کسی کے ساتھ برا نہ کرنا صرف ایک اخلاقی بات نہیں بلکہ ایک خوبصورت اسلامی تعلیم بھی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان، ہاتھ اور رویّے سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائے۔ کبھی ہمارے معمولی سے الفاظ بھی کسی کے دل کو بہت دکھ پہنچا دیتے ہیں، اس لیے بولنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے۔

اگر کوئی ہمارے ساتھ برا کرے تو ہمیں بھی بدلہ لینے کے بجائے صبر، درگزر اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ نیکی کا بدلہ نیکی سے دینا آسان ہے، لیکن برائی کے جواب میں بھلائی کرنا اعلیٰ کردار کی علامت ہے۔

یاد رکھیں! ہم دوسروں کے دل میں جو درد یا خوشی ڈالتے ہیں، وہ کسی نہ کسی صورت ہماری اپنی زندگی میں واپس آتی ہے۔ اس لیے کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی کی عزت مجروح نہ کریں اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کریں، کسی کو صرف ہاتھ سے تکلیف دینا ہی برائی نہیں، بلکہ زبان اور دل سے کسی کو نقصان پہنچانا بھی برائی ہے۔ غیبت کرنا، چغلی لگانا، کسی کی عزت خراب کرنا، حسد کرنا، کسی کی خوشی سے جلنا، جھوٹ بولنا، طعنہ دینا اور دل دکھانا بھی ایسے اعمال ہیں جن سے انسان کو بچنا چاہیے۔

کبھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے کسی کو ہاتھ سے نقصان نہیں پہنچایا، لیکن ہماری زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ کسی کے دل کو بہت تکلیف دے سکتا ہے۔ اس لیے بولنے سے پہلے سوچیں کہ کیا میری بات سے کسی کی عزت، دل یا تعلق کو نقصان تو نہیں پہنچے گا؟

حسد کے بجائے دوسروں کی خوشی میں خوش ہوں، غیبت کے بجائے خاموشی اختیار کریں اور چغلی کے بجائے لوگوں کے درمیان محبت پیدا کریں۔

ہمیں چاہیے کہ غیبت سے اپنی زبان کی حفاظت کریں، چغلی سے لوگوں کے تعلقات خراب نہ کریں اور ایسی بات آگے نہ پہنچائیں جس سے کسی کا دل دکھے یا مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا ہو۔