کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت رشید احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام
جہاں ہمیں اللہ پاک کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہیں بندوں کے ساتھ حسن سلوک، نرمی،
محبت، خیرخواہی اور اچھے اخلاق اپنانے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی
کا مقصد صرف یہ نہیں کہ وہ خود نیک بنے بلکہ اسے چاہیے کہ اس کے اخلاق اور کردار
سے دوسرے مسلمان بھی محفوظ رہیں۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم کسی کے ساتھ برا سلوک نہ کریں، کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی کی عزت پامال نہ کریں
اور نہ ہی اپنی زبان یا ہاتھ سے کسی کو تکلیف پہنچائیں۔ کیونکہ انسان کے دل کو
دکھانا بہت آسان ہے، مگر ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
رسول اکرم،
نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان
محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)
اس حدیث پاک
سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو چاہیے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ
رہیں۔ لہٰذا ہمیں کسی کو گالی نہیں دینی چاہیے، کسی کی غیبت نہیں کرنی چاہیے، کسی
پر بہتان نہیں لگانا چاہیے، کسی کی تحقیر نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کسی کو بلاوجہ
تکلیف دینی چاہیے۔
اللہ پاک قرآن
کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ:
83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
اس آیت کریمہ
میں ہمیں لوگوں کے ساتھ اچھے انداز میں گفتگو کرنے کا درس دیا گیا ہے۔ ہماری زبان
اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، ہمیں چاہیے کہ اسے نیکی کے کاموں میں استعمال کریں۔
کسی کے دل کو دکھانے، لڑائی جھگڑا کرنے اور دوسروں کی برائیاں بیان کرنے کے بجائے
اپنی زبان کو ذکر و درود، تلاوت قرآن اور اچھی باتوں میں مشغول رکھیں۔
کسی کا دل نہ
دکھائیں، انسان کا دل بہت نازک ہوتا ہے۔ جسم پر لگنے والا زخم تو وقت کے ساتھ ٹھیک
ہو سکتا ہے، مگر دل پر لگنے والا زخم کبھی کبھی ساری زندگی نہیں بھولتا۔ اس لیے
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کسی عمل یا بات سے کسی کا دل نہ دکھائیں۔
رسول اکرم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے
بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13)
اگر ہم اپنے
لیے عزت چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کو بھی عزت دینی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ
ہمارے ساتھ نرمی سے پیش آئیں تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے۔ اگر ہم
چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیوں کو معاف کیا جائے تو ہمیں بھی دوسروں کی غلطیوں سے
درگزر کرنا چاہیے۔
غصے پر قابو
پائیے، اکثر انسان غصے کی حالت میں ایسی بات کہہ دیتا ہے جس پر بعد میں اسے
پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں غصے کے وقت خاموش رہنا چاہیے اور اپنے آپ کو قابو
میں رکھنا چاہیے۔
رسول اکرم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ
ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ (بخاری، 4/130، حدیث: 6114)
لہٰذا اگر
کوئی ہمیں برا بھلا کہے یا ہمارے ساتھ برا سلوک کرے تو ہمیں فوراً بدلہ لینے کے
بجائے صبر سے کام لینا چاہیے۔ معاف کر دینا بہت بڑی نیکی ہے اور دوسروں کی غلطیوں
سے درگزر کرنا اچھے اخلاق کی علامت ہے۔
نرمی اختیار
کیجیے، ہمیں اپنے والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں اور تمام
مسلمانوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے۔ خاص طور پر اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا
اخلاق اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ حقیقی حسن اخلاق یہ ہے کہ انسان اپنے قریب رہنے
والوں کے ساتھ بھی اچھے اخلاق سے پیش آئے۔
رسول اکرم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: جس چیز میں نرمی ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے
نرمی نکال دی جاتی ہے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ (مسلم، ص 1073، حدیث: 6602)
اس لیے ہمیں
چاہیے کہ ہم سختی اور بد اخلاقی کے بجائے نرمی، محبت اور شفقت کو اختیار کریں۔
برائی کا جواب
بھلائی سے دیجیے، اگر کوئی ہمارے ساتھ برا کرے تو ہمیں بھی اس کے ساتھ برا نہیں
کرنا چاہیے۔ اسلام ہمیں برائی کا بدلہ برائی سے دینے کے بجائے اچھائی اور معافی کا
درس دیتا ہے۔ کسی کو معاف کر دینا کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی اور اچھے اخلاق کی
علامت ہے۔ لہٰذا اگر کوئی ہمارے ساتھ برا سلوک کرے تو ہم صبر کریں، اگر ممکن ہو تو
اسے معاف کر دیں اور اپنے دل میں اس کے لیے بغض نہ رکھیں۔
آخر میں ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اس بات کو پختہ کرلیں کہ ہم کسی کے ساتھ برا نہیں کریں
گے۔ نہ اپنی زبان سے کسی کا دل دکھائیں گے، نہ کسی کی غیبت کریں گے، نہ کسی کا
مذاق اڑائیں گے، نہ کسی کی عزت کو مجروح کریں گے اور نہ ہی کسی پر ظلم کریں گے۔
یاد رکھیے!
ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے کسی ایک جملے سے کسی کا دل کتنا ٹوٹ سکتا ہے اور ہماری
کسی ایک نیکی سے کسی کی زندگی میں کتنی خوشی آ سکتی ہے۔ اس لیے دوسروں کے لیے
آسانیاں پیدا کریں، دلوں کو جوڑیں، نفرتیں ختم کریں اور محبتیں بانٹیں۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم اپنے پیارے آقا ﷺ کے اخلاق کریمانہ کو اپنانے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی ہمارے
ساتھ برا کرے تو ہم صبر کریں، اگر کوئی غلطی کرے تو اسے معاف کریں اور اگر کسی کو
ہماری مدد کی ضرورت ہو تو حسب استطاعت اس کی مدد کریں۔
اللہ پاک ہمیں
اچھے اخلاق اپنانے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے، کسی کا دل نہ دکھانے، غصے پر قابو
پانے اور ہر مسلمان کے ساتھ محبت و نرمی سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami