اللہ پاک نے انسانوں کی تربیت اور رہنمائی کے لیے بے شمار انبیاء کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھیجے۔ بعض انبیاء کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات قرآن مجید میں بیان فرمائے تاکہ انسان ان واقعات سے رہنمائی حاصل کریں اور اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں گزاریں۔ انہی انبیاء کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی اللہ تعالیٰ کے ایک عظیم نبی ہیں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آپ کی قوم کا تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (پ23، الصفت:139)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تعارف: آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ (صراط الجنان، 8/ 345)

سوال: حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قرآن مجید میں کن القابات سے یاد کیا گیا ہے؟

جواب: قرآن مجید میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مختلف القابات سے یاد کیا گیا ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو “ذوالنون” اور “صاحب الحوت” کہا گیا ہے، جن کا مطلب “مچھلی والے” ہے۔

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اپنی قوم کو تبلیغ اور قوم کا انکارِ ایمان:آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں (اپنی قوم) کو بُت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔(صراط الجنان، 8/ 345)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا ایمان لے آنا:آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں (اپنی قوم کو) بُت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیا تو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو پروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔ (صراط الجنان، 4/ 378-379)

چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (پ11، یونس:98)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر آزمائش آنا:حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا، اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ (صراط الجنان، 8/ 346)

چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ (پ23، الصفت:140-141)

مچھلی کا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نگلنا:جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو اِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔ (صراط الجنان، 8/ 348)

چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (پ23، الصفت:142)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رجوع کرنا: جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مچھلی نے نگل لیا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر الٰہی میں مشغول ہو گئے اور مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا ''لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھتے رہے۔ جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی۔

دعا قبول ہونے کا وظیفہ:حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ (صراط الجنان، 8/ 347-348)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمائش اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی سرگزشت سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب بھی انسان پر کوئی آزمائش یا عذاب آئے تو اس سے نجات پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان توبہ و استغفار میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگے۔ امید ہے کہ ارحم الراحمین اپنے بندوں کی توبہ و استغفار کی برکت سے ان پر رحم فرمائے اور آزمائش و عذاب کو دور فرما دے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام زمینی و آسمانی آفات و بلیات سے محفوظ فرمائے۔ آمین!