محمد
شیراز رضا عطّاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
قرآنِ مجید
انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات کو محض تاریخی بیان کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت،
نصیحت اور اصلاحِ انسانیت کے عظیم ذریعہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انہی مقدس ہستیوں
میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ نہایت اہمیت کا حامل ہے، جو صبر، رجوع الی
اللہ، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا روشن نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ
علیہ السلام کا ذکر مختلف مقامات پر فرمایا اور آپ کو "ذُوالنُّون" اور"صاحبُ
الحوت" کے لقب سے یاد کیا، جن میں آپ کی آزمائش اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد
کا بیان موجود ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اس
میں ایک نبی کی آزمائش، ان کی عاجزی، اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوری قبولیتِ
دعا کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ واقعہ انسان کو یہ
سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ
کی طرف رجوع کرے تو نجات ممکن ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:اللہ تعالیٰ
قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ الصافات: 139-140)
آپ علیہ
السلام کا نام "یونس بن متیٰ"ہے اور آپ حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں
سے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا لقب "ذُوالنُّون" اور"صاحبُ الحوت"
ہے۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصل کے علاقے میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع تھی۔آپ
علیہ السلام نے تقریباً چالیس سال تک اپنی قوم کو بت پرستی چھوڑنے اور توحیدِ باری
تعالیٰ کو اختیار کرنے کی دعوت دی، لیکن قوم نے مسلسل انکار کیا اور سرکشی پر قائم
رہی۔ اس پر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن بعد عذاب آنے کی
خبر دی۔(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: 139)
قوم کی نافرمانی اور حضرت یونس علیہ
السلام کی روانگی:جب عذاب کے آنے میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے مسلسل
کفر و نافرمانی پر غضبناک ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ گمان
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر کوئی تنگی نہیں فرمائے گا اور نہ ہی اس فعل پر باز
پرس ہوگی۔
مفسرین نے
بیان کیا ہے کہ اس قوم کا دستور تھا کہ اگر کسی شخص کی بات بظاہر غلط ثابت ہوجائے
تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے۔ چونکہ فی الحال عذاب نازل نہ ہوا تھا، اس لیے قوم حضرت
یونس علیہ السلام کو جھٹلانے اور نقصان پہنچانے کے درپے تھی۔ اسی اندیشے کے تحت آپ
علیہ السلام وہاں سے نکل گئے۔
حضرت
عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت یونس علیہ
السلام دریائی سفر کے لیے ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب کشتی سمندر کے
درمیان پہنچی تو اچانک رک گئی۔ ملاحوں نے کہا کہ اس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام
موجود ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی اور ہر مرتبہ حضرت یونس علیہ السلام کا نام
نکلا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا:میں ہی وہ غلام ہوں۔اس کے بعد آپ علیہ السلام دریا
میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔(خازن،
الصافات، تحت الآیۃ: 140)
مچھلی کے پیٹ میں دعا اور اللہ تعالیٰ
کی رحمت:حضرت یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں پہنچے تو آپ علیہ السلام نے
انتہائی عاجزی اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی:لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَترجمۂ
کنزالایمان:تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ
الانبیاء: 87)
یہ دعا
قرآنِ کریم کی عظیم ترین دعاؤں میں شمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ
السلام کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی۔
قرآنِ مجید
میں ارشاد ہوتا ہے:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ
نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ
الانبیاء: 88)
یہ آیت اس
حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، اللہ
تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔
واقعۂ یونس علیہ السلام سے حاصل
ہونے والے اسباق:
(1) صبر و
استقامت:حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دعوتِ دین کے
راستے میں مشکلات اور آزمائشیں آتی ہیں، لیکن صبر اور استقامت اختیار کرنا ضروری
ہے۔
(2)رجوع
الی اللہ:انسان جب بھی کسی مشکل میں مبتلا ہو تو اسے مایوس ہونے کے بجائے اللہ
تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ حقیقی نجات اسی کے اختیار میں ہے۔
(3) دعا کی
اہمیت:حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ مانگی
گئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔
(4)اللہ
تعالیٰ کی رحمت:یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اپنے
بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور انہیں مشکلات سے نجات عطا کرتا ہے۔
(5) عاجزی
و انکساری:حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی غلطی پر فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
عاجزی اختیار کی، جو ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آخر میں یہ
بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید میں صبر، توبہ،
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بندگی کا عظیم درس دیتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم
کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، لیکن جب قوم نے نافرمانی کی تو آپ ناراض ہو کر بستی
سے چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت مچھلی کے پیٹ میں پہنچے، جہاں آپ نے
عاجزی اور اخلاص کے ساتھ دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول فرمائی اور
دوبارہ عزت و کامیابی عطا فرمائی۔
قرآنِ کریم
اس واقعے کے ذریعے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مشکلات اور آزمائشوں میں مایوس
ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
امتِ
مسلمہ کے لیے توبہ، امید اور رحمتِ الٰہی کا عظیم خزانہ ہے۔اس واقعے سے یہ بھی
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزمائش میں ڈال کر ان کے درجات
بلند فرماتا ہے۔ جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس
کی دعا قبول فرماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت سے
صبر، عاجزی، توکل اور رجوع الی اللہ کا سبق حاصل کریں اور اپنی زندگی کو قرآن و
سنت کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔
Dawateislami