محمد
حسن رضا (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
انبیاء
عَلَيْهِمُ السَّلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیروں موتیوں کی
طرح جگمگاتی شخصیات ہیں جنہیں خدا نے وحی کے نور سے روشنی بخشی، حکمتوں کے سرچشمے
ان کے دلوں میں جاری فرمائے اور سیرت و کردار کی وہ بلندیاں عطا فرمائیں جن کی
تابانی سے مخلوق کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ ان کی ربانی سیر توں، راہِ خدا میں
کاوشوں اور خدائی پیغام پہنچانے میں اٹھائی گئی مشقتوں میں تمام انسانیت کے لئے
عظمت، شوکت، کردار، ہمت، حوصلے اور استقامت کا عظیم درس موجود ہے۔ ان کی سیرت کا
مطالعہ آنکھوں کو روشنی، روح کو قوت، دلوں کو ہمت، عقل کو نور ، سوچ کو وسعت،
کردار کو حسن، زندگی کو معنویت، بندوں کو نیاز اور قوموں کو عروج بخشا ہے۔اور انہی
انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام بھی ہے جن کا واقعہ
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر آیا ہے۔ اللہ پاک نے انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا
راہنمائی کے لیے لیکن انہوں نے ان کی نا مانی اور یہ ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے
اس کے بعد اللہ پاک نے انہیں آزمائش میں ڈال دیا اور وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئیں
اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا کی اور اللہ نے انہیں اس سے نجات عطا
فرمائی ۔
آپ کا نام
یونس علیہ السلام ہے۔ آپ کے والد محترم کا نام "متی" ہے۔ بعض مورخین نے
لکھا ہے کہ ”متی “ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ہے اور حضرت عیسیٰ اور حضرت یونس علیہما
السلام اپنی اپنی والدہ کی طرف ہی منسوب ہوتے ہیں۔ مگر یہ قول انتہائی ضعیف ہے۔ آپ
کے والد کا نام ہی ملتی ہے۔ بخاری میں اسی طرح مذکور ہے۔ ابن حجر نے بھی اس کی تصحیح
کی ہے ۔ حضرت عطاء سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت کعب سے متی" کے بارے
پوچھا کہ کیا یہ حضرت یونس علیہ السلام کے والد کا نام ہے یا والدہ کا ؟ انہوں نے
فرمایا " یہ ان کے والد ماجد کا نام ہے۔ ان کی والدہ کا نام بدورۃ ہے۔ آپ
حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ قرآن پاک میں آپ کا تذکرہ " ذا
النون “ اور كَصَاحِبِ الْحُوتِ سے بھی کیا گیا ہے۔ (قصصُ الانبياء علیہم السلام صفہ
404)
حضرت یونس
علیہ السلام اور ان کی قوم: حضرت یونس علیہ السَّلام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ
لوگ موصل کے علاقے نینوی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام ان کی طرف رسول بنا کر بھیجے۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک
بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار
اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ طویل عرصے تک پوری
کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آئے تو آپ علیہ السّلام نے بارگاہ الہی میں
دعا کی : اے اللہ! قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے ، پس تو ان پر اپنا عذاب نازل
کر دے۔ اس پر ان سے فرمایا گیا: آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان
پر عذاب نازل ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے قوم کو نزول عذاب کی خبر دے دی
۔
قوم یونس کی توبہ اور رفع عذاب: نزول
عذاب کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا : حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو
حضرت یونس علیہ السّلام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار
ہو گئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور
تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے، انہوں نے
حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا لیکن آپ کو نہ پایا ، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ
ہوا۔ یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنی عورتوں، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل
گئے ، موٹے کپڑےپہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے
جدا ہو گئے اور سب نے بارگاہ الہی میں گریہ وزاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے جو
دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے سچی
توبہ کی اور جو جرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتی کہ
اگر دوسرے کا ایک پتھر کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر
نکال دیا اور واپس کر دیا۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو
پر وردگار عالم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔قرآن کریم
میں ہے :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس: آیت:98)
اس مقام
پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرعون کے بارے میں ذکر
فرمایا کہ اس نے آخری وقت تو بہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے
ان کی توبہ قبول فرمائی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے ؟ امام فخر الدین رازی رحمۃ
الله علیہ ہے؟ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس علیہ
السلام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے
بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہو میں
جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے
اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی۔ اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزول عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں
البتہ نزول عذاب سے پہلے صرف علامات عذاب کے ظہور کے بعد تو بہ قبول ہو سکتی ہے۔(سیرتُ
الانبیاء صفحہ 493اور494)
مذکورہ آیت
مبارکہ کی تفسیر میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ
ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ
تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے
انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت
یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے
حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں
رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے
کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے
تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت
ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں
یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ
لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن
کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے
بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے
سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی
کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر
نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں
توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(تفسیر
صراط الجنان)
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں ان کے صدقے دین و دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami