حضرت یونس علیہ السلام کا نام مبارک یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت (مچھلی والے) ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ نینویٰ بستی کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو ربِّ کریم کی طرف بلایا اور شرک سے باز رہنے، بتوں کی پوجا چھوڑنے اور توحیدِ باری تعالیٰ اپنانے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ کی بات نہ مانی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور عذاب آنے کا کہا گیا۔ مزید تفصیل کے لئے ابواب میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں آپ علیہ السلام کی سیرتِ مبارکہ کو 4 ابواب میں بیان کیا گیا ہے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

حضرت یونس علیہ السلام کا اجمالی ذکر خیر سورۃ النساء، آیت: 163 اور سورۃ انعام، آیت: 86 میں ہے جبکہ تفصیلی تذکرہ درج ذیل 4 سورتوں میں ہے:سورۃ یونس، آیت: 98،سورۃ انبیاء، آیت: 87-88،سورۃ صافات، آیت: 139 تا 148،سورۃ قلم، آیت: 48 تا 50۔

نزولِ احکام:آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوئے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ6، النساء:163)

انعاماتِ الٰہی:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا، مچھلی کے پیٹ میں بھی توجّہ الی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکرِ الٰہی کی توفیق بخشی، خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔ اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ (پ29، القلم: 48-50)