قرآن پاک میں انبیاء کرام علیہ السلام کے بہت سارے واقعات موجود ہیں جن میں مسلمانوں کے لیے نصیحت اور عبرت کے لیے کافی ساری چیزیں موجود ہیں اور انہی انبیاء کرام میں سے ایک عظیم نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ انہیں دین کی تعلیم دیں اور اللہ تعالی کے واحد ہونے کا بتائیں آپ کا واقعہ صبر اور اللہ تعالی کی رحمت سے نا امید نہ ہونے کے بارے میں ہے اور آپ علیہ السلام کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے۔

نزول احکام:آپ علیہ السلام پر کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا لیکن وحی کے ذریعے سے بعض پیغام آپ پر نازل کیے جاتے۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ ( النساء:پ:6 آیت 163)

انعامات الہی:اللہ تعالی نے آپ پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ کی دعا قبول کی اور آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الى الله،رضا بالقضاء اور ذکر الہی کی توفیق بخشی۔خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروپ میں اعلی درجہ عطا فرمایا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (پارہ 29 سورۃ القلم آیت نمبر 48 سے 50)

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ اور عذاب کا دور ہونا:جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے یہ گمان کیا کہ اگر حضرت یونس علیہ السلام رات کو بستی سے چلے گئے تو ضرور ہم پر صبح کے وقت عذاب آئے گا اور اگر نہیں گئے تو ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا تو جب حضرت یونس علیہ السلام رات کو نینوٰی بستی سے چلے گئے تو ان سب کو اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا اور جب اگلے دن ان کو عذاب کے آثار آتے ہوئے نظر آئے تو ان سب کو پورا کا پورا یقین ہو گیا اور سب نے بارگاہ الہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگا کہ ہم اس دین پر ایمان لائے جس پہ حضرت یونس علیہ السلام تھے چنانچہ انہوں نے اپنے تمام گناہوں کی توبہ کی اور پرائے مال واپس کر دیئے حتی کہ اگر ایک دوسرے کا ایک پتھر بھی کسی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور اللہ تعالی کے ساتھ اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعا کی تو اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان سے عذاب اٹھا دیا قرآن پاک میں اس کا تذکرہ کچھ یوں ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( پارہ 11،سورۃ یونس،98)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں موجود تھے تو انہیں کئی قسم کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ دریا کی تاریکی،رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالی سے اس طرح دعا کی کہ میرے رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر ایک سے پاک ہے بے شک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا، قرآن پاک میں کچھ اس طرح ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پارہ 17،سورۃ الانبیاء،آیت 87)

حضرت یونس کی دل حلال دینے والی مصیبت سے ہمیں یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو کس طرح کے امتحان میں ڈالتا ہے لیکن جب بندہ امتحان میں پڑھ کر صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتا اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے غیب سے کوئی ایسے انتظام فرما دیتا ہے اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جب حضرت یونس علیہ السلام کو لوگوں نے کشتی سے سمندر میں پھینک دیا اور ان کو مچھلی نے نگل لیا اس حالت میں بھی آپ نے اللہ تعالی سے مدد طلب کی اور اللہ تعالی نے آپ کی مدد کی اور پھر تندرستی اور سلامتی کے ساتھ اپنی قوم کی طرف پہنچا دیا۔