عبد
المجید (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
آپ علیہ
السلام کا نام یونس بن متی ہے چونکہ آپ
علیہ الصلوۃ والسلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو ذوالنون
اور صاحب الحوت یعنی مچھلی والے بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ علیہ السلام کے
القاب ہیں۔ (سیرۃ الانبیاء صفحہ 491)
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پارہ17
سورۃالانبیاءآیت87)
اپنی قوم سے دوری:حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نصیحت نہ مانی بلکہ وہ
اپنے کفر پر ہی قائم رہے تو حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے
علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لیے جائز ہے کیونکہ
اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالٰی کے لیے غضب کرنا ہے لیکن
آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالٰی کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ پاک
نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی
تاریکی، رات کی تاریکی، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔ ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ
السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی اے میرے رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں
اور تو ہر عیب سے پاک ہے بے شک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور
اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا ۔(صراط الجنان صفحہ 365، پارہ 17، سورۃ الانبیاء)
حضرت
عبداللہ بن عباس اور امام وہب رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ
السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ قتل سے
بچنے کے لیے ان سے چھپ کر نکل گئے آپ علیہ السلام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور
بھری کشتی پر سوار ہو گئے۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے
ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا ملاحو ں نے کہا جو کشتی میں اپنے مولا سے
بھاگا ہوا غلام ہے قرعہ اندازی کرنے سے معلوم کیا جائے کہ وہ کون ہے قرعہ اندازی کی
گئی تو اس میں آپ علیہ السلام کا نام نکلا حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا میں ہی وہ غلام ہوں۔ جس
کی وجہ سے آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دیے گئے اور لوگوں کا دستور یہ تھا کہ جب
تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت کشتی چلتی نہیں تھی حضرت یونس
علیہ السلام دریا میں ڈال دیے گئے تو ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا
آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی قوم سے جدا ہونے
میں اللہ تعالی کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا مچھلی کی طرف اللہ تعالی نے الہام
فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو میں نے تیرے لیے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ
کو ان کے لیے قید خانہ بنایا ہے تم نہ تو اس کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے
گوشت کو کھانا قرآن پاک میں ہے۔ (سیرۃالانبیاء :صفحہ 495تا 496)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ
ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔
(سورۃالصفت:139تا 142)
تیسرا
مسئلہ :اگر کوئی یہ کہے کہ بے شک اللہ تعالی نے فرعون کے بارے میں جو فرمایا کہ اس
نے آخری وقت توبہ کی اور اللہ تعالی نے اس کی توبہ قبول نہیں فرمائی اور یونس علیہ
الصلوۃ والسلام کی قوم کے بارے میں جو
فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی اور ان کی توبہ کو اللہ تعالی نے قبول فرما لیا تو بس
ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے؟
الجواب :بے
شک فرعون نے عذاب کو دیکھنے کے بعد توبہ کی تھی اور جو یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی
قوم تھی انھوں نےاللہ تعالی سے دعا کی جب ان کے لیے عذاب کی نشانیاں ظاہر ہوئیں
اور جو کہ عذاب پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے توبہ کی لیکن عذاب کو دیکھنے سے
پہلے کی ہے پس فرق ظاہر ہو گیا۔(سورۃ یونس آیت 98 تفسیرالکبیر ،فخرالدین الرازی
صفحہ303 جلد6)
حدیث میں
حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر :ایک مرتبہ سرکار صلّی اللّہ تعالی علیہ وسلم سے کسی
نے عرض کیا آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں نبی اکرم صلّی اللّہ تعالی علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا یہ میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔( سیرۃالانبیاء،503
)
Dawateislami