حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے نینوٰی کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجانینوٰی ایک بڑا شہر تھا جہاں لوگ بت پرستی اور گناہوں میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی قوم کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی اور انہیں برے کاموں سے منع کیا، لیکن قوم نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنی نافرمانی اور غرور میں مبتلا رہے۔

حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی قوم کو کئی سال تک سمجھایا مگر جب انہوں نے مسلسل انکار کیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام ناراض ہو کر اللہ کے حکم کے انتظار کے بغیر شہر چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ سمندر میں سخت طوفان آ گیا۔ کشتی والوں نے فیصلہ کیا کہ ایک شخص کو سمندر میں ڈالنا ہوگا تاکہ کشتی ہلکی ہو جائے۔ قرعہ اندازی ہوئی اور حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کا نام نکلا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام سمندر میں چلے گئے جہاں اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو نگل لیا۔مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی غلطی کا احساس ہوااور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ اندھیروں میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سےیہ دعا کی:

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃانبیاء:87)

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کوساحل پر اُگل دے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک بیل دار درخت اُگائی تاکہ حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کو سایہ اور غذا مل سکے۔ جب آپ علیہ الصلاۃ والسلام صحت یاب ہوئے تو دوبارہ اپنی قوم کی طرف گئے۔ اس مرتبہ قوم نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی بات مان لی، توبہ کی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئی۔ اس طرح وہ اللہ کے عذاب سے بچ گئی۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃیونس:98)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کی قوم نے سچی توبہ کی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔

فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳)

اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔(سورۃ انبیاء:87)

تفسیر صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)

مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)

حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم ﷺ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر نہ دوں کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ ﷺ سےعرض کی گئی :کیوں نہیں !ارشاد فرمایا ’’(وہ چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ،من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب اللہ لہ،۲ / ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷)

حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ کے ساتھ دعا مانگے ، پھر وہ اس مرض میں فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔( مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)

فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْهِ:تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے۔

ایک ضروری مسئلہ:امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ جس شخص نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے، اور یہ ایسی بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں تو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر قادر نہیں بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔( تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ۸ / ۱۸۰)

اور اس طرح امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے علاوہ دیگر معتبر مفسرین نے بھی اس آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے ۔

ان تمام آیات مبارکہ اور حدیث کریمہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مشکل اور پریشانی کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے اور اپنی غلطیوں پر معافی طلب کرنی چاہیے۔حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کے واقعے سے ہمیں بہت سے سبق سیکھنے کوملتےہیں۔

(1) سب سے پہلے یہ کہ انسان کو ہر حال میں صبر اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔

(2) اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اور سچی توبہ قبول فرماتا ہے۔

(3) دعا مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر انسان دل سے اللہ تعالیٰ کو پکارے تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرماتا ہے۔

حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگی ہمیں امید، صبر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے کا درس دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں نیکی اختیار کریں، برے کاموں سے بچیں اور ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ اللہ پاک ہمیں توکل کی عظیم نعمت عطاء فرمائے۔