اللہ پاک
نے انسانوں کی تخلیق فرمائی تو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء ورسل علیہم
السلام کو مبعوث فرمایا،اِنہیں انبیاء میں سے حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ
اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (23 ،الصّٰٓفّٰتِ:139)
حضرت یونس
علیہ السلام کو اللہ پاک نے قومِ نینویٰ کی طرف مبعوث فرمایا ، جنہوں نے قوم کو
اللہ پاک کی طرف مائل کیا ،اور دین اسلام کی تبلیغ فرمائی ، آپ علیہ السلام کے
بارے میں چند واقعات قلم بند ہیں ۔
(1)مچھلی کے پیٹ میں جانا:اللہ پاک
نے قرآن مجید میں فرمایا: فَالْتَقَمَهُ
الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا
اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (پ23,الصّٰٓفّٰتِ:142)
حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی نافرمانی کی ، تو آپ علیہ السلام غضبناک ہو
کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے ، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ پاک کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ پاک نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،اور
مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کو کھانا نہیں ہے یہ صرف ان کے لیے ایک آزمائش
ہے۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
(2)مقبول دعا: نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا ’’ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی
بلا نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے گی۔ وہ
دعا حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک،الحدیث:۱۹۰۷)
(3)قوم کاایمان لانا: اللہ
پاک نے قرآن مجید میں فرمایا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( پ11،یونس
:98)
حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا ، آپ علیہ السلام نے قوم کو عذاب
سے ڈرایا مگر وہ نہ مانے، صبح کے وقت جب عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ
رنگ کا ہیبت ناک بادل آگیا، یہ دیکھ کر اُنہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ،
انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا تو آپ کو نہ پایا، اب وہ لوگ اپنی
عورتوں ، اور بچوں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و
زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں ہم اس
پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی تو پروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا ۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
اللہ کریم
ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال اور قرآن کریم کو تدبر کے ساتھ پڑھنے کی
توفیق عطا فرمائے ۔آمین
Dawateislami