ابو
ثوبان عبدالرحمن مدنی عطاری (درجہ تخصص فی اللغۃ العربیہ فیضان مدینہ کاہنہ نو
،لاہور،پاکستان)
قرآنِ
مجید انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو انسان کی ہدایت اور تربیت کے لیے بیان
کرتا ہے۔ انہی میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ نہایت سبق آموز اور ایمان افروز
ہے۔ اس واقعہ میں صبر، توبہ، اللہ پاک کی رحمت اور بندے کی عاجزی کا روشن پہلو
سامنے آتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کا تعلق حضرت ہود علیہ السلام کی نسل سے ہے۔
آپ علیہ السلام کو نینویٰ ( عراق کا شہر)کی قوم کی طرف بھیجا گیا جو موصل کے علاقے
میں دجلہ کے کنارے آباد تھی۔ آپ علیہ السلام نے تقریباً چالیس سال تک انہیں توحید
کی دعوت دی مگر انہوں نے انکار کیا اور شرک پر قائم رہے۔حضرت یونس علیہ السلام نے
اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اللہ پاک کی عبادت کرو اور بت پرستی چھوڑ دو، مگر
انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا۔ جب طویل عرصہ گزر گیا اور قوم نہ مانی تو آپ
علیہ السلام نے اللہ پاک سے ان پر عذاب کی دعا کی۔ پھر آپ علیہ السلام کو خبر دی
گئی کہ تین دن بعد عذاب آئے گا۔
قوم کی توبہ اور عذاب کا ٹل جانا:آپ علیہ
السلام نے جب قوم کو عذابِ الٰہی کی خبر دی تو لوگ پریشان ہو گئے اور کہنے لگے کہ
اگر حضرت یونس علیہ السلام رات ہمارے درمیان رہے تو خطرہ نہیں، ورنہ عذاب ضرور آئے
گا۔ چنانچہ رات کو آپ علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے۔ صبح ہوتے ہی آسمان پر
سیاہ بادل اور دھوئیں کے آثار ظاہر ہوئے تو قوم گھبرا گئی۔ وہ سب اپنے اہل و عیال
کے ساتھ میدان میں نکل آئے، سچے دل سے توبہ کی، حقوق واپس کیے اور اللہ تعالیٰ کے
حضور گڑگڑانے لگے۔ اس اخلاص کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔
ارشاد
فرمایا: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس:98)
حضرت یونس علیہ السلام کا ہجرت کرنا:حضرت یونس
علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہ تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ
عذاب کے آنے میں تاخیر ہو رہی ہے تو قوم کی نافرمانی پر رنجیدہ ہو کر اللہ تعالیٰ
کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ یہ آپ علیہ السلام کا اجتہادی
فیصلہ تھا۔ ارشاد فرمایا:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء:87)
سمندر، مچھلی اور آزمائش: آپ علیہ السلام وہاں سے نکل کر ایک
کشتی میں سوار ہوئے۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو اچانک رک گئی اور اس کے رکنے
کا کوئی ظاہری سبب بھی نظر نہ آیا۔ کشتی والوں نے کہا کہ اس میں کوئی بھاگا ہوا
غلام ہے، اس لیے قرعہ اندازی کی جائے۔ چنانچہ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت یونس علیہ
السلام کا نام نکلا۔ آپ علیہ السلام نے خود کو پیش کیا اور سمندر میں ڈال دیے
گئے۔پھر ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کو
احساس ہوا کہ جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرنا
چاہیے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے، یوں
مچھلی کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے ایک محفوظ جگہ بن گیا جہاں آپ علیہ السلام
اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہے۔ارشاد فرمایا:
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ
الانبیاء: 87)
دعا کی قبولیت:اللہ پاک نے
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء:88)
تسبیح کی برکت:
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ
الصافات:143،144)
اللہ پاک
نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکال کر زمین پر ڈال دیا۔ آپ علیہ
السلام کمزور تھے، اس لیے اللہ پاک نے آپ پر سایہ اور غذا کا انتظام فرمایا۔ بعد
میں آپ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف دوبارہ تشریف لائے تو وہ ایمان لا چکی تھی اور
اللہ پاک نے انہیں عافیت عطا فرمائی۔
اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:دعوت میں صبر ضروری ہے،توبہ
کا دروازہ کھلا ہے،اللہ پاک کی رحمت بہت وسیع ہے،مصیبت میں ذکر اور دعا نجات کا
ذریعہ ہیں۔
Dawateislami