قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں احکام کو ذکر فرمایا ہے وہیں انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو بھی جابجا بیان فرمایا ہے ان برگزیدہ ہستیوں کے تذکرے میں کفار کے بیہودہ اور باطل اعتراضات کے جوابات دینا ، انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی نعمتوں کا ذکر کرنا ، مصائب و آلام پر صبر کرنا ، اہل ایمان کیلئے پختگیٔ ایمان جیسی حکمتیں وغیرہ بیان ہوئیں ہیں۔انہیں انبیائے کرام علیہم السلام کے قرآنی واقعات میں سے ایک پر حکمت ، سبق آموز واقعہ حضرت یونس علیہ السلام کا بھی ہے۔

آپ کے واقعے کو قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پارہ نمبر 17، سورۃ الانبیاء، آیت 87 )

تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت مفتی نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت یونس ابن متی کو اپنی قوم سے جس نے ان کی دعوت قبول نہ کی تھی نصیحت نہ مانی تھی اور کفر پر قائم رہی تھی آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب سرف کفر اور اھل کفر کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لیے غضب کرنا لیکن آپ نے اس ہجرت میں حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا تو اللہ پاک نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈالا اور کئی قسم کی اندھیریا تھیں دریا کی اندھیری، مچھلی کے پیٹ کی اندھیری ان اندھیریوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی کہ میں اپنی قوم سے قبل تیرا اذن پانے کے جدا ہوا حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو کوئی مصیبت زدہ بارگاہ الٰہی میں ان کلمات سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے پہنچادیا۔

آپ کی چند خصوصیات :آپ ایک ہی قوم میں دو بار مبعوث ہوئے،پہلی بعثت میں ایک بھی مومن نہ ہوا اور دوسری بعثت میں سب ہی ایمان لے آئے،صرف آپ کی امت کی تعداد و توصیف قرآن مجید میں صراحتاً بیان کی گئی ۔( تفسیر نعیمی ، ج 17 ، ص 340)

آیت مبارکہ کا فائدہ :یونس علیہ السلام کی مچھلی کا واقعہ ظاہراً تو عتاب معلوم ہوتا ہے مگر حقیقتاً یہ بھی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی ایک عظیم قوت و شان بیان کرنی ہے یعنی انسان جس کو دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی نہ آگ نہ مٹی نہ ہوا نہ پانی ہے ہتھیار نہ کوئی جانور درندہ ان عجائب مخلوق ہستیوں کیلئے جانوروں مچھلیوں کا وہ پیٹ جس کا معدہ ہڈیوں کو بھی ہضم کر جائے معدہ نہیں رہتا مسجد بن جاتی ہے ان کے کپڑے تک بگڑے نہیں یہ فیض ان کی ہمراہی کا ہے ۔حضرت یونس علیہ السلام کا ہوش و حواس عمل و فکر تک نہ بگڑا اور نہ ہی بدلا ورنہ بہادر سے بہادر شخص ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے بلکہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو شکمِ ماہی میں پہنچا کر سب کچھ بتا رہا کہ میں کون ہوں جہاں ہوں۔( تفسیر نعیمی ، ج17، ص 343)