قرآنِ کریم ہدایت کا وہ سرچشمہ ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال کا ذکر محض قصہ گوئی کے لیے نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے فرمایا ہے۔ انہی جلیل القدر پیغمبروں میں ایک عظیم نام حضرت یونس علیہ السلام کا ہے، جنہیں قرآنِ پاک نے "صاحب الحوت" (مچھلی والا) اور "ذوالنون" کے القاب سے بھی یاد کیا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ صبر، استقامت، توبہ کی قبولیت اور اللہ کی بے پناہ قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جو مایوسی کے گہرے سمندروں میں ڈوبے ہوئے انسان کے لیے امید کا ساحل بن کر ابھرتا ہے۔ آئیے قرآنِ پاک کی کثیر آیات کی روشنی میں اس ایمان افروز واقعے کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں، جہاں تراجم کے لیے امامِ اہل سنت مجددِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے شاہکار ترجمہ "کنز الایمان" اور مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ کے مستند ترجمہ "کنز العرفان" سے رہنمائی لی گئی ہے۔

(1) حضرت یونس علیہ السلام کی نبوت اور وحی کا تذکرہ:اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر دیگر جلیل القدر انبیاء کے ساتھ فرما کر آپ کی عظمتِ نبوت کو واضح کیا ہے۔ ارشادفرمایا:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (سورۃ النساء:163)

اسی طرح سورۃالانعام میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہان والوں پر فضیلت دینے کا ذکر فرمایا:

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔ (سورۃ الانعام:86)

(2) دعوتِ حق اور بستی سے روانگی کا منظر:حضرت یونس علیہ السلام کو عراق کے شہر "نینوٰی" کے لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ جب قوم نے طویل عرصے تک آپ کی دعوت کو جھٹلایا، تو آپ نے انہیں عذابِ الٰہی کی خبر دی اور اللہ کے حتمی اذن کا انتظار کیے بغیر، غصے کی کیفیت میں بستی سے تشریف لے گئے۔ قرآنِ حکیم میں اس منظر کو یوں پیش کرتا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء:87)

(3) قومِ یونس کی بے مثال توبہ اور عذاب کا ٹلنا:جب حضرت یونس علیہ السلام بستی سے نکل گئے اور عذاب کے آثار افق پر نمودار ہوئے، تو قوم کے دلوں میں خوفِ خدا جاگ اٹھا۔ وہ سب روتے ہوئے جنگل کی طرف نکل گئے اور سچے دل سے توبہ کی۔ یہ تاریخِ انسانی کا واحد واقعہ ہے کہ عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ قبول ہوئی:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس، آیت: 98)

(4)کشتی کا سفر، قرعہ اندازی اور مچھلی کا پیٹ:بستی سے نکلنے کے بعد حضرت یونس علیہ السلام ایک مسافر کشتی پر سوار ہوئے۔ سمندر میں طوفان آنے کی وجہ سے کشتی والوں نے قرعہ ڈالا کہ کس کو سمندر میں پھینکا جائے۔ سورۃ الصافات میں اس پورے واقعے کی کثیر آیات موجود ہیں:

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات، آیات: 140 تا 142)

(5)تین اندھیروں میں کائناتی پکار: "آیتِ کریمہ":مچھلی کے پیٹ، سمندر کی گہرائی اور رات کی تاریکی کے تین خوفناک اندھیروں میں محصور ہونے کے باوجود، اللہ کے نبی مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے کمالِ عاجزی سے اپنے رب کی بارگاہ میں وہ سچی فریاد کی جو قیامت تک کے لیے مسلمانوں کا وظیفہ بن گئی:

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت: 87)

اللہ تعالیٰ نے اس پکار کو فوراً شرفِ قبولیت بخشا اور مومنین کے لیے ایک ابدی اصول بیان فرما دیا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورہ الانبیاء، آیت: 88)

(6) تسبیح کی برکت اور مچھلی کے پیٹ سے ساحل تک:سورۃالصافات میں اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ اگر حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تسبیح و استغفار نہ کرتے، تو وہ روزِ قیامت تک وہیں محصور رہتے۔ یہ ذکر اور توبہ ہی کی برکت تھی جس نے انہیں نجات دلائی:

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ الصافات، آیات: 143-144)

چنانچہ اللہ کے حکم سے مچھلی نے آپ کو ساحل پر اگل دیا، جہاں وہ علالت کی حالت میں تھے، اور ربِ کریم نے ان کی حفاظت کا غیبی انتظام فرمایا:فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ (سورۃ الصافات، آیات: 145-146)

(7) دوبارہ قوم کی طرف واپسی اور عیش و آرام کا دور:اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو صحت یابی کے بعد دوبارہ ایک لاکھ یا اس سے زائد کی آبادی کی طرف بھیجا، جنہوں نے آپ کی تصدیق کی اور اللہ نے انہیں خوشحال زندگی عطا فرمائی:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔ (سورۃالصافات، آیات: 147-148)

قرآنِ پاک حضور پاک ﷺ کو مخاطب کر کے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (سورۃ القلم، آیات: 48 تا 50)

حضرت یونس علیہ السلام کا یہ پورا قرآنی سفر کثیر آیات کی روشنی میں ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب مسائل مچھلی کے پیٹ کی طرح انسان کو چاروں طرف سے گھیر لیں، مادی اسباب ختم ہو جائیں اور کہیں سے کوئی راستہ نظر نہ آئے، تو مومن کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ اللہ کی توحید کا اقرار، اس کی پاکی کا بیان اور اپنی خطاؤں کا عاجزانہ اعتراف (آیتِ کریمہ) وہ کنجی ہے جو کائنات کے بند دروازوں کو کھول دیتی ہے۔ کنز الایمان کا یہ خوبصورت ترجمہ ہمیں قرآنی مفاہیم کو درست اور عقیدت کے اعلیٰ معیار کے ساتھ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔