علی
حسین عطاری (درجہ عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ رائیونڈ،لاہور،پاکستان)
قرآن کریم اللہ عزوجل کی اپنے
محبوب کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو عطا کردہ وہ لازوال کتاب ہے
جو مکمل اور جامع انداز میں نوع انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں ہر طرح ہر لحاظ ہر
حالات اور اعلام و آزمائش میں ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔جس میں ہر خشک و تر کا بیان
انسانیت کی راہنمائی کیلئے فرمایا گیا اور پچھلی امتوں کے کئی واقعات وحادثات و
حالات اسی ضمن میں بیان فرمائے گئے قصہ یونس علیہ السلام بھی انہیں میں سے ایک ہے
آئیں قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں قصہ یونس علیہ السلام اور اس سے ملنے والے
اسباق اور اہم نکات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
قرآن کریم
میں مختلف مقامات پر کم و بیش 6یا اس سے زائد مرتبہ حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر
فرمایا گیا ہے ۔جبکہ آپ کی قوم کا حال اور آپ علیہ السلام کی آزمائش اور پھر
دوبارہ قوم کی طرف جانے کا ذکر سورۃ الصٰفت میں کیا گیا ہے۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ
الصفت:139،140)
تفسیر
صراط الجنان:وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن،
والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴
/ ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے
کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ
انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو
جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ
گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی
مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)
مچھلی کا نگلنا :فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ
الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ
الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصفت:141،142)
تفسیر
صراط الجنان:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔جب
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا
ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے
مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے
لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو
ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت
الآیۃ: ۱۴۲، ۷
/ ۴۸۷، ملخصاً)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں
مختلف اَقوال ہیں ۔ اُسی دن یا3دن یا7دن یا20دن یا40دن کے بعد آپ مچھلی کے پیٹ سے
نکالے گئے ۔( جلالین، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ص۳۷۸)
آزمائش سے رہائی کا سبب :فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ
كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ
بیمار تھا۔(سورۃ الصفت:143،تا 145)
تفسیر
صراط الجنان:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ: تو اگر وہ تسبیح کرنے
والا نہ ہوتا۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں
’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت
کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۳-۱۴۴، ۴
/ ۲۷)
دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی
کے پیٹ میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو
مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔(
ابن عساکر، حرف السین فی آبائہم، عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔ الخ، ۴۵ / ۳۸)
مچھلی کے پیٹ سے رہائی :فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا۔جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دعا مانگی تواللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں
ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ ایسے کمزور، دبلے پتلے اور نازک
ہوگئے تھے جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے،آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی اوربدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔( روح البیان،
الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۷
/ ۴۸۸)
کدو کا درخت ایک معجزہ :وَ
اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ: اور ہم نے اس پرکدو کا
پیڑ اگادیا۔ جس جگہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مچھلی کے پیٹ سے
باہرتشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں
مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے
روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
دہنِ مبارک میں دے کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صبح و شام دودھ پلا
جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال
اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۶، ۴
/ ۲۷)
یاد رہے کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی
ہے مگر یہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد
والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے بڑے پتوں کے سائے میں آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آرام کرتے تھے۔
موصل کی طرف واپسی :وَ اَنْۢبَتْنَا
عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ
اگایا۔ اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف
بھیجا بلکہ زیادہ۔ (سورۃالصفت:146،147)
تفسیر
صراط الجنان :آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو پہلے کی طرح موصل کی سرزمین میں قومِ نِینَویٰ کے ایک لاکھ بلکہ اس
سے کچھ زیادہ آدمیوں کی طرف انتہائی عزت واحترام کے ساتھ بھیجا،انہوں نے عذاب کے
آثار دیکھ کر توبہ کر لی تھی ، پھر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
دوبارہ تشریف لانے پر باقاعدہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیعت کی اور
اللہ تعالیٰ نے آخری عمر تک انہیں آسائش کے ساتھ رکھا ۔
قصہ یونس علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اہم نکات :
(1) دنیا
میں پہنچنے والی مصیبت و آزمائش کے سبب اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا مؤمن کی
شان نہیں ۔
(2) گناہ
جتنے بھی زیادہ ہوں اللہ عزوجل کی رحمت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے ۔
(3) گناہ ہو
جانے کے بعد اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حمد و ثنا اور تسبیح کے بعد توبہ واستغفار
کرنا بخشش کا ذریعہ ہے ۔
(4) اللہ
عزوجل کے ہر فیصلے میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے جو عموماً سمجھ سے بالاتر ہے ۔ جیسے یوسف
علیہ السلام کی آزمائش انکی قوم کی نجات کا سبب بنی۔ واللہ اعلم باالصواب
Dawateislami