الله پاک
نے بنی آدم کی ہدایت و رہنمائی کیلئے مختلف زمانوں میں کئی انبیائے کرام علیہم
السلام مبعوث فرمائے جن کے بھیجنے کا مقصد مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی
توحید ومعرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور عبادت کے طریقوں کی تعلیم ہے،
انہیں میں الله پاک کے ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام ہیں جن کا ذکر الله پاک نے
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر فرمایا ہے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو
مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت
کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن اس کے باوجود اس ظالم و سرکش قوم نے آپ کو جھٹلایا
اور اپنے شرک سے باز نہ آئے جس کے نتیجے میں آپ علیہ السلام نے انہیں الله تعالیٰ
کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، حضرت یونس علیہ السلام کے اس واقعہ میں ہمارے
لئے صبر، الله پاک پر کامل توکل، توبہ، تسبیح و ذکرِ الٰہی اور دعا کا درس ملتا ہے۔(صراط
الجنان)
حضرت یونس علیہ السلام کی بعثت:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ
الصفت:139،140)
یہاں سے
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔کہ جب آپ
نے اپنی قوم کو عذاب آنے کی خبر دی تو عذاب آنے میں تاخیر ہوئی چونکہ آپ نے عذاب
آنے کا تو فرمایا تھا لیکن معین وقت بیان نہیں فرمایا تھا، اور آپ علیہ السلام کی
قوم اس شخص کو قتل کردیا کرتی تھی جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے اور آپ علیہ
السلام یقیناً سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی
انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب
آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا
واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے۔(صراط الجنان)
حضرت یونس علیہ السلام اور قرعہ
اندازی:
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔(سورۃ الصفت: 141)
اس آیت میں
بیان کیا گیا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب
کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔(صراط
الجنان)
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ
میں :
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا
اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (سورۃ الصفت:142)
آیت کریمہ
میں آپ علیہ السلام کو سمندر میں ڈالے جانے کے بعد کا واقعہ بیان کیا گیا کہ جب
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے
جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔(صراط الجنان)
الله پاک کی تسبیح بیان کرنے کی
برکت :
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔(سورۃا لصفت:143،144)
اس آیت
کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی
کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے
تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔(صراط الجنان)
الله پاک کی رحمت اور مچھلی کے پیٹ
سے نجات:
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (سورۃ الصفت:146)
حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مچھلی کے پیٹ سے باہرتشریف لائے وہاں کوئی سایہ
نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے
کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دہنِ مبارک میں دے کر آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد
شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔(صراط
الجنان)
یاد رہے
کہ کدو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے مگر یہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا معجزہ تھا کہ یہ کدو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے
بڑے بڑے پتوں کے سائے میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آرام کرتے تھے۔حضرت یونس
علیہ السلام کے اس واقعہ سے ہمیں کئی اہم باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں، ہمیں ہر حال میں
صبر اور الله پاک پر بھروسہ کرنا چاہیے، کس صورت بھی الله پاک کی رحمت سے مایوس نہ
ہوں، کیسی ہی مشکل کیوں نہ ہو اللہ پاک کو پکارا جائے اسکی تسبیح و تحمید کی جائے
اگر الله نے چاہا تو ضرور اس سے نجات مل جائے گی، ہر پریشانی میں اللہ پاک کی طرف
رجوع و دعا کرنا چاہیے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے۔
اللہ پاک
ہمیں اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے پیارے حبیب کریم ﷺ کی
سچی محبت نصیب فرمائے. آمین۔
Dawateislami