اللہ پاک نے دنیا کو پیدا فرمایا اور اس میں حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعے انسان کی نسل کو آباد فرمایا۔ ان کے درمیان کئی گمراہیوں نے جنم لیا جن کی اصلاح کے لیے انبیاء علیہم السلام کی تشریف آوری کا سلسلہ جاری ہوا۔ مختلف ادوار میں مختلف قوموں پر انبیاء بھیجے گئے جو انہیں ایک خدا کو ماننے کی دعوت دیتے۔ خوش قسمت لوگ ان پر ایمان لاکر ہمیشہ رہنے والی سعادتوں کے مستحق بنتے جبکہ انکار کرنے والے رحمت الٰہی سے محروم ہو جاتے۔انہیں میں ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں ۔

نام و نسب یونس بن متی ، حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔لقب ذوالنون ، صاحب الحوت ۔ آپ علیہ السلام نے 40 سال اپنی قوم کو نیکی کی دعوت دی پر وہ جو ابدی سعادتوں سے محروم تھے اپنے کفر سے باز نہ آئے۔

قرآن پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر آیا ہے آئیے سنتے ہیں:

اللہ کے رسول:حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انھیں رسالت کا منصب عظیم بھی عطا ہوا۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (پ23،الصٰفّٰت،139)

جہان والوں پر فضیلت:اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام کو جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسماعیل اور یَسَع اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی)اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ (پ7،انعام،86)

تفسیر صراط الجنان:اِس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ عالَم یعنی جہان میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔ (تفسیر خازن، الانعام، تحت الآیۃ:86، ج2 ص131، دار الکتب العلمیہ بیروت)

وحی کا نزول:دیگر انبیاء کرام علیھم السلام کی طرح اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ6،النساء،163)

صاحب الحوت :اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کے مبارک نام کے علاؤہ لقب سے بھی یاد فرمایا ہے جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا ۔(پ29،القلم،48)

ایک اور آیت میں ذا النون کے لقب سے بھی یاد فرمایا۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ ذَا النُّوْنِ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) ۔(پ17،الانبیاء،87)

صاحب الحوت اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔

اللہ پاک حضرت یونس علیہ السلام سمیت تمام انبیاء کی محبت پر ثابت قدمی عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَبِیِّیْن ﷺ