کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت قسور عطاریہ،جامعہ ادارۃ المصطفی ملتان
دین اسلام بہت
پیارا دین ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے سلیقے سکھاتا ہے ہمیں آپس میں
بھائی چارہ قائم کرنے اور ایک دوسرے کی ایذا رسانی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ کسی
کے ساتھ برا ہرگز مت کیجئے صرف اس لیے نہیں کہ آج اگر ہم کسی کے ساتھ برا کریں گے
تو کل ہمارے ساتھ بھی برا ہوگا بلکہ اس نیت کے ساتھ بھی کسی کے ساتھ برا مت کیجیے
کہ ہمارا رب ہمارے رسول ﷺ ہمارا دین ہمیں دوسرے مسلمان کو ایذا دینے سے منع فرماتا
ہے۔
اللّہ پاک
قرآن پاک میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کی ایذا رسانے کرنے کے انجام کے بارے میں
فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ
یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ
احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب:
58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں
نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔
اس آیت مبارکہ
سے معلوم ہوا کہ کسی پر بہتان لگا کر اسے تکلیف پہنچانا اس کے ساتھ برا کرنا عظیم
گناہ ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ
لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ
الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)(پ
26، الحجرات: 11) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو!مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں،
ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں،
ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور
ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے
اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
اگر ہم غور
کریں تو پتا چلے گا کہ کسی کا مذاق اڑانا ایک دوسرے کو طعنہ دینا ایک دوسرے کو برے
القابات سے پکارنا کیا ہے یہ کسی کے ساتھ برا کرنا ہی ہے کسی کو ایذا دینا ہی ہے
اور ہمارا رب ہمیں ان تمام چیزوں سے منع فرمارہا ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے
رب کی اطاعت کرتے ہوئے کسی کو تکلیف دینے اس کا مذاق اڑانے اس کا نام بگاڑنے سے ہر
دم بچتے رہیں۔
حضرت عبداللہ
بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس
کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو ترک
کردے جن سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے۔
ایک شخص نے
نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کون سا مسلمان زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور
ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
مومن بھائی کا
برا نہیں چاہتا اس کی بھلائی کے لیے کوشش کرتا رہتا ہے اس کے ہاتھ زبان پاؤں حتیٰ
کہ ہر عضو سے اس کا مومن بھائی محفوظ ہوتا ہے وہ اپنے مومن بھائی کے ساتھ کبھی برا
نہیں کرتا۔
اب ہم ذرا خود
کا محاسبہ کریں کہ ہمارے اندر ایمان کی کیا حالت ہے؟ خدا نخواستہ کہیں ہماری وجہ
سے ہمارے مومن بھائی/ بہن تکلیف میں تو نہیں؟
کیا ہم اپنوں
کے ساتھ برا تو نہیں کرتے۔
آج کل شیطان
نے ہمارے بھولے بھالے مسلمانوں کو ایک نئی چال میں پھنسایا ہوا کہ جو جیسا ہے اس
کے ساتھ ویسا کرو ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اگر فلاں میرا ساتھ اچھا رہے گا تو میں
بھی اس کے ساتھ اچھا رہوں گی اور اگر فلاں میرے ساتھ برا کرے گا تو میں بھی پھر
برا کروں گا۔یہ بھی تکبر کی صورت میں جاتا ہے۔
ہمارا دین تو
ہمیں کسی کے ساتھ برا کرنا نہیں سکھاتا چاہے اگلا بندہ ہمارے ساتھ برا کرے بھی تب
بھی ہمارا دین بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے
ساتھ کتنا برا کیا گیا کتنا ستایا گیا خود آقا جان ﷺ فرماتے ہیں: مجھے سب سے زیادہ
ستایا گیا کفار نے کتنی تکلیفیں دیں مگر اس سب کے باوجود آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی کے
ساتھ برا کیا تو دور برا کرنے کا سوچا تک نہیں۔امام حسین رضی اللہ عنہ پر کتنی
آزمائشیں آئیں یزید پلید نے کتنا برا سلوک کیا مگر پھر بھی قربان جائیے اپنے نانا
کے انداز پر قائم رہے اور کسی کا برا نہیں کیا۔
Dawateislami