محمد
عمران عطاری (درجہ تخصص فی الفقہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن ،لاہور
،پاکستان)
اللہ
تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں متعدد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا
ہے ،ان میں سے جلیل القدر پیغمبر حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام بھی ہیں۔
تعارف: آپ علیہ السلام کا نام
پاک یونس بن متی ہے، آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
اور چونکہ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو ”
ذوالنون " اور " صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) بھی کہا جاتا ہے اور یہ
دونوں آپ کے القاب ہیں۔آپ بستی نینوی کے نبی تھے جو موصل کے علاقہ میں دجلہ کے
کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید
کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے ،
تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے
باہر تشریف لے گئے۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہ الہی میں سچی توبہ
کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ (سیرت انبیاء ،صفحہ493،مکتبہ کراچی)
حضرت یونس علیہ السلام اور نزولِ
احکام:آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا،البتہ وحی کے
ذریعے کچھ احکام نازل ہوئے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے
بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور
ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی
اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)
آپ علیہ السلام کی دعا:جب آپ علیہ
السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تو اس وقت آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے
دعا مانگی جو قرآن مجید میں مذکور ہے: وَ ذَا النُّوْنِ
اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی
الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔(سورۃ
انبیاء:87)
اس آیت
مبارکہ کے تحت امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ
وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت
آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ
کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا
تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی
تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ،
ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار
عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود
نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن
اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔(تفسیر مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: 87،
ص724)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی
مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔
( ترمذی،
کتاب الدعوات، حدیث نمبر 3516 ، دار الکتب العلمیہ، بیروت لبنان)
ہمیں حضرت
یونس علیہ السلام کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اچھی امید،صبر
اور توکل رکھنا ہے اور مصیبت کے وقت اس کی بارگاہ میں دعا کرنی ہے۔آمین بجاہ النبی
الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
Dawateislami