قرآنِ کریم
محض ماضی کے قصوں کی کتاب نہیں، بلکہ یہ انسانی نفسیات اور آزمائشوں میں ثابت قدمی
کا ایک عظیم دستور ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان
مادی اسباب سے کٹ کر مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تو سمندر کی گہرائیاں
اور مچھلی کا پیٹ بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ قصہ درحقیقت "امیدِ پیہم"
کا وہ روشن چراغ ہے جو مایوسی کے گھور اندھیروں میں بھٹکتی انسانیت کو راستہ
دکھاتا ہے۔
آزمائش اور مچھلی کا پیٹ: اللہ
تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو "نینوٰی" (موجودہ عراق کا علاقہ) کی
طرف مبعوث کیا، لیکن جب قوم نے دعوت کو قبول کرنے میں تامل کیا تو آپ علیہ السلام
جلالِ نبوت میں حکمِ الہی کے انتظار کے بغیر وہاں سے نکل پڑے۔ یہ ہجرت ایک کڑے
امتحان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ کشتی سے سمندر میں جانا اور پھر مچھلی کا آپ کو نگل
لینا، بظاہر ایک ایسی تاریکی تھی جہاں مادی عقل جواب دے جاتی ہے۔
قرآنِ پاک
میں اس منظر کی منظر کشی یوں کی گئی ہے:
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ
الصافات: 142)
تسبیحِ یونس علیہ السلام: تاریکی
کے ان تین پردوں میں (رات، سمندر اور مچھلی کا پیٹ) حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی
کسی مادی طاقت پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ کی پاکیزگی بیان کی۔ آپ کی یہ پکار
"دعائے یونس" کے نام سے رہتی دنیا تک کے لیے ہر بے بس انسان کا سہارا بن
گئی۔قرآنِ پاک میں اس دعا کا ذکر یوں ملتا ہے:
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا
ہوا۔ (سورۃ الانبیاء: 87)
اس دعا کی
فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:"مچھلی والے (یونس علیہ
السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی... جو مسلمان شخص بھی کسی (مصیبت)
کے لیے ان الفاظ کے ساتھ دعا کرے گا، اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے
گا۔"(جامع ترمذی، حدیث نمبر: 3505)
نجات کا قانون اور الٰہی ضمانت:قرآنِ کریم
نے اس واقعے کے بعد ایک بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے
یونس علیہ السلام کو غم سے نجات دی اور پھر ایک ایسا قانون بیان کیا جو کسی خاص
زمان و مکان کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ہے:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان:
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء: 88)
اس نجات کی
اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اگر یونس (علیہ السلام) اللہ کی
تسبیح بیان نہ کرتے، تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔(صحیح بخاری، کتاب
الانبیاء، حدیث نمبر: 3413)
توبہ کی طاقت اور اجتماعی اصلاح:حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم تاریخ کی وہ واحد قوم ہے جس پر عذاب کے بادل منڈلانے لگے تھے لیکن
ان کی توبہ نے تقدیر بدل دی۔ قرآن کہتا ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس:
98)
اسی توبہ
اور اللہ کی طرف رجوع کی اہمیت ایک اور حدیثِ مبارکہ میں بیان ہوئی ہے:
آزمائش سے سرخروئی: ایک ابدی
سبق:حضرت یونس علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کبھی بھی اللہ کی
گرفت سے باہر نہیں اور نہ ہی اس کی رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے
پیٹ سے نکال کر ساحلِ سمندر پر ایک کمزور پودے (کدو) کے سائے میں جگہ دی تاکہ آپ کی
نقاہت دور ہو سکے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ (سورۃ الصافات: 144-145)
نبی کریم ﷺ
نے حضرت یونس علیہ السلام کے بلند مقام کے بارے میں ارشاد فرمایا:کسی شخص کے لیے یہ
کہنا جائز نہیں کہ میں یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔(صحیح بخاری، حدیث
نمبر: 3415)
یہ حدیث
ہمیں سکھاتی ہے کہ انبیاء کرام کی آزمائشیں ان کے درجات کی بلندی کے لیے ہوتی ہیں
اور ہمیں ان کی زندگی سے صبر اور عجز کا سبق لینا چاہیے۔
انجامِ بخیر
اور ہماری زندگی حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی کے یہ گوشے ہمیں بتاتے ہیں کہ:
پکار کی تاثیر: جب تمام
مادی سہارے ختم ہو جائیں، تب بھی اللہ کی مدد موجود ہوتی ہے۔
خودی کا اعتراف: اپنی غلطی
کو تسلیم کرنا اور اللہ کے سامنے جھک جانا ہی اصل کامیابی ہے۔
مستقل ذکر: اللہ کی یاد وہ ڈھال ہے
جو انسان کو گھٹن زدہ زندگی سے نکال کر امن و سکون کے ساحل پر لا کھڑا کرتی ہے۔
اگر ہم آج
کے دور کی مایوسیوں، معاشی تنگیوں اور سماجی تاریکیوں سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں
بھی اسی تڑپ کے ساتھ "رجوع الی اللہ" کرنا ہوگا جو مچھلی کے پیٹ میں
بلند ہوئی تھی۔ نجات کا راستہ کل بھی وہی تھا، آج بھی وہی ہے۔
Dawateislami