اکرام
طفیل (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھو کی ،لاہور،پاکستان)
(1) انبیاء کرام علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ پاک نے دنیا میں
لوگوں کی اصلاح کے لیے بھیجا کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر دنیا میں تشریف
لائے جن میں سے اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک قوم کی طرف بھیجا
اپنی وحدانیت کی دعوت دینے کے لیے انہوں نے اپنی قوم کو اللہ پاک کی وحدانیت کا
جام پلایا لیکن خوش نصیبوں نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت کو قبول کیا اور کچھ
بدبختوں نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو معاذ اللہ جھٹلایا اور آپ کی دعوت کو قبول
نہ کیا جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے عذاب کے حقدار ٹھہرے ۔
(2) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا
فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ
اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے
وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض
کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔ ( پارہ 7،سورۃ الانعام آیت نمبر86،87)
(3) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6،سورۃ النساء،
آیت نمبر 163)
(4) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (پارہ 23،سورۃ الصفت، آیت نمبر139،140)
(5) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ
فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ
11،سورۃ یونس،آیت نمبر 98)
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہم سب کو ان آیت مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائےاور تمام انبیاء کرام علیہ الصلوۃ والسلام کی پکی سچی محبت نصیب فرمائے آمین
بجاہ النبیین ﷺ ۔
Dawateislami