محمد
حسن رضا (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
انبیاء
عَلَيْهِمُ السَّلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیروں موتیوں کی
طرح جگمگاتی شخصیات ہیں جنہیں خدا نے وحی کے نور سے روشنی بخشی، حکمتوں کے سرچشمے
ان کے دلوں میں جاری فرمائے اور سیرت و کردار کی وہ بلندیاں عطا فرمائیں جن کی
تابانی سے مخلوق کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ ان کی ربانی سیر توں، راہِ خدا میں
کاوشوں اور خدائی پیغام پہنچانے میں اٹھائی گئی مشقتوں میں تمام انسانیت کے لئے
عظمت، شوکت، کردار، ہمت، حوصلے اور استقامت کا عظیم درس موجود ہے۔ ان کی سیرت کا
مطالعہ آنکھوں کو روشنی، روح کو قوت، دلوں کو ہمت، عقل کو نور ، سوچ کو وسعت،
کردار کو حسن، زندگی کو معنویت، بندوں کو نیاز اور قوموں کو عروج بخشا ہے۔اور انہی
انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام بھی ہے جن کا واقعہ
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر آیا ہے۔ اللہ پاک نے انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا
راہنمائی کے لیے لیکن انہوں نے ان کی نا مانی اور یہ ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے
اس کے بعد اللہ پاک نے انہیں آزمائش میں ڈال دیا اور وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئیں
اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا کی اور اللہ نے انہیں اس سے نجات عطا
فرمائی ۔
آپ کا نام
یونس علیہ السلام ہے۔ آپ کے والد محترم کا نام "متی" ہے۔ بعض مورخین نے
لکھا ہے کہ ”متی “ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ہے اور حضرت عیسیٰ اور حضرت یونس علیہما
السلام اپنی اپنی والدہ کی طرف ہی منسوب ہوتے ہیں۔ مگر یہ قول انتہائی ضعیف ہے۔ آپ
کے والد کا نام ہی ملتی ہے۔ بخاری میں اسی طرح مذکور ہے۔ ابن حجر نے بھی اس کی تصحیح
کی ہے ۔ حضرت عطاء سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت کعب سے متی" کے بارے
پوچھا کہ کیا یہ حضرت یونس علیہ السلام کے والد کا نام ہے یا والدہ کا ؟ انہوں نے
فرمایا " یہ ان کے والد ماجد کا نام ہے۔ ان کی والدہ کا نام بدورۃ ہے۔ آپ
حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ قرآن پاک میں آپ کا تذکرہ " ذا
النون “ اور كَصَاحِبِ الْحُوتِ سے بھی کیا گیا ہے۔ (قصصُ الانبياء علیہم السلام صفہ
404)
حضرت یونس
علیہ السلام اور ان کی قوم: حضرت یونس علیہ السَّلام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ
لوگ موصل کے علاقے نینوی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام ان کی طرف رسول بنا کر بھیجے۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک
بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار
اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ طویل عرصے تک پوری
کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آئے تو آپ علیہ السّلام نے بارگاہ الہی میں
دعا کی : اے اللہ! قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے ، پس تو ان پر اپنا عذاب نازل
کر دے۔ اس پر ان سے فرمایا گیا: آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان
پر عذاب نازل ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے قوم کو نزول عذاب کی خبر دے دی
۔
قوم یونس کی توبہ اور رفع عذاب: نزول
عذاب کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا : حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو
حضرت یونس علیہ السّلام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار
ہو گئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور
تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے، انہوں نے
حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا لیکن آپ کو نہ پایا ، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ
ہوا۔ یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنی عورتوں، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل
گئے ، موٹے کپڑےپہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے
جدا ہو گئے اور سب نے بارگاہ الہی میں گریہ وزاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے جو
دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے سچی
توبہ کی اور جو جرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتی کہ
اگر دوسرے کا ایک پتھر کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر
نکال دیا اور واپس کر دیا۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو
پر وردگار عالم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔قرآن کریم
میں ہے :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس: آیت:98)
اس مقام
پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرعون کے بارے میں ذکر
فرمایا کہ اس نے آخری وقت تو بہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے
ان کی توبہ قبول فرمائی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے ؟ امام فخر الدین رازی رحمۃ
الله علیہ ہے؟ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس علیہ
السلام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے
بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہو میں
جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے
اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی۔ اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزول عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں
البتہ نزول عذاب سے پہلے صرف علامات عذاب کے ظہور کے بعد تو بہ قبول ہو سکتی ہے۔(سیرتُ
الانبیاء صفحہ 493اور494)
مذکورہ آیت
مبارکہ کی تفسیر میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ
ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ
تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے
انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت
یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے
حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں
رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے
کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے
تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت
ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں
یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ
لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن
کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے
بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے
سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی
کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر
نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں
توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(تفسیر
صراط الجنان)
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں ان کے صدقے دین و دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے آمین۔
محمد
حسان رضا(درجہ خامسہ مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ اللہ نے انہیں اپنی قوم
کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ آپ اپنی قوم کو اللہ کی عبادت اور برے کاموں سے بچنے کی نصیحت
کرتے تھےقرآنِ مجید میں انبیاءِ کرام کے واقعات انسانوں کی ہدایت اور نصیحت کے لیے
بیان کیے گئے ہیں۔ انہی عظیم پیغمبروں میں حضرت یونس بھی شامل ہیں۔ آپ نے اپنی قوم
کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور انہیں نیکی کی طرف بلایا۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ صبر، توبہ، دعا اور اللہ
پر بھروسے کا بہترین سبق دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں آپ کا ذکر مختلف مقامات پر آیا
ہے، جن سے ہمیں ایمان اور اللہ کی رحمت کے بارے میں اہم باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔جیسے
قرآن پاک میں ہے :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس:98)
تفسیر
صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
ابو
ثوبان عبدالرحمن مدنی عطاری (درجہ تخصص فی اللغۃ العربیہ فیضان مدینہ کاہنہ نو
،لاہور،پاکستان)
قرآنِ
مجید انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو انسان کی ہدایت اور تربیت کے لیے بیان
کرتا ہے۔ انہی میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ نہایت سبق آموز اور ایمان افروز
ہے۔ اس واقعہ میں صبر، توبہ، اللہ پاک کی رحمت اور بندے کی عاجزی کا روشن پہلو
سامنے آتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کا تعلق حضرت ہود علیہ السلام کی نسل سے ہے۔
آپ علیہ السلام کو نینویٰ ( عراق کا شہر)کی قوم کی طرف بھیجا گیا جو موصل کے علاقے
میں دجلہ کے کنارے آباد تھی۔ آپ علیہ السلام نے تقریباً چالیس سال تک انہیں توحید
کی دعوت دی مگر انہوں نے انکار کیا اور شرک پر قائم رہے۔حضرت یونس علیہ السلام نے
اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اللہ پاک کی عبادت کرو اور بت پرستی چھوڑ دو، مگر
انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا۔ جب طویل عرصہ گزر گیا اور قوم نہ مانی تو آپ
علیہ السلام نے اللہ پاک سے ان پر عذاب کی دعا کی۔ پھر آپ علیہ السلام کو خبر دی
گئی کہ تین دن بعد عذاب آئے گا۔
قوم کی توبہ اور عذاب کا ٹل جانا:آپ علیہ
السلام نے جب قوم کو عذابِ الٰہی کی خبر دی تو لوگ پریشان ہو گئے اور کہنے لگے کہ
اگر حضرت یونس علیہ السلام رات ہمارے درمیان رہے تو خطرہ نہیں، ورنہ عذاب ضرور آئے
گا۔ چنانچہ رات کو آپ علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے۔ صبح ہوتے ہی آسمان پر
سیاہ بادل اور دھوئیں کے آثار ظاہر ہوئے تو قوم گھبرا گئی۔ وہ سب اپنے اہل و عیال
کے ساتھ میدان میں نکل آئے، سچے دل سے توبہ کی، حقوق واپس کیے اور اللہ تعالیٰ کے
حضور گڑگڑانے لگے۔ اس اخلاص کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔
ارشاد
فرمایا: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس:98)
حضرت یونس علیہ السلام کا ہجرت کرنا:حضرت یونس
علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہ تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ
عذاب کے آنے میں تاخیر ہو رہی ہے تو قوم کی نافرمانی پر رنجیدہ ہو کر اللہ تعالیٰ
کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ یہ آپ علیہ السلام کا اجتہادی
فیصلہ تھا۔ ارشاد فرمایا:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء:87)
سمندر، مچھلی اور آزمائش: آپ علیہ السلام وہاں سے نکل کر ایک
کشتی میں سوار ہوئے۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو اچانک رک گئی اور اس کے رکنے
کا کوئی ظاہری سبب بھی نظر نہ آیا۔ کشتی والوں نے کہا کہ اس میں کوئی بھاگا ہوا
غلام ہے، اس لیے قرعہ اندازی کی جائے۔ چنانچہ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت یونس علیہ
السلام کا نام نکلا۔ آپ علیہ السلام نے خود کو پیش کیا اور سمندر میں ڈال دیے
گئے۔پھر ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کو
احساس ہوا کہ جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرنا
چاہیے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے، یوں
مچھلی کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے ایک محفوظ جگہ بن گیا جہاں آپ علیہ السلام
اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہے۔ارشاد فرمایا:
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ
الانبیاء: 87)
دعا کی قبولیت:اللہ پاک نے
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء:88)
تسبیح کی برکت:
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ
الصافات:143،144)
اللہ پاک
نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکال کر زمین پر ڈال دیا۔ آپ علیہ
السلام کمزور تھے، اس لیے اللہ پاک نے آپ پر سایہ اور غذا کا انتظام فرمایا۔ بعد
میں آپ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف دوبارہ تشریف لائے تو وہ ایمان لا چکی تھی اور
اللہ پاک نے انہیں عافیت عطا فرمائی۔
اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:دعوت میں صبر ضروری ہے،توبہ
کا دروازہ کھلا ہے،اللہ پاک کی رحمت بہت وسیع ہے،مصیبت میں ذکر اور دعا نجات کا
ذریعہ ہیں۔
عمیر
احمد (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی ،پاکستان)
انبیاءِ
کرام علیہم السلام کے واقعات انسان کے لیے ہدایت اور نصیحت کا بہترین ذریعہ ہیں۔
ان ہی مبارک واقعات میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ نہایت اہمیت رکھتا ہے، جو
ہمیں صبر، توبہ اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اس
واقعہ کو بڑے مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی غلطیوں سے سبق حاصل
کرے اور ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرے۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی سچی دعا کو قبول فرماتا ہے اور انہیں مشکلات سے نجات
عطا کرتا ہے۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ
الصفت:139،140)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنَّ
یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ
ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب
ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل
کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے
کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ
کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت
الآیۃ: ۱۳۹، ۷
/ ۴۸۶)
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن،
والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴
/ ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے
کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ
انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو
جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ
گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی
مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصفت:141،142)
تفسیر
صراط الجنان:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔ جب
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا
ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے
مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے
لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو
ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت
الآیۃ: ۱۴۲، ۷
/ ۴۸۷، ملخصاً)
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ
میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ
بیمار تھا۔(سورۃ الصفت:143تا 145)
تفسیر
صراط الجنان:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ: تو اگر وہ تسبیح کرنے
والا نہ ہوتا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں
’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت
کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۳-۱۴۴، ۴
/ ۲۷)
دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ
مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا
قبول کی جائے گی۔( ابن عساکر، حرف السین فی آبائہم، عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔
الخ، ۴۵ / ۳۸)
تو اللہ
تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ الصفت:143،144)
اس کے برعکس فرعون ساری زندگی تو سرکش، نافرمان
اور اللہ تعالیٰ کو بھولا رہا لیکن جب وہ ڈوبنے لگا توخدا کو یاد کرکے کہنے لگا:’’اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا
اِسْرَآءِیْلَ‘‘
ترجمۂ کنزُالعِرفان: میں اِس بات
پر ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ۔(یونس:۹۰)
تواللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’ آلْــٴٰـنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ‘‘
ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اُسے کہا گیا)کیا
اب (ایمان لاتے ہو؟) (یونس:۹۱)
حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمان
رہا۔( تفسیرکبیر، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۳-۱۴۴، ۹ / ۳۵۷)
فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا۔
جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا مانگی تواللہ تعالیٰ نے انہیں
مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے
آپ ایسے کمزور، دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے،آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی اوربدن پر کوئی بال
باقی نہ رہا تھا۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۷ / ۴۸۸)
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اَقوال ہیں ۔ اُسی دن یا3دن یا7دن
یا20دن یا40دن کے بعد آپ مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے ۔( جلالین، الصافات، تحت الآیۃ:
۱۴۵، ص۳۷۸)
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی مشکل میں کیوں
نہ ہو، اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔ جب بندہ اخلاص کے
ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے تو اندھیری سے اندھیری گھڑی بھی روشنی میں بدل جاتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں ذمہ داری، صبر اور اللہ کی طرف رجوع کی اہمیت سکھاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکام کو مقدم رکھیں اور ہر حال میں اسی کی
طرف رجوع کریں، کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے۔
اللہ پاک
نے مخلوق میں سے اپنے چنے ہوئے بندوں کو نبوت کا تاج عطا فرمایا۔ انہیں خوش نصیبوں
میں ایک مبارک ہستی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں۔آپ علیہ السلام کا مبارک نام
"یونس بن متی" اور لقب "ذوالنون" ہے آپ علیہ السلام حضرت ھود
علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے ۔الله پاک نے آپ علیہ السلام کے نام پر قرآن مبین
میں ایک پوری سورت نازل فرمائی ۔اس کے علاوہ اور مقامات پر بھی آپ علیہ السلام کا
ذکر فرمایا ان میں سے چند یہاں ذکر کیے جا رہے ہیں۔چنانچہ الله پاک ارشاد فرماتا
ہے :
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا
فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور اسماعیل اور یَسَع اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی)اور ہم نے سب
کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ (سورۃ
الانعام:86)
اس آیت سے
معلوم ہوا انبیاء کرام علیہم السلام فرشتوں سے بھی افضل ہیں بلکہ تمام مخلوق سے
افضل ہیں ۔
ایک اور
مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (سورۃ الصفت:139)
آپ علیہ
السلام کو کسی سبب سے کئی دن مچھلی کے پیٹ میں رکھا گیا آپ علیہ السلام زندہ
رہے۔پھر ایک دعا کی برکت سے آپ علیہ السلام کو مچھلی سے نجات ملی۔الله پاک نے اس
دعا کو قرآن پاک میں یوں بیان فرمایا۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبياء:87)
جواس دعاء
" لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ" کو مصیبت میں پڑھے گا اللہ
پاک اسے مصیبت سے نجات عطا فرمائے گا ۔ آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھا گیا
اسکی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم کے دعوت قبول نہ کرنے اور اللہ پاک کی
نا فرمانی کرنے کی وجہ سے غضب ناک ہو کر بستی سے تشریف لے گئے تھے جبکہ الله پاک
کا حکم نہیں آیا تھا ۔یہاں ایک بات یاد رہے یہ الله پاک اور اس کے مقرب بندے یونس
علیہ السلام کا معاملہ ہے الله پاک خالق و مالک ہے۔ کسی اور کو یہ اجازت نہیں کہ
وہ اس بناء پر الله کے نبی یونس علیہ السلام کی شان میں کمزور بات کرے الله پاک نے
آپ علیہ السلام کو چن لیا اور اپنے مقرب بندوں میں رکھا جس کی طرف ان آیات مبارکہ
میں اشارہ فرمایا ہے۔
لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ
وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر اس کے رب کی نعمت اسے
نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور
اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ (سورة القلم:49.50)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی وجہ سے
اللہ تعالیٰ نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی۔مذکورہ آیات
سے معلوم ہوا مصیبت میں اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں دعا و التجاء کرنا الله پاک
کے نیک بندوں کا طریقہ ہے۔ ہم پر بھی اگر مشکل آئے تو ہمیں بھی الله پاک سے عرض
کرنی چاہیے ۔اسکے ذکر میں اور اسکے احکامات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاریے۔
الله پاک
اپنے انبیاء کرام بالخصوص آخری نبی محمد عربی صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے صدقے
ہماری بے حساب مغفرت فرمائے اور اپنا مخلص بندہ بنائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی
الله علیہ وآلہ وسلم ۔
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع
اِنسان کی اصلاح و ہدایت کے لیے مختلف قوموں کی طرف مختلف پیغمبروں کو مبعوث فرمایا
ان میں سے ایک بہت ہی شان والے نبی حضرت یونس علیہ السلام ہیں حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت
ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی
تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت
کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو
جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان :
139، 7 / 486)
اپنے دور میں فضیلت والے : اللہ تعالیٰ نے انبیاء
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت
کے ساتھ ممتاز فرمایا ہے جیسے اللہ پاک کا فرمان ہے:
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا
عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے
وقت میں سب پر فضیلت دی۔ (سُورۃ الانعام،آیت
نمبر 86)
وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَ:اور ہم نے سب کو تمام
جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اِس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاءِ کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ عالَم یعنی جہان میں
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور
جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔ (خازن،
الانعام، تحت الآیۃ: 86، 2 / 33)
یونس علیہ السلام پیغمبر تھے :حضرت یونس علیہ السلام کے پیغمبر
ہونے پر قرآن شاھد ہے یہ بھی کمال فضیلت کے بات ہے کہ خود رب العالمین ان کے مرتبے
اور مقام کو بیان فرمائے ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سُورۃ الصافات،آیت نمبر 139,140)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب
اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و
نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی
ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا
کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گا پھر آپ کا کشتی میں سوار ہونا اور
مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے جانا یہ سب واقع ہوا ۔
علامہ
احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب
عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا
کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا
دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید
کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے
ل ئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ
کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: 140، 5 / 1752، ملخصاً)
سچی توبہ کی برکت : قوم یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ
سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا
قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سُورۃ یونس،آیت نمبر 98)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: 98، 6 / 303) اس کا مطلب یہ نکلا
کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب
کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ ہماری
مغفرت فرمائے آمین۔
قرآن مجید
میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں احکام کو ذکر فرمایا ہے وہیں انبیاء کرام علیہم
السلام کے واقعات کو بھی جابجا بیان فرمایا ہے ان برگزیدہ ہستیوں کے تذکرے میں
کفار کے بیہودہ اور باطل اعتراضات کے جوابات دینا ، انبیاء کرام علیہم السلام پر
نازل ہونے والی نعمتوں کا ذکر کرنا ، مصائب و آلام پر صبر کرنا ، اہل ایمان کیلئے
پختگیٔ ایمان جیسی حکمتیں وغیرہ بیان ہوئیں ہیں۔انہیں انبیائے کرام علیہم السلام
کے قرآنی واقعات میں سے ایک پر حکمت ، سبق آموز واقعہ حضرت یونس علیہ السلام کا بھی
ہے۔
آپ کے
واقعے کو قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا
ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پارہ
نمبر 17، سورۃ الانبیاء، آیت 87 )
تفسیر
خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت مفتی نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: حضرت یونس ابن متی کو اپنی قوم سے جس نے ان کی دعوت قبول نہ کی تھی نصیحت
نہ مانی تھی اور کفر پر قائم رہی تھی آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے
کیونکہ اس کا سبب سرف کفر اور اھل کفر کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لیے غضب
کرنا لیکن آپ نے اس ہجرت میں حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا تو اللہ پاک نے انہیں
مچھلی کے پیٹ میں ڈالا اور کئی قسم کی اندھیریا تھیں دریا کی اندھیری، مچھلی کے پیٹ
کی اندھیری ان اندھیریوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح
دعا کی کہ میں اپنی قوم سے قبل تیرا اذن پانے کے جدا ہوا حدیث شریف میں آتا ہے کہ
جو کوئی مصیبت زدہ بارگاہ الٰہی میں ان کلمات سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا
قبول فرماتا ہے اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے
کنارے پہنچادیا۔
آپ کی چند خصوصیات :آپ ایک ہی
قوم میں دو بار مبعوث ہوئے،پہلی بعثت میں ایک بھی مومن نہ ہوا اور دوسری بعثت میں
سب ہی ایمان لے آئے،صرف آپ کی امت کی تعداد و توصیف قرآن مجید میں صراحتاً بیان کی
گئی ۔( تفسیر نعیمی ، ج 17 ، ص 340)
آیت مبارکہ کا فائدہ :یونس علیہ
السلام کی مچھلی کا واقعہ ظاہراً تو عتاب معلوم ہوتا ہے مگر حقیقتاً یہ بھی تمام
انبیاء کرام علیہم السلام کی ایک عظیم قوت و شان بیان کرنی ہے یعنی انسان جس کو دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی نہ آگ
نہ مٹی نہ ہوا نہ پانی ہے ہتھیار نہ کوئی جانور درندہ ان عجائب مخلوق ہستیوں کیلئے
جانوروں مچھلیوں کا وہ پیٹ جس کا معدہ ہڈیوں کو بھی ہضم کر جائے معدہ نہیں رہتا
مسجد بن جاتی ہے ان کے کپڑے تک بگڑے نہیں یہ فیض ان کی ہمراہی کا ہے ۔حضرت یونس علیہ
السلام کا ہوش و حواس عمل و فکر تک نہ بگڑا اور نہ ہی بدلا ورنہ بہادر سے بہادر
شخص ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے بلکہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو
شکمِ ماہی میں پہنچا کر سب کچھ بتا رہا کہ میں کون ہوں جہاں ہوں۔( تفسیر نعیمی ،
ج17، ص 343)
محمد
سلمان عطاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
نے دنیا کو پیدا فرمایا اور اس میں حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعے انسان کی نسل کو
آباد فرمایا۔ ان کے درمیان کئی گمراہیوں نے جنم لیا جن کی اصلاح کے لیے انبیاء علیہم
السلام کی تشریف آوری کا سلسلہ جاری ہوا۔ مختلف ادوار میں مختلف قوموں پر انبیاء
بھیجے گئے جو انہیں ایک خدا کو ماننے کی دعوت دیتے۔ خوش قسمت لوگ ان پر ایمان لاکر
ہمیشہ رہنے والی سعادتوں کے مستحق بنتے جبکہ انکار کرنے والے رحمت الٰہی سے محروم
ہو جاتے۔انہیں میں ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں ۔
نام و نسب
یونس بن متی ، حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔لقب ذوالنون ، صاحب الحوت
۔ آپ علیہ السلام نے 40 سال اپنی قوم کو نیکی کی دعوت دی پر وہ جو ابدی سعادتوں سے
محروم تھے اپنے کفر سے باز نہ آئے۔
قرآن پاک
میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر آیا ہے آئیے سنتے ہیں:
اللہ کے رسول:حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انھیں رسالت کا
منصب عظیم بھی عطا ہوا۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (پ23،الصٰفّٰت،139)
جہان والوں پر فضیلت:اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام
سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کو جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا
فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور اسماعیل اور یَسَع اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی)اور ہم نے سب کو
تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ (پ7،انعام،86)
تفسیر صراط الجنان:اِس آیت میں اس بات کی دلیل
ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ عالَم یعنی جہان میں
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور
جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔ (تفسیر خازن،
الانعام، تحت الآیۃ:86، ج2 ص131، دار الکتب العلمیہ بیروت)
وحی کا نزول:دیگر انبیاء کرام علیھم
السلام کی طرح اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی جیسا کہ اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ
وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ
وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے
بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور
ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی
اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ6،النساء،163)
صاحب الحوت :اللہ پاک نے حضرت یونس
علیہ السلام کو ان کے مبارک نام کے علاؤہ لقب سے بھی یاد فرمایا ہے جیسا کہ فرمان
الٰہی ہے:وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا ۔(پ29،القلم،48)
ایک اور آیت
میں ذا النون کے لقب سے بھی یاد فرمایا۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ ذَا النُّوْنِ
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) ۔(پ17،الانبیاء،87)
صاحب
الحوت اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔
اللہ پاک
حضرت یونس علیہ السلام سمیت تمام انبیاء کی محبت پر ثابت قدمی عطا فرمائے ۔آمِیْن
بِجَاہِ خَاتَمِ النَبِیِّیْن ﷺ
قرآنِ کریم
جہاں رشد و ہدایت کا منبع ہے، وہی یہ سابقہ انبیاء کے ان واقعات کو بھی بیان کرتا
ہے جو انسانی شعور کے لیے سبق اور روح کے لیے جلا کا باعث ہیں۔ انہی روشن تذکروں میں
ایک نمایاں نام حضرت یونس علیہ السلام کا ہے، جن کا تذکرہ کلامِ الٰہی میں 'صاحبِ
حوت' (مچھلی والے) کے لقب سے کیا گیا۔قرآن مجید نے آپ علیہ السلام کے واقعے کو محض
ایک قصہ نہیں، بلکہ مایوسی کے اندھیروں میں پھنسے انسانوں کے لیے امید کی ایک روشن
قندیل بنا کر پیش کیا ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ
الصفت:139،140)
یہاں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن
متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب
ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل
کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے
کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ
کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ ( تفسیر صراط الجنان ، جلد
8، الصفت تحت الایۃ 139)
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی
قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے
غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی
نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ
اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( تفسیر
صراط الجنان ، جلد 8 ، الصفت تحت الایۃ 140)
اللہ ربّ العزت نے ارشاد فرمایا :فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا
اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصفت:142)
جب حضرت
یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے
جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ
نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو
تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم
نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( تفسیر صراط الجنان ،
جلد 8 ، الصفت تحت الایۃ 142)
ان مبارک واقعات میں انسانیت کے لیے بے شمار نصیحتیں
ہیں، ان میں سے ہم کچھ کو ذکر کرتے ہیں۔
(1) مچھلی
کے پیٹ میں ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو محفوظ رکھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے بندوں پر قادر ہے۔
(2)اللہ
تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔
(3)اللہ
تعالیٰ کے حکم پر صبر کرنا چاہیے۔
اظہار
علی (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ
مدینہ، کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں جن کا ذکر قرآنِ مجید میں
بہت جگہوں پر آیا ہے۔ آپ کو نینویٰ کی قوم کی طرف ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا،
مگر جب قوم نے مسلسل نافرمانی اور تکذیب کا راستہ اختیار کیا تو آپ ناراض ہو کر بستی
چھوڑ گئے پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں آپ کے قیام کے ذریعے ایک عظیم سبق دیا
کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرے قرآنِ کریم میں حضرت یونس علیہ السلام
کا واقعہ صبر، توبہ دعا اور اللہ کی رحمت کے روشن پہلوؤں کو واضح کرتا ہے خصوصاً
آپ کی مشہور دعا لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَقیامت تک کے انسانوں کے لیے امید
عاجزی اور اللہ سے تعلق کا عظیم درس ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا
:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان:
اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو
گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو
اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔(سورۃ انبیاء:87)
تفسیر صراط الجنان:وَ ذَا
النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی
مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵
/ ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم ﷺ کے قریب
بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر
نہ دوں کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا
نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ ﷺ سےعرض کی گئی :کیوں نہیں !ارشاد فرمایا ’’(وہ
چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک،کتاب
الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ ، من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب اللہ لہ،۲ / ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ
الصفت:139،140)
تفسیر
صراط الجنان:وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن،
والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴
/ ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے
ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصفت:141،142)
تفسیر
صراط الجنان:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔ جب
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا
ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے
مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے
لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو
ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت
الآیۃ: ۱۴۲، ۷
/ ۴۸۷، ملخصاً)
اللہ
تبارک وتعالیٰ ہمیں اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ
النبی الامین ﷺ
اللہ
عزوجل کے محبوب و بابرکت بندوں میں انبیاء کرام، صدیقین ،شہداء اور صالحین کا شمار
کیا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ بلند مرتبے والے انبیاء کرام علیہم السلام ہیں
اور ان میں رسول۔ حضرات مرسلین میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں جو اللہ
کے برگزیدہ بندے اور پیغمبر تھے۔آپ کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے۔
اللہ رب
العزت نے ارشاد فرمایا: وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)
صراط
الجنان:آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے
ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ
الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے
کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو
بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں
نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے،
تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے
بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷
/ ۴۸۶)
اپنے زمانے میں سب سے افضل: اللہ
عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا
فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے
وقت میں سب پر فضیلت دی۔(سورۃ الانعام، پارہ 7 ،آیت: 86)
اس آیت کے
متعلق تفسیر صراط الجنان میں ہے: اِس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاءِ کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ عالَم یعنی جہان میں
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور
جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔ (خازن،
الانعام، تحت الآیۃ: ۸۶، ۲
/ ۳۳)
اس لحاظ
سے حضرت یونس علیہ السلام اپنے زمانے میں تمام مخلوق سے افضل تھےاور نیک و پرہیزگار
تھے۔اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ صحابہ
وسلم
قرآنِ کریم
انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مبارک واقعات سے بھرا ہوا ہے۔ ان مقدس واقعات میں
اہلِ ایمان کے لیے ہدایت، نصیحت اور عبرت کے بے شمار پہلو موجود ہیں۔ انہی عظیم
انبیاءِ کرام علیہم السلام میں ایک جلیل القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں،
جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السلام کا
واقعہ صبر، دعا، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر کامل بھروسے کا بہترین درس دیتا
ہے۔ قرآنِ کریم نے آپ علیہ السلام کا ذکر مختلف مقامات پر فرمایا ہے، جس سے آپ علیہ
السلام کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کے بلند مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف: آپ
علیہ سلام کا نام پاک یونس بن متی ہے آپ علیہ سلام مچھلی کے پیٹ تشریف لے گئے تھے
اسی وجہ سے آپکو "ذوالنون" اور "صاحب الحوت" بھی کہا جاتا ہے
اور یہ دونوں آپکے القابات ہیں ۔
نزولِ احکام: آپ علیہ سلام پر
جداگانہ یا کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ سلام پر
بعض احکام نازل ہوئے۔
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب
ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم
نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب
اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔
(سورۃ النساء:163)
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ایمان
لانا:حضرت یونس علیہ السلام جب اپنی قوم کی نافرمانی سے ناراض ہوکر بستی سے تشریف
لے گئے تو اُن کی قوم پر عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے
اور لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا۔ تب اُن لوگوں نے
اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی، عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کی
اور ایمان لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول فرماتے ہوئے عذاب کو اُن سے
دور فرمادیا۔
چنانچہ
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ
قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ
اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس،
آیت: 98)
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد
مہربان ہے۔ اگر انسان سچے دل سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار
کرے تو اللہ تعالیٰ بڑی سے بڑی پریشانی اور مصیبت کو بھی دور فرما دیتا ہے۔ اسی
طرح انبیاءِ کرام علیہم السلام کی سیرتِ مبارکہ سے ہمیں صبر، استقامت، دعا اور
اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرنے کی تعلیم ملتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم قرآنِ کریم
کو سمجھ کر پڑھیں اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مبارک واقعات سے نصیحت حاصل کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami