حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں آپ علیہ السلام کی زندگی صبر، توبہ، اللہ پر کامل بھروسا اور انسانوں کو حق کی دعوت دینے کی روشن مثال پیش کرتی ہے۔ قرآنِ پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کے ذریعے یہ سبق دیا گیا ہے کہ انسان مشکلات اور آزمائشوں میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ نہ صرف ایمان کو مضبوط کرتا ہے بلکہ انسان کو صبر، دعا اور رجوع الی اللہ کی اہمیت بھی سکھاتا ہے۔

آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گا اور نہ ہی اس فعل پر مجھ سے کوئی باز پُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلیہ السَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام ہی کا نام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کرکے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔

جب حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔

دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔( ابن عساکر، حرف السین فی آبائہم، عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔ الخ، ۴۵ / ۳۸) مفسرین فرماتے ہیں : ’’تم آسانی کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو تو وہ تمہیں تمہاری سختی اور مصیبت کے وقت یاد کرے گا کیونکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے تھے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔(سورۃ الصفت:143،144)

جب حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ ایسے کمزور، دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے،آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔

جس جگہ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس عَلَیْہ السَّلَام کے دہنِ مبارک میں دے کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسم کی جلد یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔

 یاد رہے کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے مگر یہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے پتوں کے سائے میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام آرام کرتے تھے ۔

قرآنِ مجید میں بیان کردہ یہ واقعہ انسان کو سکھاتا ہے کہ مشکلات اور مصیبتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بندہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے تو وہ ضرور اس کی مدد فرماتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی ہر مسلمان کے لیے ہدایت، نصیحت اور ایمان کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔”

(تفسیر صراط الجنان،سورة الصافات،آيت نمبر 139 تا 186)