ریجیکٹ:حوالہ جات نہیں

حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہایت اہمیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آپ کا قصہ صبر، توبہ، اور اللہ کی رحمت کی وسعت کا ایک عظیم درس ہے۔ قرآن مجید کی ایک پوری سورت،سورہ یونس آپ کے نام سے منسوب ہے، جبکہ قرآن مجید میں اور جگہوں پر بھی آپ کا ذکر ملتا ہے۔

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (141)فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(142)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصفت:141،142)

حضرت یونس علیہ السلام کو نینوی کے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہاں کی آبادی ایک لاکھ سے زائد تھی جو بت پرستی اور گمراہی میں غرق تھی۔ آپ نے طویل عرصے تک انہیں حق کی دعوت دی، لیکن قوم نے آپ کا مذاق اڑایا اور ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ جب قوم کی سرکشی حد سے بڑھ گئی، تو حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں اللہ کے عذاب کی وعید سنائی اور اللہ کے حتمی حکم کا انتظار کیے بغیر غصے کی حالت میں بستی چھوڑ کر چلے گئے۔ قرآن پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی ایک منفرد خصوصیت بیان کی گئی ہے۔ جب آپ بستی سے نکل گئے اور عذاب کے آثار نمودار ہونے لگے، تو قوم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے خلوصِ دل سے توبہ کی اور اللہ سے معافی مانگی۔ دوسری طرف حضرت یونس علیہ السلام ایک کشتی میں سوار ہوئے جو بوجھ کی وجہ سے ڈوبنے لگی۔ قرعہ اندازی کی گئی تو آپ کا نام نکلا، جس کے نتیجے میں آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ اللہ کے حکم سے ایک عظیم مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں آپ کو احساس ہوا کہ اللہ کی اجازت کے بغیر بستی چھوڑنا ایک اجتہادی غلطی تھی۔ اس کٹھن گھڑی میں آپ نے اللہ کو پکارا اور آپ نے ان کلمات کا ورد کثرت سے کیا کرتےلَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ترجمہ کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃانبیاء 87)

اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس مخلصانہ پکار کو سنا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔ آپ نقاہت کی حالت میں تھے، چنانچہ اللہ نے آپ کی حفاظت کے لیے وہاں کدو کی بیل اگا دی تاکہ آپ کو سایہ اور غذا میسر آ سکے۔ صحت یاب ہونے کے بعد آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے، جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد نے آپ کا استقبال کیا اور ایمان لائے حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہونا چاہیے کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، اللہ کی طرف رجوع کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ خلوصِ دل سے مانگی گئی معافی آئے ہوئے عذاب کو بھی روک سکتی ہے۔اس واقعہ سے ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ داعیِ حق کو ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے قرآن پاک میں آپ کو ذوالنون اور صاحب حوت کے القاب سے بھی یاد کیا گیا ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے عاجزی اور دعا کی علامت ہیں۔

اللہ پاک ہمیں بھی حضرت یونس علیہ السلام کے صبر میں سے کچھ حصہ عطا فرمائے۔ آمین