے تاکہ امت کی
راہنمائی ہو اور یہ واقعات ہدایت نصیحت کے بے شمار پہلو رکھتے ہیں انہی عظیم انبیاء
کرام علیہم السلام میں ایک جلیل القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں جن کا
تذکرہ قرآن پاک میں مختلف مقامات پر ہیں اور بالخصوص ایک سورت بھی یونس کے نام پر
اللہ عزوجل نے ذکر فرمائی ہے۔آئیے ہم حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی پر قرآن پاک
کی روشنی میں چند واقعات، آپ علیہ السلام کی زندگی ہمیشہ صبر کے ساتھ گزری،
توبہ،اللہ پاک پر کامل یقین کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے ۔اس سے پہلے آپ علیہ
السلام کا نام نسب اور ایک مختصر سا واقعہ :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃالصفت:139،140)
تفسیر
صراط الجنان:وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن،
والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴
/ ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے
کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ
انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو
جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ
گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی
مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)
ایک اور
جگہ اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے رجوع کا واقعہ بیان فرمایا چنانچہارشاد
فرمایا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)
تفسیر
صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام
پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں
ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ
کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں
کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں
واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
لہذا ان آیات
قرآنیہ اور حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے واقعات سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہم
بھی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اللہ کے حضور سر خرو ہو جائے اپنی زندگی کو اللہ پاک
کے احکامات بجالینے میں گزارے اللہ پاک کے عذاب سے ڈرنا چاہیے ۔اللہ پاک ہمیں ان
باتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
محمد
اطہر علی (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ
فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
قرآنِ کریم
میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات محض کہانی کے طور پر نہیں،
بلکہ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے بیان فرمائے ہیں۔ انہی جلیل القدر پیغمبروں میں
سے ایک حضرت یونس علیہ السلام ہیں، جن کا ذکر قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں نہایت
سبق آموز انداز میں کیا گیا ہے۔ آپ کو قرآن میں "ذو النون" (مچھلی والا)
اور "صاحب الحوت" کے القاب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام
کا نام قرآنِ کریم میں 6 مرتبہ آیا ہے۔
قرآن مجید کی دسویں سورت کا نام "سورة یونس"
ہے، جس کی آیت نمبر 98 میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم تاریخ کی
وہ واحد قوم ہے جو عذاب دیکھ کر ایمان لائی اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)
تفسیر
صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اور حضرت یونس
علیہ السلام کا ذکر ہو اور آیت کریمہ کا ذکر نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃانبیاء:87)
تفسیر
صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
اس کے
علاوہ سورۃالصافات میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے:اللہ
تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے۔وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ
الصفت:139،140)
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔(سورۃالصفت:141،142)
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ
میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ
بیمار تھا۔(سورۃالصفت:143تا 145)
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ
اگایا۔(سورۃ الصفت:146)
وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی
طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے
تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔
(سورۃالصفت:147،148)
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے میں ہمارے لیے
بے شمار مدنی پھول ہیں۔حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی کا قرآنی بیان ہمیں سکھاتا
ہے کہ انسان کتنا ہی بے بس کیوں نہ ہو اگر وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرے تو سمندر کی
گہرائیاں اور اندھیرے بھی اس سے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالی ہمیں قرآن کریم
کے اس قصہ سے ہدایت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
محمد
زاہد رضا عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ
فیضانِ مدینہ، کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ الصلاۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ آپ علیہ الصلاۃ
والسلام کو اللہ تعالیٰ نے نینوٰی کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجانینوٰی ایک بڑا شہر
تھا جہاں لوگ بت پرستی اور گناہوں میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام
نے اپنی قوم کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی اور انہیں برے کاموں سے منع
کیا، لیکن قوم نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنی
نافرمانی اور غرور میں مبتلا رہے۔
حضرت یونس
علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی قوم کو کئی سال تک سمجھایا مگر جب انہوں نے مسلسل
انکار کیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام ناراض ہو کر اللہ کے حکم کے انتظار کے بغیر
شہر چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ سمندر میں
سخت طوفان آ گیا۔ کشتی والوں نے فیصلہ کیا کہ ایک شخص کو سمندر میں ڈالنا ہوگا
تاکہ کشتی ہلکی ہو جائے۔ قرعہ اندازی ہوئی اور حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کا
نام نکلا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام سمندر میں چلے گئے جہاں اللہ کے حکم سے ایک
بڑی مچھلی نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو نگل لیا۔مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ
الصلاۃ والسلام نے اپنی غلطی کا احساس ہوااور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ اندھیروں
میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سےیہ دعا کی:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی
ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃانبیاء:87)
اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ آپ
علیہ الصلاۃ والسلام کوساحل پر اُگل دے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک بیل دار درخت اُگائی
تاکہ حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کو سایہ اور غذا مل سکے۔ جب آپ علیہ الصلاۃ
والسلام صحت یاب ہوئے تو دوبارہ اپنی قوم کی طرف گئے۔ اس مرتبہ قوم نے آپ علیہ
الصلاۃ والسلام کی بات مان لی، توبہ کی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئی۔ اس طرح
وہ اللہ کے عذاب سے بچ گئی۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:
تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا
لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب
ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃیونس:98)
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کی قوم نے سچی توبہ کی جس کی وجہ
سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳)
اس کا
مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف
علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔(سورۃ
انبیاء:87)
تفسیر
صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت
سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ
میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ
اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں :ہم نبی کریم ﷺ کے قریب بیٹھے
ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر نہ دوں
کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا نازل ہو
اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ ﷺ سےعرض کی گئی :کیوں نہیں !ارشاد فرمایا ’’(وہ
چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ،من دعا بدعوۃ ذی النون
استجاب اللہ لہ،۲ / ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷)
حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
’’جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ’’لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ
مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ کے ساتھ دعا مانگے ، پھر وہ اس مرض میں فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا
جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔( مستدرک ، کتاب
الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔
الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْهِ:تواس نے گمان کیا کہ ہم
اس پر تنگی نہ کریں گے۔
ایک ضروری
مسئلہ:امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ جس شخص
نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے، اور یہ ایسی بات ہے کہ کسی عام
مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں تو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللہ تعالیٰ کو
عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر قادر نہیں
بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔( تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ۸
/ ۱۸۰)
اور اس
طرح امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے علاوہ دیگر معتبر
مفسرین نے بھی اس آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے ۔
ان تمام آیات
مبارکہ اور حدیث کریمہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مشکل اور پریشانی کے وقت اللہ
تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے اور اپنی غلطیوں پر معافی طلب کرنی چاہیے۔حضرت یونس علیہ
الصلاۃ والسلام کے واقعے سے ہمیں بہت سے سبق سیکھنے کوملتےہیں۔
(1) سب سے پہلے یہ کہ انسان کو ہر حال میں صبر
اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔
(2) اللہ
تعالیٰ بہت مہربان ہے اور سچی توبہ قبول فرماتا ہے۔
(3) دعا مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر انسان
دل سے اللہ تعالیٰ کو پکارے تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرماتا ہے۔
حضرت یونس
علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگی ہمیں امید، صبر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے کا درس دیتی
ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں نیکی اختیار کریں، برے کاموں سے بچیں اور
ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ اللہ پاک ہمیں توکل کی عظیم نعمت عطاء
فرمائے۔
قرآنِ مجید
انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات کو محض تاریخی بیان کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت،
نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کرتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بھی انہی
بابرکت قصص میں سے ایک ہے جس میں دعوتِ دین، صبر، اللہ پر توکل، اور توبہ کی عظیم
تعلیمات پوشیدہ ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں توحید
کی طرف بلائیں، مگر ان کی قوم نے ابتدا میں انکار کیا۔ اس واقعے کے مختلف مراحل
قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر بیان ہوئے ہیں، جن سے ایک مؤمن کے لیے رہنمائی کے
کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔
(1) دعوتِ قوم اور انکار:حضرت یونس
نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا، لیکن انہوں نے انکار کیا۔ تاہم جب
عذاب کی نشانی ظاہر ہوئی تو وہ ایمان لے آئے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور
ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس:
98)
(2) قوم کو چھوڑ کر جانا اور آزمائش:حضرت یونس
اپنی قوم سے ناراض ہو کر بغیر اللہ کے حکم کے نکل گئے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔
(سورۃ الانبیاء:87)
(3) مچھلی کے پیٹ میں جانا:جب کشتی میں
قرعہ اندازی ہوئی تو انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا:
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (سورۃالصفت:141،142)
(4) توبہ اور دعا:مچھلی کے
پیٹ کے اندھیروں میں حضرت یونس نے اللہ سے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
ترجمہ کنز
العرفان: تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا
۔(سورۃ الانبیاء: 87)
یہ دعا
قرآن میں توبہ اور رجوع الی اللہ کی عظیم مثال ہے۔
(5) نجات اور اللہ کی رحمت:اللہ تعالیٰ
نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں نجات دی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔
(سورۃالانبیاء:88)
یہ واقعہ
ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل حالات میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔سچی توبہ اور خلوصِ
دل سے دعا انسان کو نجات دلاتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو
آزمائشوں سے نکال دیتا ہے۔اور ہر حال میں اسی پر بھروسا کرنا کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد
شیراز رضا عطّاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
قرآنِ مجید
انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات کو محض تاریخی بیان کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت،
نصیحت اور اصلاحِ انسانیت کے عظیم ذریعہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انہی مقدس ہستیوں
میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ نہایت اہمیت کا حامل ہے، جو صبر، رجوع الی
اللہ، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا روشن نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ
علیہ السلام کا ذکر مختلف مقامات پر فرمایا اور آپ کو "ذُوالنُّون" اور"صاحبُ
الحوت" کے لقب سے یاد کیا، جن میں آپ کی آزمائش اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد
کا بیان موجود ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اس
میں ایک نبی کی آزمائش، ان کی عاجزی، اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوری قبولیتِ
دعا کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ واقعہ انسان کو یہ
سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ
کی طرف رجوع کرے تو نجات ممکن ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:اللہ تعالیٰ
قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ الصافات: 139-140)
آپ علیہ
السلام کا نام "یونس بن متیٰ"ہے اور آپ حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں
سے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا لقب "ذُوالنُّون" اور"صاحبُ الحوت"
ہے۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصل کے علاقے میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع تھی۔آپ
علیہ السلام نے تقریباً چالیس سال تک اپنی قوم کو بت پرستی چھوڑنے اور توحیدِ باری
تعالیٰ کو اختیار کرنے کی دعوت دی، لیکن قوم نے مسلسل انکار کیا اور سرکشی پر قائم
رہی۔ اس پر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن بعد عذاب آنے کی
خبر دی۔(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: 139)
قوم کی نافرمانی اور حضرت یونس علیہ
السلام کی روانگی:جب عذاب کے آنے میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے مسلسل
کفر و نافرمانی پر غضبناک ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ گمان
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر کوئی تنگی نہیں فرمائے گا اور نہ ہی اس فعل پر باز
پرس ہوگی۔
مفسرین نے
بیان کیا ہے کہ اس قوم کا دستور تھا کہ اگر کسی شخص کی بات بظاہر غلط ثابت ہوجائے
تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے۔ چونکہ فی الحال عذاب نازل نہ ہوا تھا، اس لیے قوم حضرت
یونس علیہ السلام کو جھٹلانے اور نقصان پہنچانے کے درپے تھی۔ اسی اندیشے کے تحت آپ
علیہ السلام وہاں سے نکل گئے۔
حضرت
عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت یونس علیہ
السلام دریائی سفر کے لیے ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب کشتی سمندر کے
درمیان پہنچی تو اچانک رک گئی۔ ملاحوں نے کہا کہ اس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام
موجود ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی اور ہر مرتبہ حضرت یونس علیہ السلام کا نام
نکلا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا:میں ہی وہ غلام ہوں۔اس کے بعد آپ علیہ السلام دریا
میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔(خازن،
الصافات، تحت الآیۃ: 140)
مچھلی کے پیٹ میں دعا اور اللہ تعالیٰ
کی رحمت:حضرت یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں پہنچے تو آپ علیہ السلام نے
انتہائی عاجزی اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی:لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَترجمۂ
کنزالایمان:تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ
الانبیاء: 87)
یہ دعا
قرآنِ کریم کی عظیم ترین دعاؤں میں شمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ
السلام کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی۔
قرآنِ مجید
میں ارشاد ہوتا ہے:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ
نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ
الانبیاء: 88)
یہ آیت اس
حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، اللہ
تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔
واقعۂ یونس علیہ السلام سے حاصل
ہونے والے اسباق:
(1) صبر و
استقامت:حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دعوتِ دین کے
راستے میں مشکلات اور آزمائشیں آتی ہیں، لیکن صبر اور استقامت اختیار کرنا ضروری
ہے۔
(2)رجوع
الی اللہ:انسان جب بھی کسی مشکل میں مبتلا ہو تو اسے مایوس ہونے کے بجائے اللہ
تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ حقیقی نجات اسی کے اختیار میں ہے۔
(3) دعا کی
اہمیت:حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ مانگی
گئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔
(4)اللہ
تعالیٰ کی رحمت:یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اپنے
بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور انہیں مشکلات سے نجات عطا کرتا ہے۔
(5) عاجزی
و انکساری:حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی غلطی پر فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
عاجزی اختیار کی، جو ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آخر میں یہ
بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید میں صبر، توبہ،
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بندگی کا عظیم درس دیتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم
کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، لیکن جب قوم نے نافرمانی کی تو آپ ناراض ہو کر بستی
سے چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت مچھلی کے پیٹ میں پہنچے، جہاں آپ نے
عاجزی اور اخلاص کے ساتھ دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول فرمائی اور
دوبارہ عزت و کامیابی عطا فرمائی۔
قرآنِ کریم
اس واقعے کے ذریعے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مشکلات اور آزمائشوں میں مایوس
ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
امتِ
مسلمہ کے لیے توبہ، امید اور رحمتِ الٰہی کا عظیم خزانہ ہے۔اس واقعے سے یہ بھی
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزمائش میں ڈال کر ان کے درجات
بلند فرماتا ہے۔ جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس
کی دعا قبول فرماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت سے
صبر، عاجزی، توکل اور رجوع الی اللہ کا سبق حاصل کریں اور اپنی زندگی کو قرآن و
سنت کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔
Dawateislami