قرآنِ مجید انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کو محض تاریخی قصوں کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ ان میں انسانوں کے لیے ہدایت، نصیحت اور عبرت کے بے شمار پہلو موجود ہوتے ہیں۔ ان مقدس ہستیوں میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بھی نہایت اہم اور سبق آموز ہے۔

‎حضرت یونس علیہ السلام کا اصل نام یونس بن متی تھا۔ آپ کی کنیت "ابو عبداللہ" بیان کی جاتی ہے جبکہ آپ کا مشہور لقب "ذوالنون" تھا، جس کا مطلب ہے "مچھلی والے"۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نینویٰ کی قوم کی ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید اور نیکی کی دعوت دی حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور برائیوں سے بچنے کی دعوت دی۔ ابتدا میں ان کی قوم نے آپ کی بات ماننے سے انکار کیا اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔ وہ مسلسل حق کو جھٹلاتے اور نصیحت کو نظر انداز کرتے رہے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں اللہ کے عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن وہ باز نہ آئے لیکن پھر بھی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی جس وجہ سے آپ اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان سے دور تشریف لے گئے۔

‎ وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (‎سورۃ الانبیاء: آیت 87)

‎‎اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت جہاں پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔‎‎حضرت حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے نگلنے کا واقعہ قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات: آیت 142)

‎جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو اِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔‎حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملنے کا واقع کچھ یوں ہے کہ :

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (‎سورۃ الانبیاء: آیت 88)

‎ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا۔

‎ فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (‎‎سورۃ الصافات: آیت 143-144)

‎ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

‎‎حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے صبر، اطاعت اور کامل اعتماد ضروری ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ میں توبہ، ذکرِ الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے شمار پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان اگر غلطی کر بیٹھے تو اسے مایوس ہونے کے بجائے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے سخت آزمائش کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارا تو ربِّ کریم نے انہیں نجات عطا فرمائی۔ لہٰذا ہمیں بھی ہر مشکل اور پریشانی میں اللہ تعالیٰ سے دعا، صبر اور اس کی رحمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار سننے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔


آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینوی کے نبی تھے۔ جو موصل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ علیہ السلام نے اللہ پاک کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے قوم نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔

حضرت یونس علیہ السلام کے واقعات کے قرآنی مقامات اور حضرت یونس علیہ السلام کا اجمالی ذکر خیر ملاحظہ کیجیے ۔

نزول احکام:آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا ، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوۓ ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(1) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ ( سورۃ النساء آیت نمبر 163 )

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ:بیشک ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی۔ اِس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا تھا کہ اُن کے لئے آسمان سے یکبارگی کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان پر حجت قائم کی گئی کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سوا بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جن میں سے گیارہ کے اَسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں ، اہلِ کتاب اُن سب کی نبوت کو مانتے ہیں ، توجب اس وجہ سے ان میں سے متعدد کی نبوت تسلیم کرنے میں اہلِ کتاب کو کچھ پس و پیش نہ ہوا تو امامُ الانبیاء، سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے؟ نیز رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھیجنے کا مقصد مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید ومعرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور عبادت کے طریقوں کی تعلیم ہے اورکتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ مقصد بڑے کامل طریقے سے حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اس حکمت کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال درجے کی حماقت ہے۔سُبْحَانَ اللہ! کیسا دل نشین اور پیارا جواب ہے۔( تفسیر صراط الجنان، جلد 2 )

انعامات الٰہی :اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی ، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا ۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکرِ الٰہی کی توفیق بخشی ۔ خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔ ( سورۃ القلم ،آیت نمبر 48 )

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبر کرو۔ یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کو مہلت دینے اور ان کے خلاف آپ کی مدد کو مُؤخّر کرنے کے معاملے میں آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کریں ۔

وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔ اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ جب اُحد کے میدان میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسلمانوں کے خلاف دعا کرنے کا اراد ہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضورِ اقدس ﷺ نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم پر جلدی عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح نہ ہونا تاکہ کہیں ان کی طرح آپ بھی آزمائش میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور وہ وقت یاد کریں جب اُس نے اِس حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو پکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں بہت غمگین تھا۔یاد رہے کہ یہاں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔( تفسیر صراط الجنان ، جلد 10 )

چٹیل میدان :

(3،4)لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)ترجمۂ کنزالایمان: اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ ( سورۃ القلم آیت نمبر 49،50 )

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ: اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ کرتی اور اللہ پاک اُن کے عذر اور دعا کو قبول فرما کر ان پر انعام نہ فرماتا تو وہ ضرور ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے چٹیل میدان میں پھینک دیئے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ پاک نے ان پر رحمت فرمائی اور وہ بغیر ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ فرماتی تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے ،پھر وہ ضرور ملامت کئے ہوئے میدانِ حشر میں پھینک دیئے جاتے۔

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ: تو اسے اس کے رب نے چن لیا۔ یعنی حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی وجہ سے اللہ پاک نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی اور انہیں ہر ایسا کام کرنے سے محفوظ کر دیا جسے چھوڑ دینابہتر ہو۔( تفسیر صراط الجنان جلد 10 )

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا :

(5) وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ ( سورۃ الانبیاء آیت نمبر 87 )

وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضب ناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ پاک کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ پاک کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( تفسیر صراط الجنان، جلد 6 )

دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ پاک اسے قبول فرماتا ہے۔

( تاریخ ابنِ عساکر،حرف السین فی آبائھم ، 5213 ، عمر بن سعد بن ابی وقاص ...الخ، 45/38. )

اللہ پاک ہمیں بھی مصیبت و پریشانی اور آزمائشوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


حضرت یونس علیہ السّلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ہیں۔ قرآنِ کریم میں آپ کا تذکرہ مختلف مقامات پر آیا ہے اور آپ کی زندگی کے اہم واقعات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت یونس علیہ السّلام کا واقعہ صبر، دعوتِ دین، اللہ تعالیٰ کی رحمت، توبہ اور دعا کی قبولیت کا عظیم درس دیتا ہے۔ قرآن نے آپ کو مختلف القابات سے یاد فرمایا اور آپ کی دعا کو رہتی دنیا تک مومنوں کے لیے نجات کا ذریعہ بنایا۔حضرت یونس علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی دعوت دی، لیکن قوم نے ابتدا میں آپ کی دعوت قبول نہ کی۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (سورۃ الصافات: 139)

یہ آیت حضرت یونس علیہ السّلام کے مقامِ نبوت اور عظمت کو واضح کرتی ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں شامل تھے جنہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔حضرت یونس علیہ السّلام نے مسلسل اپنی قوم کو سمجھایا، مگر جب انہوں نے نافرمانی اور انکار جاری رکھا تو آپ ان سے ناراض ہو کر بستی سے نکل گئے۔

قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء: 87)

اس آیت میں حضرت یونس علیہ السّلام کو "ذوالنون" یعنی "مچھلی والے" کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔

حضرت یونس علیہ السّلام جب کشتی میں سوار ہوئے تو حالات ایسے بنے کہ انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ قرآنِ کریم میں فرمایا:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (سورۃ الصافات: 142)

یہ حضرت یونس علیہ السّلام کی زندگی کی ایک عظیم آزمائش تھی۔ سمندر کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔قرآنِ مجید میں حضرت یونس علیہ السّلام کی مشہور دعا مذکور ہے:لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

یہ دعا انتہائی عظمت والی دعا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار، اس کی پاکی کا بیان اور اپنی عاجزی و کوتاہی کا اعتراف شامل ہے۔ اسی لیے اس دعا کو غم، پریشانی اور مصیبت میں پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السّلام کی دعا قبول فرمائی اور انہیں نجات عطا کی۔ قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء: 88)

یہ آیت تمام اہلِ ایمان کے لیے امید کا پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مشکلات سے نجات عطا فرماتا ہے۔ قرآنِ مجید میں حضرت یونس علیہ السّلام کو ایک اور لقب "صاحب الحوت" سے بھی یاد کیا گیا ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔ (سورۃ القلم: 48)

حضرت یونس علیہ السّلام کے واقعہ سے کئی اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ میں صبر اختیار کرنا چاہیے۔ مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر انسان سے غلطی ہو جائے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ دعا اور توبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھول دیتی ہیں۔

حضرت یونس علیہ السّلام کا واقعہ قرآنِ کریم کے نہایت سبق آموز واقعات میں سے ایک ہے۔ قرآن نے آپ کو ذوالنون اور صاحب الحوت جیسے القابات سے یاد فرمایا اور آپ کی دعا کو مومنوں کے لیے نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ ہمیں چاہیے کہ حضرت یونس علیہ السّلام کے صبر، توکل اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کے جذبے سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگی میں ان تعلیمات کو اپنائیں۔


فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس:98)

فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ توبہ کر کے ایمان لے آتا اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)

اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)

فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:139،140 )

وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)

اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴ / ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)


قرآنِ کریم ہدایت کا وہ سرچشمہ ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال کا ذکر محض قصہ گوئی کے لیے نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے فرمایا ہے۔ انہی جلیل القدر پیغمبروں میں ایک عظیم نام حضرت یونس علیہ السلام کا ہے، جنہیں قرآنِ پاک نے "صاحب الحوت" (مچھلی والا) اور "ذوالنون" کے القاب سے بھی یاد کیا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ صبر، استقامت، توبہ کی قبولیت اور اللہ کی بے پناہ قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جو مایوسی کے گہرے سمندروں میں ڈوبے ہوئے انسان کے لیے امید کا ساحل بن کر ابھرتا ہے۔ آئیے قرآنِ پاک کی کثیر آیات کی روشنی میں اس ایمان افروز واقعے کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں، جہاں تراجم کے لیے امامِ اہل سنت مجددِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے شاہکار ترجمہ "کنز الایمان" اور مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ کے مستند ترجمہ "کنز العرفان" سے رہنمائی لی گئی ہے۔

(1) حضرت یونس علیہ السلام کی نبوت اور وحی کا تذکرہ:اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر دیگر جلیل القدر انبیاء کے ساتھ فرما کر آپ کی عظمتِ نبوت کو واضح کیا ہے۔ ارشادفرمایا:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (سورۃ النساء:163)

اسی طرح سورۃالانعام میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہان والوں پر فضیلت دینے کا ذکر فرمایا:

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ (سورۃ الانعام:86)

(2) دعوتِ حق اور بستی سے روانگی کا منظر:حضرت یونس علیہ السلام کو عراق کے شہر "نینوٰی" کے لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ جب قوم نے طویل عرصے تک آپ کی دعوت کو جھٹلایا، تو آپ نے انہیں عذابِ الٰہی کی خبر دی اور اللہ کے حتمی اذن کا انتظار کیے بغیر، غصے کی کیفیت میں بستی سے تشریف لے گئے۔ قرآنِ حکیم میں اس منظر کو یوں پیش کرتا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء:87)

(3) قومِ یونس کی بے مثال توبہ اور عذاب کا ٹلنا:جب حضرت یونس علیہ السلام بستی سے نکل گئے اور عذاب کے آثار افق پر نمودار ہوئے، تو قوم کے دلوں میں خوفِ خدا جاگ اٹھا۔ وہ سب روتے ہوئے جنگل کی طرف نکل گئے اور سچے دل سے توبہ کی۔ یہ تاریخِ انسانی کا واحد واقعہ ہے کہ عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ قبول ہوئی:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس، آیت: 98)

(4)کشتی کا سفر، قرعہ اندازی اور مچھلی کا پیٹ:بستی سے نکلنے کے بعد حضرت یونس علیہ السلام ایک مسافر کشتی پر سوار ہوئے۔ سمندر میں طوفان آنے کی وجہ سے کشتی والوں نے قرعہ ڈالا کہ کس کو سمندر میں پھینکا جائے۔ سورۃ الصافات میں اس پورے واقعے کی کثیر آیات موجود ہیں:

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات، آیات: 140 تا 142)

(5)تین اندھیروں میں کائناتی پکار: "آیتِ کریمہ":مچھلی کے پیٹ، سمندر کی گہرائی اور رات کی تاریکی کے تین خوفناک اندھیروں میں محصور ہونے کے باوجود، اللہ کے نبی مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے کمالِ عاجزی سے اپنے رب کی بارگاہ میں وہ سچی فریاد کی جو قیامت تک کے لیے مسلمانوں کا وظیفہ بن گئی:

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت: 87)

اللہ تعالیٰ نے اس پکار کو فوراً شرفِ قبولیت بخشا اور مومنین کے لیے ایک ابدی اصول بیان فرما دیا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورہ الانبیاء، آیت: 88)

(6) تسبیح کی برکت اور مچھلی کے پیٹ سے ساحل تک:سورۃالصافات میں اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ اگر حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تسبیح و استغفار نہ کرتے، تو وہ روزِ قیامت تک وہیں محصور رہتے۔ یہ ذکر اور توبہ ہی کی برکت تھی جس نے انہیں نجات دلائی:

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ الصافات، آیات: 143-144)

چنانچہ اللہ کے حکم سے مچھلی نے آپ کو ساحل پر اگل دیا، جہاں وہ علالت کی حالت میں تھے، اور ربِ کریم نے ان کی حفاظت کا غیبی انتظام فرمایا:فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ (سورۃ الصافات، آیات: 145-146)

(7) دوبارہ قوم کی طرف واپسی اور عیش و آرام کا دور:اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو صحت یابی کے بعد دوبارہ ایک لاکھ یا اس سے زائد کی آبادی کی طرف بھیجا، جنہوں نے آپ کی تصدیق کی اور اللہ نے انہیں خوشحال زندگی عطا فرمائی:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔ (سورۃالصافات، آیات: 147-148)

قرآنِ پاک حضور پاک ﷺ کو مخاطب کر کے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (سورۃ القلم، آیات: 48 تا 50)

حضرت یونس علیہ السلام کا یہ پورا قرآنی سفر کثیر آیات کی روشنی میں ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب مسائل مچھلی کے پیٹ کی طرح انسان کو چاروں طرف سے گھیر لیں، مادی اسباب ختم ہو جائیں اور کہیں سے کوئی راستہ نظر نہ آئے، تو مومن کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ اللہ کی توحید کا اقرار، اس کی پاکی کا بیان اور اپنی خطاؤں کا عاجزانہ اعتراف (آیتِ کریمہ) وہ کنجی ہے جو کائنات کے بند دروازوں کو کھول دیتی ہے۔ کنز الایمان کا یہ خوبصورت ترجمہ ہمیں قرآنی مفاہیم کو درست اور عقیدت کے اعلیٰ معیار کے ساتھ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔


قرآن پاک میں انبیاء کرام علیہ السلام کے بہت سارے واقعات موجود ہیں جن میں مسلمانوں کے لیے نصیحت اور عبرت کے لیے کافی ساری چیزیں موجود ہیں اور انہی انبیاء کرام میں سے ایک عظیم نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ انہیں دین کی تعلیم دیں اور اللہ تعالی کے واحد ہونے کا بتائیں آپ کا واقعہ صبر اور اللہ تعالی کی رحمت سے نا امید نہ ہونے کے بارے میں ہے اور آپ علیہ السلام کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے۔

نزول احکام:آپ علیہ السلام پر کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا لیکن وحی کے ذریعے سے بعض پیغام آپ پر نازل کیے جاتے۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ ( النساء:پ:6 آیت 163)

انعامات الہی:اللہ تعالی نے آپ پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ کی دعا قبول کی اور آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الى الله،رضا بالقضاء اور ذکر الہی کی توفیق بخشی۔خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروپ میں اعلی درجہ عطا فرمایا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (پارہ 29 سورۃ القلم آیت نمبر 48 سے 50)

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ اور عذاب کا دور ہونا:جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے یہ گمان کیا کہ اگر حضرت یونس علیہ السلام رات کو بستی سے چلے گئے تو ضرور ہم پر صبح کے وقت عذاب آئے گا اور اگر نہیں گئے تو ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا تو جب حضرت یونس علیہ السلام رات کو نینوٰی بستی سے چلے گئے تو ان سب کو اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا اور جب اگلے دن ان کو عذاب کے آثار آتے ہوئے نظر آئے تو ان سب کو پورا کا پورا یقین ہو گیا اور سب نے بارگاہ الہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگا کہ ہم اس دین پر ایمان لائے جس پہ حضرت یونس علیہ السلام تھے چنانچہ انہوں نے اپنے تمام گناہوں کی توبہ کی اور پرائے مال واپس کر دیئے حتی کہ اگر ایک دوسرے کا ایک پتھر بھی کسی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور اللہ تعالی کے ساتھ اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعا کی تو اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان سے عذاب اٹھا دیا قرآن پاک میں اس کا تذکرہ کچھ یوں ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( پارہ 11،سورۃ یونس،98)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں موجود تھے تو انہیں کئی قسم کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ دریا کی تاریکی،رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالی سے اس طرح دعا کی کہ میرے رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر ایک سے پاک ہے بے شک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا، قرآن پاک میں کچھ اس طرح ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پارہ 17،سورۃ الانبیاء،آیت 87)

حضرت یونس کی دل حلال دینے والی مصیبت سے ہمیں یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو کس طرح کے امتحان میں ڈالتا ہے لیکن جب بندہ امتحان میں پڑھ کر صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتا اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے غیب سے کوئی ایسے انتظام فرما دیتا ہے اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جب حضرت یونس علیہ السلام کو لوگوں نے کشتی سے سمندر میں پھینک دیا اور ان کو مچھلی نے نگل لیا اس حالت میں بھی آپ نے اللہ تعالی سے مدد طلب کی اور اللہ تعالی نے آپ کی مدد کی اور پھر تندرستی اور سلامتی کے ساتھ اپنی قوم کی طرف پہنچا دیا۔


اللہ پاک نے انسانوں کی تخلیق فرمائی تو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء ورسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا،اِنہیں انبیاء میں سے حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (23 ،الصّٰٓفّٰتِ:139)

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ پاک نے قومِ نینویٰ کی طرف مبعوث فرمایا ، جنہوں نے قوم کو اللہ پاک کی طرف مائل کیا ،اور دین اسلام کی تبلیغ فرمائی ، آپ علیہ السلام کے بارے میں چند واقعات قلم بند ہیں ۔

(1)مچھلی کے پیٹ میں جانا:اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا: فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (پ23,الصّٰٓفّٰتِ:142)

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی نافرمانی کی ، تو آپ علیہ السلام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے ، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ پاک کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ پاک نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،اور مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کو کھانا نہیں ہے یہ صرف ان کے لیے ایک آزمائش ہے۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)

(2)مقبول دعا: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے گی۔ وہ دعا حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک،الحدیث:۱۹۰۷)

(3)قوم کاایمان لانا: اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( پ11،یونس :98)

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا ، آپ علیہ السلام نے قوم کو عذاب سے ڈرایا مگر وہ نہ مانے، صبح کے وقت جب عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آگیا، یہ دیکھ کر اُنہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا تو آپ کو نہ پایا، اب وہ لوگ اپنی عورتوں ، اور بچوں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی تو پروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا ۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)

اللہ کریم ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال اور قرآن کریم کو تدبر کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین


آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا نامِ پاک یونس بن متٰی ہے اور چونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو’’ذوالنون ‘‘اور’’ صاحِبُ الْحُوْت ‘‘(یعنی مچھلی والے) بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کااجمالی ذکرِ خیر سورۃ النساء ،آیت:163 اور سورۃ اَلانعام ،آیت:86 میں ہے، جبکہ تفصیلی تذکرہ درج ذیل سورتوں میں ہے:

(1) سورۃ یونس ،آیت:98۔ (2) سورۃ الانبیاء ،آیت:87،88۔ (3) سورۃالقلم ،آیت:48 تا 50۔ (4) سورۃالصّٰٓفّٰت ،آيت:139 تا 148

اجمالی ذکر:(1)آپ عَلَیْہِ السَّلَام پرجداگانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا،البتہ وحی کے ذریعے آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر بعض احکام نازل ہوئے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (النساء:163)

(2)دوسرے مقام پر انبیائے اکرام علیہم السلام کی افضلیت پر موجود آیت کے ضمن میں آپ علیہ السلام کا تزکرہ ہوا،ارشاد بارى تعالىٰ:وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ (الانعام:86)

تفصیلی تذکرہ :(1)فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (يونس:98)

(2) وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) ترجمۂ کنز الایمان :اور ذوالنون کو (یاد کرو)جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بےشک مجھ سے بے جا ہوا۔(الانبياء:87)

(3) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (الانبياء:88)

(4) فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) ‏

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔ (القلم:48)

(5) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹)

‏ترجمۂ کنز الایمان :اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیاہوا۔ (القلم:49)

(6) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

‏ترجمۂ کنز الایمان : تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ (القلم:50)

سورۂ الصّٰٓفّٰت" کی ذیل آیات (139 تا 148) میں حضرت یونس علیہ السلام کا سابقہ مذکور آیات کی مناسبت زیادہ طویل تذکرہ ہے:

(7) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ ‏کنز الایمان : اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(الصّٰٓفّٰت:،139140)

(8) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (الصّٰٓفّٰت:142،141)

(9) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (الصّٰٓفّٰت:143تا145)

(10) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ (الصّٰٓفّٰت:146)

(11) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔ (الصّٰٓفّٰت:148،147)

میں نے مضمون كے طویل ہونے کے خوف سے یہاں صرف آیات قرآنی اور ان کا صحیح ترجمہ"کنزالایمان" سے ذکر کیا ہے اگر آپ ان آیات کی تفسیر پڑھنے کے خواہشمند ہیں تو میرے مشورے سے مکتبہ المدینہ کی کتاب "تفسیر صراط الجنان" سے ان تمام آیات کی تفسیر کا تفصیلی مطالعہ کریں وه آپ کے لئے زیادہ مفید ہوگا،اور حضرت یونس علیہ الاسلام کے سیرت کے متعلق مطالعہ کے لئے مکتبہ المدینہ کی کتاب "سیرت الانبیاء" کا صفحہ 491 تا 504 کا مطالعہ کریں۔


وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ  اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃالانبیاء:87)

تفسیر صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)

مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)


اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات بیان فرمائے ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزاریں۔ انہی عظیم انبیاءِ کرام میں حضرت یونس علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ قرآنِ پاک میں آپ علیہ السلام کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ کہیں آپ کو اللہ کے برگزیدہ رسول کے طور پر بیان کیا گیا، کہیں آپ کی قوم کو دی گئی دعوتِ حق کا ذکر ہے اور کہیں مچھلی والے مشہور واقعے کو بیان کیا گیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی تھے۔ آپ کو ایک قوم کی طرف ہدایت اور تبلیغ کے لیے بھیجا گیا۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

کنزالایمان:اور بیشک یونس ضرور رسولوں سے ہے۔(پارہ 23،سورۃ الصّافات،آیت نمبر 139)

آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی اور شرک و گناہوں سے بچنے کی نصیحت فرمائی، لیکن قوم نے ابتدا میں آپ کی بات قبول نہ کی۔ جب قوم مسلسل نافرمانی پر قائم رہی تو حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے روانہ ہوگئے۔ بعد میں جب قوم نے عذاب کی نشانیاں دیکھیں تو سچے دل سے توبہ کی اور ایمان لے آئی۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

کنزالایمان:تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(پارہ 11،سورۃ یونس،آیت نمبر98)

حضرت یونس علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے۔ پھر قرعہ اندازی کے بعد آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآنِ پاک میں اس طرح آیا ہے:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا ۔تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (پارہ23،سورۃ الصّافات،آیت نمبر 142تا 144)

مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ قرآنِ پاک میں یہ دعا یوں بیان ہوئی ہے:لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

کنزالایمان:تیرے سوا کسی کو بندگی نہیں، پاکی ہے تجھے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(پارہ 17،سورۃ الانبیاء،آیت نمبر87)

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اور انہیں صحیح سلامت مچھلی کے پیٹ سے باہر نکال دیا۔ قرآنِ پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کو "ذوالنون" یعنی"مچھلی والے" کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں۔ انسان کو کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مشکل حالات میں صبر، دعا اور توبہ اختیار کرنی چاہیے۔ اسی طرح یہ واقعہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اپنے بندوں پر اس کی رحمت کا یقین بھی دلاتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ قرآنِ پاک میں بیان کردہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ایمان کو تازگی دیتا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انبیاءِ کرام علیہم السلام کی مبارک زندگیوں سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگی کو دینِ اسلام کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔


آپ کا نام یونس بن متی ہے ۔ آپ حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ کے نام مبارک کی مکمل سورت قرآن پاک میں موجود ہے ۔ آپ علیہ السلام کا شمار اللہ کے برگزیدہ اور عظیم انبیاء میں ہوتا ہے ۔ قرآن میں آپ کو ذو النون اور صاحب الحوت کے القاب کے ساتھ یاد کیا گیا ہے ۔

فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق :اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ ( سورۃ الصفت :139،140)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۴ / ۲۶، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ص۱۰۰۹، ملتقطاً)

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃا لصفت:141،142)

جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ۷ / ۴۸۷، ملخصاً)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان واقعات سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


قرآن مجید میں انسانی ہدایت، صبر، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی لامحدود رحمت کے عظیم الشان اسباق پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قوم کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا، لیکن قوم کی ابتدائی نافرمانی پر آپ نے غصے میں آ کر بستی چھوڑ دی، جس کا قرآنی اور تفصیلی پس منظر درج ذیل ہے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:139،140) 

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵ / ۱۷۵۲، ملخصاً)

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں یوں ہے:

فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔(مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)

اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)

حضرت یونس (علیہ السلام) کا قرآنی بیان انسان کے لیے توبہ، عجز اور رجوع الیٰ اللہ کا سب سے روشن استعارہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:

صبر اور استقامت: دین کی تبلیغ اور آزمائشوں کے وقت جلد بازی اور مایوسی سے گریز کرنا چاہیے۔

قبولیتِ توبہ: کوئی بھی گناہ یا غلطی انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں کر سکتی، بشرطیکہ وہ خلوصِ نیت سے معافی مانگے۔

ذاتی احتساب: ایک داعی اور مسلمان کی اصل کامیابی اپنی غلطی کا بروقت اعتراف کرنے اور اللہ کے سامنے جھک جانے میں ہے۔

یہ قرآنی واقعہ رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے ایک ابدی پیغام ہے کہ مشکلات کی تاریکیاں کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت کی روشنی اور سچی توبہ کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔