قرآن مجید انبیاء کرام علیہم السلام کے قصے بیان کرتا ہے، مگر یہ محض قصے نہیں، دلوں کو جگانے والے آئینے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس میں آزمائش ہے، توبہ ہے، رحمت ہے، اور بندے کے اپنے رب سے تعلق کی حقیقت ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کا ذکر مختلف مقامات پر فرمایا:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات، آیات 139-142)

ام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہو کر بغیر اللہ کے حکم کے نکل گئے، اسی لیے انہیں آزمائش میں ڈالا گیا۔(تفسیر ابن کثیر، 7/ 35)

قرآن نے ان کے دل کی کیفیت کو بھی بیان کیا۔ سورۃ الانبیاء میں ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 87)

ام قرطبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ "ظلمات" سے مراد رات، سمندر اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ہے۔(الجامع لأحکام القرآن، 11/ 322)

یہ دعا ہی تھی جس نے بندگی کی گہرائی کھول دی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دَعْوَةُ ذِی النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَإِنَّهُ لَمْ یَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِی شَیْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُترجمہ: "مچھلی والے کی دعا، جب انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں پکارا، یہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔ جو مسلمان بھی کسی معاملے میں یہ دعا کرے، اللہ اسے قبول فرماتا ہے"۔ (سنن الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث نمبر: 3505)

حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ بندہ اگرچہ نبی ہو، اگر وہ جلد بازی کرے اور حکمِ الٰہی کا انتظار نہ کرے، تو اسے بھی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ مگر اللہ کی رحمت یہ ہے کہ وہ توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں کرتا۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے رب کو پکارا، تو اللہ نے انہیں نجات دی۔ فرمایا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 88)

ام السعدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کہ یہ وعدہ ہر اس مومن کے لیے ہے جو سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کرے۔ (تفسیر السعدی، ص 529)

قرآن نے یہ بھی بتایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے جب عذاب دیکھا تو سچے دل سے توبہ کی، اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔ سورۃ یونس میں ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس، آیت 98)

ام ابن جریر الطبری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کہ یہ امتِ محمدیہ کے لیے ایک بشارت ہے کہ سچی توبہ عذاب کو ٹال دیتی ہے۔(جامع البیان، 11/ 191)

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آزمائش بندے کو توڑنے کے لیے نہیں آتی، بلکہ اسے اپنے رب کے قریب کرنے کے لیے آتی ہے۔ اندھیریوں میں بھی ایک آواز سنی جاتی ہے، وہ آواز ہے " لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ"۔ جب بندہ اس صدا کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹتا ہے، تو سمندر بھی راستہ دے دیتا ہے، مچھلی کا پیٹ بھی قید خانہ نہیں رہتا، اور دل کو وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کی کوئی نعمت نہیں دے سکتی۔