کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از ہمشیرہ ذوہیب،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
ایک انسان
ہونے کے ناطے ہم کسی کے ساتھ برا کر نے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔کیوں کہ یہ مومن کی
شان کے خلاف ہے۔ مومن تو ہمیشہ دوسرے کے بھلے کے لیے ہی سوچے گا کبھی کسی دوسرے کے
ساتھ برائی نہیں کرے گا۔ مومن تو وہ ہوتا ہے جس میں اپنے مسلمان بھائی کے لیے
احساس ہو۔ احساس کرنا ایک بہت اچھا عمل ہے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں ظلم،
زیادتی، اور کسی کو نقصان پہنچانے سے سخت منع کیا گیا ہے، اور اچھے اخلاقی رویے کا
حکم دیا گیا ہے۔
آپ ﷺ نے
فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ (مسلم،
ص 1069، حدیث: 6576)
آپ ﷺ نے
فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری،
1/15، حدیث: 10)
ایک مسلمان اپنی
حالت پر غور کرے کہ اگر میرے ساتھ کوئی برا کرے تو میرے دل کا کیا حال ہوگا۔ اس
طرح پھر دوسرے سے برا کرنے کا خیال بھی نہیں آئے گا۔ زندگی ایک آئینہ ہے۔ آپ جو
دوسروں کو دیں گے، وہی پلٹ کر آپ کے پاس آئے گا۔ ہمارے بزرگ ہمیشہ ایک بات دہراتے
تھے: کسی کے ساتھ برا مت کیجئے۔ یہ صرف ایک نصیحت نہیں، بلکہ جینے کا وہ اصول ہے
جو فرد، گھر اور پورے معاشرے کو جوڑ کر رکھتا ہے۔
مگر سب سے
خطرناک بات یہ ہے کہ برائی چھوٹے بہانے سے شروع ہوتی ہے۔ چلو ایک بار کر لیتے ہیں،
کوئی نہیں دیکھ رہا۔ لیکن ضمیر سب دیکھ رہا اگر ہم برائی کر رہے ہیں تو برائی کا
بدلہ برائی سے ہی ملتا ہے۔ آپ نے کسی کے ساتھ زیادتی کی، کل کوئی اور آپ کے ساتھ
بھی یہی کرے گا۔
اچھائی کرنے
سے آپ خود مضبوط ہوتے ہیں۔ جب آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں، کسی گرے ہوئے کو
سہارا دیتے ہیں، کسی کے کام میں روڑے نہیں اٹکاتے، تو آپ کے اندر ایک سکون پیدا
ہوتا ہے۔ وہ سکون پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ رات کو سوتے وقت یہ احساس کہ آج میں
نے کسی کا برا نہیں کیا دل کو بہت ہلکا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جس نے برا کیا ہو
وہ رات بھر سوچتا رہتا ہے کہیں پکڑا نہ جاؤں، کہیں بات نہ کھل جائے۔ اس طرح برا
کرنے والا سب سے پہلے خود اپنے لیے جیل بنا لیتا ہے۔
کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت محمد نعیم،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
کسی مسلمان
بہن بھائی کے ساتھ برا مت کیجیے اسلام ہمیں احترام مسلم کا درس دیتا ہے اور حسن
اخلاق سے پیش آنے کا درس دیتا ہے اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک اور اتفاق رکھیے
جیسا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رکھتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنے سے
معاشرہ بہتر ہوتا ہے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور روحانی سکون ملتا ہے۔
اپنی
خرابیوں کو پس پشت ڈال کر ہر شخص
کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے
اگر ہم کسی کے
ساتھ برا کرتے ہے یا برا سوچتے ہیں تو ہم بہت غلط کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ وہی
سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیے معاف کرنا
سیکھئے، بھلائی کی راہ پر چلیے۔ جبکہ نفرت اور برائیاں ہمیشہ مزید برائیوں کو جنم
دیتی ہیں اسلام ہمارا کتنا پیارا دین ہے جو ہماری ہر قدم پر رہنمائی کرتا ہے اور
ہمیں برے کاموں سے بچنے اور اچھے کام اختیار کرنے کا درس دیتا ہے جو کسی کا برا
نہیں چاہتے ان کے ساتھ برا نہیں ہو سکتا جو انسان دوسروں کا برا سوچتا ہے وہ کبھی
خوش نہیں رہ سکتا اس لیے ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے بارے میں اچھا سوچیں اور اچھا
کریں الله پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
الله پاک کا
فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ
لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ
یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ- (پ 26، الجرات:
12) ترجمہ: اے ایمان والو بہت گمانوں سے
بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ
کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمھیں
گوارا نہ ہوگا۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنو۔ (ابن
ماجہ، 3/106، حدیث:2340)
حضرت عبد الله
بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی
زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں کو
چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو ہمیں ہر انسان کے ساتھ اچھے اخلاق، نرمی، محبت اور حسن سلوک کا درس
دیتا ہے۔ کسی کو تکلیف دینا، اس کی دل آزاری کرنا، اسے برا بھلا کہنا یا اس کی عزت
مجروح کرنا ایک مسلمان کے شایان شان نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قول و فعل سے کسی
مسلمان کو تکلیف نہ پہنچائیں اور ہمیشہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کریں۔
کسی کے ساتھ
برا سلوک کرنا صرف مارنے یا گالی دینے ہی کا نام نہیں بلکہ کسی کا مذاق اڑانا، اسے
حقیر سمجھنا، برا لقب دینا، اس کی عزت کو نقصان پہنچانا اور بلاوجہ دل دکھانا بھی
بدسلوکی میں شامل ہوسکتا ہے۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کو برے ناموں سے
پکارنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
غیبت کی تباہ
کاریاں میں حدیث پاک نقل کی گئی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: بےشک کسی مسلمان کی
ناحق بے عزتی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (ابوداود، 4/353، حدیث: 4877)
ایک اور حدیث
پاک میں مسلمانوں کے باہمی تعلق کی خوبصورت مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ
مسلمانوں کی آپس میں محبت، رحمت اور شفقت ایک جسم کی مانند ہے؛ جب جسم کا کوئی عضو
تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف میں شریک ہوجاتا ہے۔
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم کسی کو تکلیف نہ دیں۔ اگر کسی سے غلطی ہوجائے تو اسے معاف کریں، غصے
کے وقت خاموشی اختیار کریں اور بدلے میں برائی کرنے کے بجائے نیکی کریں۔ اگر ہم
دوسروں کے ساتھ محبت، نرمی اور حسن اخلاق سے پیش آئیں گے تو ہمارے معاشرے میں بھی
محبت اور بھائی چارہ پیدا ہوگا۔
کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت رشید احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام
جہاں ہمیں اللہ پاک کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہیں بندوں کے ساتھ حسن سلوک، نرمی،
محبت، خیرخواہی اور اچھے اخلاق اپنانے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی
کا مقصد صرف یہ نہیں کہ وہ خود نیک بنے بلکہ اسے چاہیے کہ اس کے اخلاق اور کردار
سے دوسرے مسلمان بھی محفوظ رہیں۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم کسی کے ساتھ برا سلوک نہ کریں، کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی کی عزت پامال نہ کریں
اور نہ ہی اپنی زبان یا ہاتھ سے کسی کو تکلیف پہنچائیں۔ کیونکہ انسان کے دل کو
دکھانا بہت آسان ہے، مگر ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
رسول اکرم،
نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان
محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)
اس حدیث پاک
سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو چاہیے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ
رہیں۔ لہٰذا ہمیں کسی کو گالی نہیں دینی چاہیے، کسی کی غیبت نہیں کرنی چاہیے، کسی
پر بہتان نہیں لگانا چاہیے، کسی کی تحقیر نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کسی کو بلاوجہ
تکلیف دینی چاہیے۔
اللہ پاک قرآن
کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ:
83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
اس آیت کریمہ
میں ہمیں لوگوں کے ساتھ اچھے انداز میں گفتگو کرنے کا درس دیا گیا ہے۔ ہماری زبان
اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، ہمیں چاہیے کہ اسے نیکی کے کاموں میں استعمال کریں۔
کسی کے دل کو دکھانے، لڑائی جھگڑا کرنے اور دوسروں کی برائیاں بیان کرنے کے بجائے
اپنی زبان کو ذکر و درود، تلاوت قرآن اور اچھی باتوں میں مشغول رکھیں۔
کسی کا دل نہ
دکھائیں، انسان کا دل بہت نازک ہوتا ہے۔ جسم پر لگنے والا زخم تو وقت کے ساتھ ٹھیک
ہو سکتا ہے، مگر دل پر لگنے والا زخم کبھی کبھی ساری زندگی نہیں بھولتا۔ اس لیے
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کسی عمل یا بات سے کسی کا دل نہ دکھائیں۔
رسول اکرم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے
بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13)
اگر ہم اپنے
لیے عزت چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کو بھی عزت دینی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ
ہمارے ساتھ نرمی سے پیش آئیں تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے۔ اگر ہم
چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیوں کو معاف کیا جائے تو ہمیں بھی دوسروں کی غلطیوں سے
درگزر کرنا چاہیے۔
غصے پر قابو
پائیے، اکثر انسان غصے کی حالت میں ایسی بات کہہ دیتا ہے جس پر بعد میں اسے
پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں غصے کے وقت خاموش رہنا چاہیے اور اپنے آپ کو قابو
میں رکھنا چاہیے۔
رسول اکرم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ
ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ (بخاری، 4/130، حدیث: 6114)
لہٰذا اگر
کوئی ہمیں برا بھلا کہے یا ہمارے ساتھ برا سلوک کرے تو ہمیں فوراً بدلہ لینے کے
بجائے صبر سے کام لینا چاہیے۔ معاف کر دینا بہت بڑی نیکی ہے اور دوسروں کی غلطیوں
سے درگزر کرنا اچھے اخلاق کی علامت ہے۔
نرمی اختیار
کیجیے، ہمیں اپنے والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں اور تمام
مسلمانوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے۔ خاص طور پر اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا
اخلاق اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ حقیقی حسن اخلاق یہ ہے کہ انسان اپنے قریب رہنے
والوں کے ساتھ بھی اچھے اخلاق سے پیش آئے۔
رسول اکرم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: جس چیز میں نرمی ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے
نرمی نکال دی جاتی ہے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ (مسلم، ص 1073، حدیث: 6602)
اس لیے ہمیں
چاہیے کہ ہم سختی اور بد اخلاقی کے بجائے نرمی، محبت اور شفقت کو اختیار کریں۔
برائی کا جواب
بھلائی سے دیجیے، اگر کوئی ہمارے ساتھ برا کرے تو ہمیں بھی اس کے ساتھ برا نہیں
کرنا چاہیے۔ اسلام ہمیں برائی کا بدلہ برائی سے دینے کے بجائے اچھائی اور معافی کا
درس دیتا ہے۔ کسی کو معاف کر دینا کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی اور اچھے اخلاق کی
علامت ہے۔ لہٰذا اگر کوئی ہمارے ساتھ برا سلوک کرے تو ہم صبر کریں، اگر ممکن ہو تو
اسے معاف کر دیں اور اپنے دل میں اس کے لیے بغض نہ رکھیں۔
آخر میں ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اس بات کو پختہ کرلیں کہ ہم کسی کے ساتھ برا نہیں کریں
گے۔ نہ اپنی زبان سے کسی کا دل دکھائیں گے، نہ کسی کی غیبت کریں گے، نہ کسی کا
مذاق اڑائیں گے، نہ کسی کی عزت کو مجروح کریں گے اور نہ ہی کسی پر ظلم کریں گے۔
یاد رکھیے!
ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے کسی ایک جملے سے کسی کا دل کتنا ٹوٹ سکتا ہے اور ہماری
کسی ایک نیکی سے کسی کی زندگی میں کتنی خوشی آ سکتی ہے۔ اس لیے دوسروں کے لیے
آسانیاں پیدا کریں، دلوں کو جوڑیں، نفرتیں ختم کریں اور محبتیں بانٹیں۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم اپنے پیارے آقا ﷺ کے اخلاق کریمانہ کو اپنانے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی ہمارے
ساتھ برا کرے تو ہم صبر کریں، اگر کوئی غلطی کرے تو اسے معاف کریں اور اگر کسی کو
ہماری مدد کی ضرورت ہو تو حسب استطاعت اس کی مدد کریں۔
اللہ پاک ہمیں
اچھے اخلاق اپنانے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے، کسی کا دل نہ دکھانے، غصے پر قابو
پانے اور ہر مسلمان کے ساتھ محبت و نرمی سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت خالد حسین،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
حضرت سیدنا
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سرکار مدینہ منورہ ﷺ نے فرمایا: بے شک
اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکر میں لیتا ہے تو پھر اس کو
نہیں چھوڑتا، یہ فرما کر سرکار نامدار ﷺ نے پارہ 12 سورہ ہود آیت نمبر 102 کی
تلاوت فرمائی: وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ
رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)ترجمہ
کنزالایمان: اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر
بےشک اس کی پکڑ درد ناک ہے۔
دہشت گردوں
لٹیروں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والوں کو بیان کردہ حکایت سے عبرت حاصل
کرنی چاہیے انہیں اپنے انجام سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے کہ جو دنیا میں بھی قہر کی
بجلی گرتی ہے تو اس طرح کے ظالم لوگ ذلت کی موت مارے جاتے ہیں اور ان پر دو آنسو
بہانے والا بھی کوئی نہیں ہوتا اور آہ! آخرت کی سزا کون برداشت کر سکتا ہے یقینا
لوگوں پر ظلم کرنا گناہ دنیا و آخرت کی بربادی کا سبب اور عذاب جہنم کا باعث ہے اس
میں اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی بھی ہے اور بندوں کی حق تلفی بھی۔ (ظلم کا انجام،
ص 4، 5)
اوندھے
منہ جہنم میں: حضرت
محمد بن عیسی ترمذی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے مشہور مجموعۂ احادیث ترمذی میں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں اگر تمام آسمان و زمین والے ایک
مسلمان کا خون کرنے میں شریک ہو جائیں تو اللہ ان سبوں کو منہ کے بل اوندھا کر کے
جہنم میں ڈال دے گا۔ (ترمذی، 3/100، حدیث:
1403)
مفلس کون؟ حضرت
مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے مشہور مجموعہ حدیث صحیح مسلم میں نقل کرتے
ہیں رسول اللہ ﷺ نے استفسار فرمایا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کی
یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے جس کے پاس دراہم و سامان نہ ہو وہ مفلس ہے فرمایا: میری
امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزے اور زکوۃ لے کر آیا کہ اس نے گالی دی
اس پر تہمت لگائی اس کا مال کھایا اس کا خون بہایا اسے مارا تو اس کی نیکیوں میں
سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور کچھ اس مظلوم کو پھر اگر اس کے ذمے جو حقوق
تھے ان کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کی خطائیں لے
کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069 ،
حدیث:6579)
لرز اٹھو! اے
نمازیو! اے روزہ دارو! اے حاجیو! اے پوری زکوۃ ادا کرنے والو! اے خیرات و حسنات
میں حصہ لینے والو! اے نیک صورت نظر آنے والے مالداروں! ڈر جاؤ لرز اٹھو حقیقت میں
مفلس وہ ہے جو نماز روزہ حج زکوۃ صدقات، فلاحی کاموں اور بڑی بڑی نیکیوں کے باوجود
قیامت میں خالی کا خالی رہ جائے جن کو کبھی گالی دے کر کبھی بلا اجازت شرعی ڈانٹ
کر بے عزتی کر کے ذلیل کر کے مار پیٹ کر کے عاریتا چیزیں لے کر قصدا واپس نہ لوٹا
کر قرض دبا کر دل دکھا کر ناراض کر دیا ہوگا وہ اس کی ساری نیکیاں لے جائیں گے اور
نیکیاں ختم ہو جانے کی صورت میں ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واصل جہنم کر دیا
جائے گا۔ (ظلم کا انجام، ص 9)
صحیح مسلم
شریف میں ہے اللہ کے محبوب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے کہ تم لوگ حقوق حق والوں کے
سپرد کر دو گے حتی کہ بے سینگ والی کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مسلم،
ص 1070، حدیث: 6580)
مطلب یہ کہ
اگر تم نے دنیا میں لوگوں کے حقوق ادا نہ کیے تو ہر صورت میں قیامت میں ادا کرو گے
یہاں دنیا میں مال سے اور آخرت میں اعمال سے لہذا بہتری اسی میں ہے کہ دنیا ہی میں
ادا کر دو ورنہ پچھتانا پڑے گا مراۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے: جانور اگرچہ شرعی احکام کے
مکلف نہیں ہے مگر حقوق العباد جانوروں کو بھی ادا کرنے ہوں گے اللہ کا خوف رکھنے
والے حضرات حقوق العباد کے بظاہر معمولی نظر آنے والے معاملات میں بھی ایسی اختیاط
کرتے ہیں کہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ (ظلم کا انجام، ص 10)
امیر
اہل سنت اور حقوق العباد: آپ نے حقوق العباد کی اہمیت ملاحظہ
فرمائی، شیخ طریقت امیر اہل سنت مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت
برکاتہم العالیہ جہاں حقوق اللہ کے معاملات میں ہر درجہ محتاط ہیں وہاں حقوق
العباد کے معاملے میں بھی بے حد احتیاط برتتے ہیں آپ فرماتے ہیں حقوق اللہ اگر
اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا مگر حقوق العباد کا معاملہ سخت
تر ہے کہ جب تک وہ بندہ جس کا حق تلف کیا گیا ہے معاف نہیں کرے گا اللہ بھی معاف
نہیں فرمائے گا اگرچہ یہ بات اللہ پر واجب نہیں مگر اس کی مرضی یہی ہے کہ جس کا حق
تلف کیا گیا ہے اس مظلوم سے معافی مانگ کر راضی کیا جائے۔ (حقوق العباد سے متعلق
احتیاطیں، ص 5)
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں سب کے ساتھ بھلائی کرنے اور کسی کے حقوق تلف کرنے سے
محفوظ فرمائے دوسروں کے ساتھ ہمیشہ اچھی طرح پیش آنے کی اور اللہ ہم سب کو حقوق
اللہ اور حقوق العباد پورے کرنے کی توفیق بخشے۔
کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت عبدالمجید،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام میں
حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کی ادائیگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر کسی کے ساتھ
برا کیا جائے، اس کا دل دکھایا جائے یا حق مارا جائے، تو اللہ پاک اس وقت تک معاف
نہیں فرماتا جب تک کہ وہ بندہ خود معاف نہ کر دے۔ اس لیے کسی کے ساتھ برا کرنے سے پہلے
سو بارسوچیں لیکن آج کل کے بزعم خود اپنے آپ کو عرفی شرفاء کہلانے والے کچھ قوموں کو
حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں اور محض قومیّت کی بنا پر ان کا تمسخر اور استہزاء کرتے
اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور قسم قسم کے دل آزار القاب سے یاد کرتے رہتے ہیں،کبھی
طعنہ زنی کرتے ہیں، کبھی عار دلاتے ہیں، اسی طرح رشوت کا لین دین کرنا، ڈنڈی مار
کر سودا بیچنا، ملاوٹ والا مال فروخت کرنا، قرض دبا لینا، ڈاکہ زنی، بھتہ خوری اور
پرچیاں بھیج کر ہراساں کر کے مال وصول کرنا بھی اس میں شامل ہے، یہ سب حرکتیں حرام
و گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں شریعت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ نہ ظلم
کیا جائے اور نہ ظلم برداشت کیا جائے یعنی ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ظلم کو برداشت کرنا ظالم کو مزید جری کرتا ہے۔ ہاں جہاں عفو و درگزر کی صورت بنتی
ہو وہاں اسے اختیار کیا جائے۔ شریعت کا قاعدہ ہے لا ضرر ولا ضرار نہ نقصان پہنچاؤ
اور نہ نقصان برداشت کرو۔ (ابن ماجہ، 3/106، حدیث: 2340)
حضرت نعمان بن
بشیر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان (باہم) ایک شخص کی طرح ہیں، اگر اس کی
آنکھ میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں
تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 6586)
جب مسلمان ایک
جسم کی طرح ہیں تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو قتل کرنا ایسا ہے جیسے اس نے خود
کو قتل کیا۔
قرآن مجید میں
اللہ پاک نے کسی بھی شخص کے ساتھ برائی، ناانصافی اور زیادتی کرنے سے سختی سے منع
فرمایا ہے۔ درج ذیل قرآنی آیات میں ظلم و زیادتی کی ممانعت کے واضح دلائل موجود
ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ
لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ
الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)(پ
26، الحجرات: 11) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو!مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں،
ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں،
ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور
ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے
اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
حضر ت ضحاک
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو
حضرت عمار،حضرت خباب،حضرت بلا ل،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب
صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم کی غربت دیکھ کر ان کا مذاق اڑایاکرتے تھے۔ ان کے بارے
میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مردوں سے نہ ہنسیں،یعنی مال دار
غریبوں کا، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس
کا مذاق نہ اڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے صدق
اور اخلاص میں بہتر ہوں۔ (خازن، 4/169) اگر
کسی شخص میں فقر، محتاجی اور غریبی کے آثار نظر آئیں تو ان کی بنا پرا س کا مذاق
نہ اڑایا جائے،ہو سکتا ہے کہ جس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ مذاق اڑانے والے کے
مقابلے میں دینداری کے لحاظ سے کہیں بہتر ہو۔ اس لیے ہمیں ایسے کاموں سے گریز کرنا
چاہیے۔
حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی کی عزت یا کسی
اور چیز پر زیادتی کی ہو تو اسے چاہئے کہ اس دن سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے
جس دن دینار اور درہم پاس نہیں ہوں گے، اگر ظالم کے پاس نیک اعمال ہوئے تو ظلم کے
برابر ان میں سے لے لئے جائیں گے اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو ظلم کے برابر مظلوم
کے گناہ ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2449)
کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت سید عاشق حسین،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام ایک
ایسا مکمل اور جامع دین ہے جو انسان کو صرف عبادات (نماز، روزہ وغیرہ) ہی نہیں
سکھاتا بلکہ اس کی پوری زندگی کو بہتر بنانے کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اس میں سب سے
اہم چیز اخلاق حسنہ اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان
نہ صرف خود نیک ہو بلکہ دوسروں کے لیے بھی امن، راحت اور خیر کا ذریعہ بنے۔
کسی انسان کو
ناحق تکلیف دینا، اس کی عزت کو مجروح کرنا، اس کے ساتھ زیادتی کرنا یا اس کے حقوق
کو پامال کرنا اسلام کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام میں انسان کی جان، مال
اور عزت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اسی لیے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں
بار بار لوگوں کے ساتھ بھلائی، انصاف، نرمی اور حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے تاکہ
معاشرہ امن اور محبت کا گہوارہ بن سکے۔
اسلام صرف
انصاف (عدل) ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر احسان یعنی دوسروں کے ساتھ بھلائی اور نرمی
کا بھی حکم دیتا ہے۔ یعنی اگر کوئی ہمارے ساتھ برا کرے تب بھی ہمیں اچھے اخلاق کا
دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
حضور نبی کریم
ﷺ نے مسلمانوں کے باہمی حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور
ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)
اس حدیث سے یہ
بات بہت واضح ہو جاتی ہے کہ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو کسی کو اپنی زبان یا ہاتھ سے
نقصان نہ پہنچائے۔ زبان سے گالی دینا، طعنہ دینا، جھوٹ بولنا، کسی کا مذاق اڑانا،
غیبت کرنا یا دل دکھانا بھی اسی برے عمل میں شامل ہے جس سے اسلام سختی سے منع کرتا
ہے۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو
تکلیف نہ دے۔ (بخاری، 4/105، حدیث: 6018)
یہ حکم صرف
پڑوسی تک محدود نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے حقوق کا خیال رکھا
جائے۔ چاہے وہ گھر کا فرد ہو، رشتہ دار ہو، دوست ہو، استاد ہو یا عام انسان، سب کے
ساتھ حسن سلوک ضروری ہے۔
حضور اکرم ﷺ
نے ظلم سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ پاک فرماتا ہے: اے میرے
بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا،
پس تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ (مسلم، ص 1068، حدیث:6572)
اس کا مطلب یہ
ہے کہ ظلم صرف بڑا گناہ نہیں بلکہ اللہ پاک کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔
کسی کا حق چھیننا، کسی کو ناحق نقصان پہنچانا یا کسی کی دل آزاری کرنا سب ظلم میں
شامل ہے۔
کسی کے ساتھ
برا سلوک کرنے کے اثرات صرف دنیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ آخرت میں بھی اس کا حساب
دینا ہوگا۔ قیامت کے دن حقوق العباد کے بارے میں سخت سوال ہوگا۔ اس لیے اگر ہم سے
کسی کے ساتھ غلطی ہو جائے تو فوراً معافی مانگنی چاہیے، اور اگر کوئی ہمارے ساتھ
زیادتی کرے تو جہاں تک ممکن ہو اسے معاف کر دینا بہتر ہے تاکہ دلوں میں کینہ اور
دشمنی نہ رہے۔
حضور نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو،
آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ (ترمذی، 3/371، حدیث:1931)
اس حدیث سے یہ
سبق ملتا ہے کہ جو شخص دوسروں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور رحم کا معاملہ کرتا ہے،
اللہ پاک بھی اس کے ساتھ رحمت کا معاملہ فرماتا ہے۔ اس لیے ہمیں دوسروں کی تکلیف
کو سمجھنا چاہیے اور ان کے ساتھ سختی کے بجائے نرمی اختیار کرنی چاہیے۔
لہٰذا ہر
مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شخص کے ساتھ محبت، عدل، احترام اور نرمی سے پیش
آئے۔ کسی کو حقیر نہ سمجھے، کسی کا مذاق نہ اڑائے، کسی کی دل آزاری نہ کرے اور نہ
ہی کسی کے حق پر ناجائز قبضہ کرے۔ اچھے اخلاق ہی ایک سچے مسلمان کی پہچان ہیں اور
یہی چیز معاشرے کو خوبصورت اور پرامن بناتی ہے۔
کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت تنویر حسین،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
پیارے آقا
مدینے والے مصطفی ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم
پر رحم کرے گا۔ (ترمذی، 3/371، حدیث:1931)
زندگی میں کسی
انسان کو اتنا تنگ مت کرو کہ وہ خدا کے سامنے تمہارا نام لے کر روئے اور گڑگڑائے
اور اس کے آنسو تمہاری گواہی دیں انسان تو کر کے بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا
جبکہ وہ بارہا قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ظالموں کے لیے ہلاکت ہے کسی کو تنگ
کرنے سے یا کسی کے خلاف برائی کا ارادہ کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑے گا کیونکہ وہ
صبر کر کے خدا کے نزدیک بلند مقام حاصل کر لے گا مگر برا کرنے والے کا سکون برباد
ہو جائے گا کیونکہ جو کسی کے سینے میں آگ لگاتا ہے اس آگ کا دھواں ایک دن اس کے
اپنے آنگن تک بھی پہنچ جاتا ہے کسی کو رلانے والے خود زیادہ دیر خوشی کا منہ نہیں
دیکھ سکتے۔
دیکھا جائے تو
آج کے معاشرے میں بہت سے لوگ دوسروں کے ساتھ برا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں مگر یہ
نہیں سوچتے کہ بعد میں انجام انہیں بھی بھگتنا پڑے گا لیکن اگر کسی کے ساتھ اچھا
سلوک کریں گے محبت کریں گے تو اس کی دعائیں بھی ساتھ ہوں گی خدا بھی راضی ہو گا اس
کے برعکس جو برائیوں میں خوش رہے گا اس سے خدا بھی ناراض ہوگا اور وہ خدا کی نفرت
مول لے گا۔
بقولِ شاعر
جو
رکھتے ہیں اوروں کے لیے پیار کا جذبہ تو
ایسے لوگ ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے
جو دوسروں کو
تکلیف دیتے ہیں وہ خدا کی ناراضگی مول لے لیتے ہیں کیونکہ جس کو تکلیف دی جاتی ہے
وہ جس حال میں ہوتا ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے یہاں صرف خدا اس کی تکلیف سے
واقف ہوتا ہے آج کے زمانے میں زبان کے استعمال سے ہی دل توڑنا بہت آسان ہو گیا ہے
بعض الفاظ انسان کو اندر تک توڑ دیتے ہیں اور ان کے الفاظ کی تکلیف انسان ساری
زندگی برداشت کرتا رہتا ہے اور بعض الفاظ انسان کے دل کو بری طرح زخمی کر دیتے ہیں
خاص طور پر برے الزام انسان کے دل کو توڑ دیتے ہیں پھر اگر معافی مانگ لی جائے تب
بھی دل پر لگے ہوئے زخم بھرتے ہوئے ساری عمر بیت جاتی ہے جیسے اگر انسان کو غصہ آئے
اور وہ غصے میں دیوار میں کیل ٹھوک دے اور جب غصہ ٹھنڈا ہو تو کیل نکال دے مگر
دیوار پہلے جیسی نہیں ہوگی اس کو بھرتے کئی مہینے لگ جائیں گے انسان کا دل بھی
ایسا ہے۔
اس بات کو اس
عام مثال سے سمجھیے کہ جیسے باہر کے ملکوں میں کسی کو کھیتی کے لیے جگہ چاہیے ہوتی
ہے تو وہ درخت کو کاٹتے نہیں بلکہ اس کے اس پاس اکٹھے ہو کر اس کو خوب گالیاں دیتے
ہیں کوستے ہیں برا کہتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے درخت خود ہی مرجھا کر گر جاتا ہے
انسان بھی ایسا ہے زبان کے تیر بہت برے ہوتے ہیں ضروری نہیں ہر انسان کو قتل کر کے
ہی مارا جائے آج کا ہتھیار بری زبان ہے۔
کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت مدثر اقبال،جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
اسلام دین
محبت، امن، خیر خواہی اور حسن اخلاق کا دین ہے۔ اسلام ہمیں صرف عبادات ہی کا حکم
نہیں دیتا بلکہ لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور کسی کو
تکلیف نہ دینے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کے ساتھ برا سلوک نہ
کریں، کیونکہ ہماری زبان، ہاتھ اور رویّے سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچ سکتی ہے۔
کبھی انسان غصے میں آکر سخت الفاظ بول دیتا ہے، کسی کا مذاق اڑاتا ہے، عیب بیان
کرتا ہے یا دل آزاری کر دیتا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کسی کے دل کو
دکھانا بہت آسان ہے، جبکہ ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنا مشکل ہوتا ہے۔
حضور نبیّ
کریم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد
فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری،
1/15، حدیث: 10)
اس حدیث پاک
سے معلوم ہوا کہ سچا مسلمان وہ ہے جس سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ ہمیں کسی کو
گالی نہیں دینی چاہیے، کسی کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، کسی کی غیبت نہیں کرنی چاہیے
اور نہ ہی کسی پر بہتان لگانا چاہیے۔ اسی طرح کسی کو دھوکا دینا، حق مارنا،
بدتمیزی کرنا اور بلاوجہ تکلیف پہنچانا بھی اچھے اخلاق کے خلاف ہے۔
قرآن کریم میں
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ:
83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
اس لیے ہمیں
ہر ایک سے نرمی اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔ اگر کوئی ہم سے برا سلوک کرے تو فوراً
بدلہ لینے کے بجائے صبر کرنا اور معاف کر دینا بہت بڑی خوبی ہے۔ ہمارے پیارے آقا ﷺ
نے ہمیشہ نرمی، عفو و درگزر اور حسن اخلاق کی تعلیم دی۔ ہمیں اپنے گھر والوں، رشتہ
داروں، دوستوں، پڑوسیوں، اساتذہ اور ہر مسلمان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے۔
خاص طور پر
کسی کمزور، غریب یا چھوٹے انسان کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے جسے ہم
معمولی سمجھ رہے ہوں، وہ اللہ پاک کے نزدیک ہم سے زیادہ عزت والا ہو۔ اس لیے کسی
کی شکل، لباس، غربت یا کمزوری کا مذاق اڑانا بہت بری عادت ہے۔
یاد رکھیے!
دنیا میں ہر انسان کو محبت، عزت اور اچھے سلوک کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اگر دوسروں کے
ساتھ بھلائی کریں گے تو معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور امن پیدا ہوگا۔ لہٰذا
ہمیں ہمیشہ یہ اصول یاد رکھنا چاہیے: جو سلوک ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں، وہی
دوسروں کے ساتھ بھی کریں اور کسی کے ساتھ برا نہ کریں۔
ہمارے معاشرے
میں جو برائیاں ناسور کی طرح پھیل رہی ہیں ان میں سے ایک کسی کے ساتھ برا سلوک
کرنا بھی ہے ہمارے معاشرے میں بالکل عام ہوتا جا رہا ہے چاہے وہ چھوٹا ہے چاہے بڑا
فقیر ہے حکیم ہے وہ بزرگ ہے چاہے بچے ہیں یا چاہیں ملازمین ہیں ہر کسی کے ساتھ برا
سلوک کیا جاتا ہے بعض اوقات سیٹھ ملازمین پر ظلم کر رہا ہوتا ہے ملازمین کے بھی
اپنے حقوق ہیں ہر چیز کے اپنے حقوق ہیں۔
ہمیں اسلام
ایک دوسرے کے ساتھ محبت پیار و عزت کا درس دیتا ہے ہمیں ہر کسی کے ساتھ اچھے سلوک
سے پیش آنا چاہیے ہر انسان کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے ہم اکثر چھوٹے بچوں کو جھاڑ
رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کامذاق اڑا رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی عزت بھی
اچھال رہے ہوتے ہیں۔
قرآن پاک میں
ہے: وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ
وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۸) (پ
28، المنافقون: 8)ترجمہ: اور عزت اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان کے لیے ہیں مگر
منافقوں کو خبر نہیں۔
اس آیت میں
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے عزت ثابت فرمائی گئی ہے اور جس
کو وہ عزت دے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا جس کو وہ ذلیل کرے اس کو کوئی عزت نہیں
دے سکتا۔
اس لیے کبھی
بھی کسی کے ساتھ برا سلوک نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی آپ کے ساتھ کرے تو آپ اس کے
ساتھ اچھے طریقے پیش آئیں۔ ہمیشہ برائی کا بدلہ اچھائی سے دینا چاہیے اگر کوئی آپ
کے ساتھ برائی کے ساتھ پیش آتا ہے تو اس کے ساتھ اچھائی کے ساتھ پیش آئے کیونکہ
ہمارے پیارے نبی ﷺ کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کرتے تھے اگر کوئی برا کرتا بھی تھا
تو آپ ﷺ اس سے اچھائی کے ساتھ پیش آتے تھے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے اگر کوئی
غریب ہوتا یا کوئی غلام ہوتا یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی آپ بہت
اچھے طریقے سے پیش آتے تھے ان سے محبت فرماتے تھے حالانکہ وہ آپ کے غلام تھا لیکن آپ
اپنے غلاموں کے ساتھ بھی اچھے طریقے سے پیش آتے تھے کیسی کو بھی حقیر نہیں جانتے
تھے ہمیں بھی چاہیے کہ ہمیں ملازمین کو جھڑکنا نہیں چاہیے بلکہ مخلصانہ انداز
رکھنا چاہیے اچھے طریقے کے ساتھ پیش آنا چاہیے کیونکہ ان کا بھی دل ہے ہمیں کسی کی
دل آزاری نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ہمیں کسی کا مذاق اڑانا چاہیے کیونکہ ان چیزوں
کے بارے میں قیامت والے دن پوچھا جائے گا۔
حدیث مبارکہ:
فرمان آخری نبی ﷺ قیامت کے دن لوگوں کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنت کا ایک
دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ آؤ وہ بہت بے چینی اور غم میں ڈوبا
ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچے گا تو دروازہ بند
ہو جائے گا اسی طرح اس کے ساتھ معاملہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ دروازہ کھلے گا اور پکار
پڑے گی تو وہ نا امیدی کی وجہ سے نہیں جائے گا۔ (احیاء علوم الدین، 3/162)
دل میں احترام
مسلم کا جذبہ پیدا کیجیے اور مسلمان کی دل آزاری سے ہمیشہ بچتے رہیے۔
سلام اور
مصافہ کرنے کی عادت اپنائیے اس سے بھی دل میں نرمی پیدا ہوگی دل سے نفرت اور عداوت
نکلے گی۔
فرمان نبی ﷺ ہے:
میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوۃ تو لے کر آئے گا مگر
ساتھ ہی کسی کو گالی بھی دی ہوگی، کسی کو تہمت لگائی ہوگی، اس کا مال ناحق کھایا
ہوگا اس کا خون بہایا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جائیں گی
اور کچھ اس مظلوم کو پھر اگر اس کے ذمے جو حقوق تھے ان کی ادائیگی سے پہلے اس کی
نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان کے گناہ لے کر اس پر ڈالے جائیں گے پھر اس شخص کو جہنم
میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069 ، حدیث:6579)
اخلاص کے ساتھ
ہر کسی کے ساتھ برتاؤ کیجیے اور آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے۔ موت اور قبر آخرت
کو کثرت سے یاد کیجئے اس سے بھی دل نرم ہوگا اور دوسروں کی ساتھ برا سلوک کرنے حق
تلفی کرنے اور ظلم کرنے سے بچنے کا ذہن بنے گا۔
دین اسلام
ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی کے ساتھ برا عمل مت کرو۔ کسی کا حق نہ کھاؤ، کسی کی چیز نہ
چراؤ، کسی کو دھوکہ نہ دو، کسی پر ظلم نہ کرو۔ راستے میں رکاوٹ نہ بنو، کمزور کو
نہ ستاؤ، یتیم کا مال نہ کھاؤ وغیرہ۔
آج ہم جس کے
ساتھ برا کریں گے کل وہی ہمارے ساتھ ہو سکتا ہے، دنیا مکافات عمل ہے۔ اگر ہم چاہتے
ہیں کہ اللہ ہم سے راضی ہو اور لوگ ہم سے محبت کریں تو ہمیں چاہیے کہ کسی کے ساتھ
برا نہ کریں۔ بلکہ ہر ایک سے نرمی، اخلاق اور محبت سے پیش آئیں۔ کیونکہ ایک اچھا
لفظ بھی صدقہ ہے اور ایک برا لفظ بھی دل توڑ دیتا ہے۔ اس لیے سوچ سمجھ کر بولیں
اور عمل کریں، کیونکہ قیامت کے دن ہمارے ہر لفظ اور ہر عمل کا حساب ہوگا۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری،
1/15، حدیث: 10)
اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ
اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴)
(پ
24، حم السجدۃ: 34) ترجمہ: نیکی اور برائی برابر نہیں ہیں۔ تم برائی کو اس طریقے
سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو (یعنی اچھائی سے)، پھر دیکھو گے کہ جس کے اور تمہارے
درمیان دشمنی تھی، وہ گویا تمہارا دلی دوست بن گیا ہے۔
اس آیت کریمہ
سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کے ساتھ برا نہ کریں اگر کوئی ہمارے
ساتھ برا کرے پھر بھی ہمیں چاہیے ہم اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیں اور اس کے
ساتھ اچھا سلوک کریں۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا،
اللہ اس پر رحم نہیں فرماتا۔ (بخاری، 4/100، حدیث: 5997)
اس حدیث سے
معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ برا کریں گے تو اللہ بھی ہم سے ناراض ہو جائے
گا لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کے ساتھ برا نہ کریں تاکہ ہمارے ساتھ بھی برا نہ ہو
اور ہمارا رب بھی ہم سے راضی رہے۔
ایک مرتبہ
رسول اکرم، نور مجسّم ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں
اچھے بروں کی خبر نہ دوں؟ سب خاموش رہے، تین بار یہی استفسار فرمایا تو ایک شخص نے
عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے برے بھلوں کی خبر دیجئے! فرمایا: تمہارا
بھلا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید کی جائے اور اس کے شر سے امن ہو، اور تمہارا برا
وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید نہ کی جائے اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔ (ترمذی، 4/116،
حدیث: 2263)
اگر ہم غور
کریں تو یہ بات ظاہر ہے کہ جب ہم کسی کے ساتھ برا کرتے ہیں تو وہ ہمارے بارے میں
مطمئن نہیں رہتا اور اس کا ہم پر سے یقین اور بھروسہ اٹھ جاتا ہے کیونکہ اس کا
گمان ہوتا ہے کہ یہ پہلے بھی میرے ساتھ برا کر چکا ہے اور اب بھی میرے ساتھ برا کر
سکتا ہے یوں اس کا دل ہماری طرف سے مطمئن نہیں رہتا اور ہم میں سے کوئی بھی نہیں
چاہتا کہ کوئی ہماری طرف سے بد گمان ہو یا ہمیں برا جانیں بلکہ ہم تو فطرت طور پر
محبّت کو پسند کرتے ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کے ساتھ برا نہ کریں۔
ہم کیوں کر
کسی کو ستائیں، برا بھلا کہیں، زیادتی کریں کیونکہ ہم پر عیاں ہیں کہ ہم جیسا کریں
گے ویسا ہی پائیں گے اور جب ہم کسی کے ساتھ برا کرتے ہیں تو ظاہر ہے اس کو بہت
اذیت پہنچتی ہیں اور اللہ پاک بھی ناراض ہوتا ہے تو ہم کیوں وقتی لطف کی خاطر اپنے
رب کو ناراض کریں۔
اعلیٰ حضرت،
مجدد دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرّحمٰن فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24
صفحہ 342 میں طبرانی شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: اللہ کے پیارے حبیب، حبیب
لبیب، طبیبوں کے طبیب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے (بلاوجہ شرعی) کسی مسلمان کو
ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ پاک کو ایذا دی۔
خدایا!
کسی کانہ دل میں دکھاؤں اماں
تیرے ابدی عذابوں سے پاؤں
کسی کے ساتھ
برا کرنا یہ ہے کہ انسان اپنے قول یا فعل سے دوسرے انسان کو ناحق تکلیف یا نقصان
پہنچائے۔
اس کی چند
صورتیں یہ ہیں: زبان سے تکلیف دینا گالی دینا، سخت الفاظ کہنا، طعنہ دینا یا کسی
کی تذلیل کرنا۔کسی کے جذبات کا مذاق اڑانا یا جان بوجھ کر اس کا دل دکھانا۔ کسی کی
غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا یا اس پر جھوٹا الزام لگانا۔ بغیر تحقیق کے کسی
کے بارے میں برا گمان رکھنا۔ دوسروں کے عیوب تلاش کرکے انہیں لوگوں کے سامنے بیان
کرنا۔ کسی کا حق مارنا، ناانصافی کرنا یا اسے نقصان پہنچانا۔ جھوٹ، فریب یا خیانت
کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانا۔ غریب، کمزور یا کسی کم حیثیت شخص کو حقیر سمجھنا۔ غصے
کی حالت میں چیخنا چلانا، برا بھلا کہنا یا مار پیٹ کرنا۔ شور شرابا، گندگی یا کسی
اور ذریعے سے پڑوسی کو اذیت پہنچانا۔ جان بوجھ کر کسی کے مال یا سامان کو خراب
کرنا۔ کسی سے وعدہ کرکے پورا نہ کرنا اور اسے مشکل میں ڈال دینا۔
اگر کوئی آپ
کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو بجائے اس کے کہ اسکے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے اس
سے بہتر ہے اسے معاف کیا جائے، اس کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آیا جائے۔ اسلام میں
معافی اور درگزر کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے، انسان کو چاہیے کہ دوسروں کی
غلطیوں کو معاف کرے، بدلہ لینے کے بجائے صبر سے کام لے اور دل میں کینہ نہ رکھے۔
اللہ پاک قرآن
مجید میں فرماتا ہے: وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ
لَكُمْؕ- (پ
18، النور: 22)ترجمہ: انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند
نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: صدقہ مال کو کم نہیں کرتا، اور جو شخص معاف کرتا ہے اللہ پاک اس کی عزت
میں اضافہ فرما دیتا ہے۔
اسلام ہمیں ہر
انسان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، نرمی اور احترام سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی
کو زبان، ہاتھ یا اپنے برے رویے سے تکلیف دینا ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم غیبت، بدگمانی، جھوٹ، ظلم، طعنہ زنی اور دل آزاری سے بچیں اور دوسروں کے
حقوق کا خیال رکھیں۔ اگر کوئی ہمارے ساتھ برا سلوک کرے تو حتی الامکان صبر، معافی
اور درگزر سے کام لیں۔ یاد رکھیں کہ کسی کا دل دکھانا آسان ہے، لیکن ٹوٹے ہوئے دل
کو جوڑنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی زندگی میں نبی کریم ﷺ کے حسن اخلاق کو
اپنانا چاہیے اور کسی کے لیے تکلیف کا سبب نہیں بلکہ راحت، خوشی اور بھلائی کا
ذریعہ بننا چاہیے۔
Dawateislami