انسان کو اللہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے عقل و شعور عطا فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔ وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ 24، حم السجدۃ: 34) ترجمہ: نیکی اور برائی برابر نہیں ہیں۔ تم برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو (یعنی اچھائی سے)، پھر دیکھو گے کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ گویا تمہارا دلی دوست بن گیا ہے۔1

اس آیت مبارکہ میں ہمیں بہت خوبصورت تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ برائی کرے تو ہم اس برائی کا جواب برائی سے نہ دیں، بلکہ نیکی اور بھلائی سے دیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام نے مسلمانوں کو اخلاق حسنہ کی انتہائی اعلیٰ تعلیم دی ہے۔ اگر کسی کی طرف سے تکلیف پہنچے تو صبر کرو، کوئی جہالت یا بے وقوفی کا برتاؤ کرے تو حلم و بردباری کا مظاہرہ کرو، اور اگر کوئی بدسلوکی کرے تو عفو و درگزر سے کام لو۔

ایک روایت میں ہے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے ملاقات کی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے افضل اعمال کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو تمہیں محروم کرے، تم اسے عطا کرو؛ جو تم سے رشتہ توڑے، تم اس سے رشتہ جوڑو؛ اور جو تم پر ظلم کرے، تم اسے معاف کر دو۔2

آج ہم لوگوں کو ان کے مال و دولت اور ظاہری حیثیت کے اعتبار سے پہچانتے ہیں۔ اگر کوئی امیر شخص ہم سے ملاقات کرے اور وہ ہمارے ساتھ برا سلوک کرے، تب بھی ہم اس کی دولت اور مقام کی وجہ سے اسے جواب نہیں دیتے بلکہ خاموش رہتے ہیں اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔

لیکن اگر یہی بات کوئی غریب شخص کہہ دے تو ہم فوراً اسے جواب دے دیتے ہیں۔ ہم اس کا بالکل لحاظ نہیں کرتے۔

اگر کوئی غریب یا مسکین شخص پرانے کپڑے پہنے ہمارے قریب آ کر بیٹھ جائے تو ہمیں برا محسوس ہوتا ہے۔ دل میں خیال آتا ہے کہ یہ میرے برابر آ کر کیوں بیٹھ گیا؟ کبھی تو اسے وہاں سے اٹھا بھی دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: آپ کی یہاں جگہ نہیں، کہیں اور جا کر بیٹھیں۔

ہمیں کیا معلوم کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں کس کا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ ہو سکتا ہے جس شخص کو ہم حقیر سمجھ رہے ہیں، وہ اللہ پاک کا بہت محبوب بندہ ہو۔ اللہ پاک نے اپنے بہت سے اولیاء کو اپنے بندوں میں پوشیدہ رکھا ہے۔

روایات میں بنی اسرائیل کے ایک عابد اور ایک گناہگار شخص کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ ایک شخص بہت عبادت گزار تھا، یہاں تک کہ اس کے سر پر بادل کا ایک ٹکڑا سایہ کیے رہتا تھا اور وہ جہاں جاتا، بادل بھی اس کے ساتھ چلتا۔ اسی زمانے میں ایک گناہگار شخص بھی رہتا تھا۔ جب اس نے اس عابد کو دیکھا تو اس کے دل میں خیال آیا: میں بہت گناہ کر چکا ہوں۔ اگر میں اس نیک شخص کے پاس بیٹھ جاؤں اور اللہ پاک سے توبہ و معافی مانگوں تو شاید اللہ پاک اس نیک بندے کی برکت سے مجھ پر بھی رحم فرما دے۔ چنانچہ وہ اس عابد کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ لیکن عابد کے دل میں تکبر پیدا ہوگیا۔ اس نے سوچا: میں اتنا بڑا عبادت گزار ہوں اور یہ گناہگار شخص میرے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہے؟

اس نے اس گناہگار سے کہا: یہاں سے اٹھ جاؤ! گناہگار عاجزی کے ساتھ وہاں سے اٹھ گیا، لیکن اللہ پاک نے اپنے نبی کو وحی فرمائی کہ ان دونوں سے کہہ دو کہ اپنے اعمال نئے سرے سے شروع کریں؛ کیونکہ میں نے اس گناہگار کو بخش دیا اور اس عابد کے اعمال ضائع کر دیے۔ جب وہ گناہگار شخص وہاں سے اٹھا تو بادل کا وہ ٹکڑا جو عابد کے سر پر سایہ کیے ہوئے تھا، اس کے سر پر سایہ کرنے لگا۔3

بدترین رویے کے جواب میں بھی اخلاق حسنہ کا دامن نہ چھوڑنا مومن کی شان ہے یہ دنیا دار العمل ہے، ہمیں اسلام اتنا خوبصورت دین ملا ہے جو ہماری زندگی کے ہر اجتماعی اور انفرادی پہلو کی تعلیمات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

حوالہ جات:

1۔ پ 24، حم السجدۃ: 34

2۔ معجم کبیر، 17/270، حدیث: 740

3۔ بیانات سیرت مصطفی، ص 333