اللہ پاک نے مخلوق میں سے اپنے چنے ہوئے بندوں کو نبوت کا تاج عطا فرمایا۔ انہیں خوش نصیبوں میں ایک مبارک ہستی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں۔آپ علیہ السلام کا مبارک نام "یونس بن متی" اور لقب "ذوالنون" ہے آپ علیہ السلام حضرت ھود علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے ۔الله پاک نے آپ علیہ السلام کے نام پر قرآن مبین میں ایک پوری سورت نازل فرمائی ۔اس کے علاوہ اور مقامات پر بھی آپ علیہ السلام کا ذکر فرمایا ان میں سے چند یہاں ذکر کیے جا رہے ہیں۔چنانچہ الله پاک ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اسماعیل اور یَسَع اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی)اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ (سورۃ الانعام:86)

اس آیت سے معلوم ہوا انبیاء کرام علیہم السلام فرشتوں سے بھی افضل ہیں بلکہ تمام مخلوق سے افضل ہیں ۔

ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (سورۃ الصفت:139)

آپ علیہ السلام کو کسی سبب سے کئی دن مچھلی کے پیٹ میں رکھا گیا آپ علیہ السلام زندہ رہے۔پھر ایک دعا کی برکت سے آپ علیہ السلام کو مچھلی سے نجات ملی۔الله پاک نے اس دعا کو قرآن پاک میں یوں بیان فرمایا۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبياء:87)

جواس دعاء " لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ" کو مصیبت میں پڑھے گا اللہ پاک اسے مصیبت سے نجات عطا فرمائے گا ۔ آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھا گیا اسکی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم کے دعوت قبول نہ کرنے اور اللہ پاک کی نا فرمانی کرنے کی وجہ سے غضب ناک ہو کر بستی سے تشریف لے گئے تھے جبکہ الله پاک کا حکم نہیں آیا تھا ۔یہاں ایک بات یاد رہے یہ الله پاک اور اس کے مقرب بندے یونس علیہ السلام کا معاملہ ہے الله پاک خالق و مالک ہے۔ کسی اور کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس بناء پر الله کے نبی یونس علیہ السلام کی شان میں کمزور بات کرے الله پاک نے آپ علیہ السلام کو چن لیا اور اپنے مقرب بندوں میں رکھا جس کی طرف ان آیات مبارکہ میں اشارہ فرمایا ہے۔

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ (سورة القلم:49.50)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی۔مذکورہ آیات سے معلوم ہوا مصیبت میں اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں دعا و التجاء کرنا الله پاک کے نیک بندوں کا طریقہ ہے۔ ہم پر بھی اگر مشکل آئے تو ہمیں بھی الله پاک سے عرض کرنی چاہیے ۔اسکے ذکر میں اور اسکے احکامات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاریے۔

الله پاک اپنے انبیاء کرام بالخصوص آخری نبی محمد عربی صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے اور اپنا مخلص بندہ بنائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی الله علیہ وآلہ وسلم ۔