کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت عبدالستار،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
کسی کے ساتھ
برا کرنا اسلام میں صرف مارنے یا نقصان پہنچانے تک محدود نہیں؛ کسی کی دل آزاری بے
عزتی، مذاق اڑانا گالی دینا، غیبت کرنا، جھوٹا الزام لگانا، حق مارنا یا جان بوجھ
کر تکلیف دینا بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
کسی انسان کے
جان مال عزت دل یا حقوق کو ناحق نقصان پہنچانا بدسلوکی اور ظلم میں شامل ہے۔ مثلاً:
کسی کو گالی دینا یا برا نام دینا، کسی کا مذاق اڑانا یا اسے ذلیل کرنا، کسی کی
غیبت کرنا، جھوٹا الزام لگانا،کسی حق یا مال نا حق کھانا۔
اسلام میں کسی
کے ساتھ برا سلوک کرنے، دل دکھانے یا ظلم کرنے کی سخت ممانعت ہے۔ اللہ پاک اور اس
کے رسول ﷺ نے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور برائی سے سختی سے روکا ہے۔
اللہ پاک قرآن
مجید میں فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا
اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ
22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے
ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو، دھوکے کی غرض سے بولی
نہ بڑھاؤ، بغض نہ رکھو، پیٹھ نہ پھیرو اور کوئی کسی کے اوپر سودا نہ کرے۔ اللہ کے
بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے، نہ اسے
بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس سے جھوٹ بولے اور نہ اسے حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان کا
خون مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے
تکلیف دی اس نے اللہ کو تکلیف دی۔ (معجم اوسط، 2/387، حدیث: 3607)
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری،
1/15، حدیث: 10)
اگر ہم کسی
انسان کا حق مارتے یا اسے ناحق تکلیف دیتے ہیں تو صرف اللہ سے معافی مانگنا کافی
نہیں؛ حقوق العباد میں جس کا حق متاثر ہوا ہو، اس سے معافی اور حق کی تلافی بھی
ضروری ہوتی ہے۔
دلوں میں نفرت
پیدا ہوتی ہے، بدسلوکی سے محبت ختم اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ خاندان دوستوں اور
معاشرے میں اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔ انسان کی اپنی عزت کم ہوتی ہے، جو شخص دوسروں
کو مسلسل ذلیل کرتا ہے، لوگ بھی اس سے دور ہونے لگتے ہیں اور اس پر اعتماد کم ہو
جاتا ہے۔ نیکیوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔
قیامت میں
لوگوں کے حقوق کا معاملہ بہت اہم ہے۔ اس لیے مسلمان کو زبان ہاتھ اور معاملات میں
بہت احتیاط کرنی چاہیے۔
اس
سے بچنے کے چند طریقے: بولنے سے پہلے سوچیں، اپنے آپ سے پوچھیں اگر یہی
بات مجھے کہی جائے تو کیا مجھے اچھا لگے گا؟ غصے پر قابو رکھیں، غصے میں فوراً
جواب دینے کے بجائے خاموش ہوجائیں اور جگہ بدل لیں۔ غیبت سے فوراً رک جائیں، اگر
کسی کی برائی بیان ہو رہی ہو تو گفتگو بدل دیں یا اس میں شریک نہ ہوں۔ دوسروں کی
عزت کریں، کسی کے لباس،شکل،غربت،خاندان تعلیم یا کسی کمزوری کا مذاق نہ اڑائیں۔ بدگمانی
سے بچیں، کسی کے بارے میں بغیر دلیل برا خیال قائم نہ کریں۔ قرآن نے بہت سی
بدگمانیوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ غلطی ہوجائے تو معافی مانگیں، اگر کسی کو تکلیف
پہنچ جائے تو ضد کرنے کے بجائے سچی معذرت کریں اور آئندہ احتیاط کریں۔ دوسروں کے
لیے خیر چاہیں، نبی کریم ﷺ کی تعلیم کے مطابق اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کریں جو
اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔
کسی کے ساتھ
برا نہ کرنا اسلامی اخلاق کا بنیادی اصول ہے۔ مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ دوسرے لوگ
اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ ہمیں مذاق، گالی، غیبت بدگمانی ظلم حق تلفی
اور دل آزاری سے بچنا چاہیے اور ہر شخص کے ساتھ عزت،نرمی انصاف اور خیرخواہی سے
پیش آنا چاہیے۔
اور اگر ہم سے
کسی کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو رسول اللہ ﷺ نے حقوق کی ادائیگی کی سخت تاکید
فرمائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی کی عزت یا کسی اور چیز پر
زیادتی کی ہو تو اسے چاہئے کہ اس دن سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے جس دن دینار
اور درہم پاس نہیں ہوں گے، اگر ظالم کے پاس نیک اعمال ہوئے تو ظلم کے برابر ان میں
سے لے لئے جائیں گے اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو ظلم کے برابر مظلوم کے گناہ ظالم
پر ڈال دئیے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2449)
Dawateislami