کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت ہدایت اللہ،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
کسی کو نقصان
نہ پہنچانا (لا ضرر ولا ضرار) اسلامی شریعت کا ایک بنیادی اصول ہے، جس کا مطلب ہے
کہ نہ تو ابتداءً کسی کو تکلیف دی جائے اور نہ ہی بدلے میں کسی کا نقصان کیا جائے
۔
کسی مسلمان کا
دل دکھانا یا دل آزاری کرنا شریعت میں سخت گناہ اور حرام ہے، جس سے اللہ اور اس کے
رسول ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔
برا
کرنے کے نقصانات:
اللہ
کی ناراضی: مومن
کا دل دکھانے سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے ۔
گناہ
کبیرہ: یہ
ایسا باطنی گناہ ہے جس کی معافی بندے کی معافی کے بغیر مشکل ہے۔
معاشرتی
بگاڑ: اس
سے آپس میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور پیار ختم ہوتا ہے۔
احادیث
اور تعلیمات:
زبان
و ہاتھ کی حفاظت: آپ
ﷺ نے فرمایا کہ سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری،
1/15، حدیث: 10)
عزت
نفس کا احترام: کسی
مسلمان کی توہین کرنا، اسے طعنے دینا یا بلاوجہ رنج دینا ناجائز اور گناہ ہے۔
کفر کے بعد سب
سے بڑا گناہ دل آزاری ہے خواہ مومن کی ہو یا کافر کی، گھور کر دیکھنا، بےموقع
مسکرانا،طنز کرنا، مذاق اڑانا، دل آزاری کا باعث ہیں۔
اللہ پاک قرآن
کریم میں ارشاد فرماتا ہے: قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ
صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًىؕ-وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ(۲۶۳) (پ 3، البقرۃ: 263) ترجمہ: سائل کے ساتھ نرمی کے
ساتھ گفتگو کرنا اور درگزر کرنا اس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد اس کی دل آزاری
ہو اور اللہ بےنیاز بڑے حلم والا ہے۔
ایک اور جگہ
ارشاد فرمایا: وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ
یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّ
الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا(۵۳) (پ
15، بنی اسرائیل:53) ترجمہ: اور میرے بندوں سے کہہ دیں کہ وہ ایسی باتیں کہا کریں
جو بہت اچھی ہو کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے کچھ شک نہیں
کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
احادیث
مبارکہ:
1۔ مسلمان وہ
ہے جس کے ہاتھ اور اس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث:
10)
2۔ بے شک کسی
مسلمان کی نا حق بے عزتی کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ (ابو داود،4/353، حدیث: 4877)
3۔ مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6573)
ہمارے مدینے
والے آقا ﷺ کسی کا دل توڑنا پسند نہیں کرتے تھے دلوں کو جوڑو، جہاں تک تمہارا بس
چلے انہیں توڑو مت! دل جوئی کرنا ایسی نیکی ہے جو انس و محبت کا باعث ہے اور دل
آزاری کرنا ایسا گناہ ہے جو وحشت و نفرت کا سبب ہے۔
1۔ کسی مسلمان
کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی طرف (یا اس کے بارے میں) اس قسم کے
اشارے کنائے سے کام لے جو اس کی دل آزاری کا باعث بنے اور یہ بھی حلال نہیں کہ
کوئی ایسی حرکت کی جائے جو کسی مسلمان کو ہراساں یا خوفزدہ کرے۔ (اتحاف السادۃ
المتقین، 7 /177) اس حدیث پاک سے ثابت
ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کی دل آزاری جائز نہیں۔
2۔ جس نے (بلا
وجہ شرعی) کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے
اللہ پاک کو ایذا دی۔ (معجم اوسط، 2/386، حدیث: 360) اس حدیث پاک سے اندازہ لگایا
جا سکتا ہے کہ کسی مسلمان کی دل آزاری کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔
3۔ جب تم تین
آدمی موجود ہو تو دو آدمی اپنے (تیسرے) ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں
یہاں تک کہ تم اور لوگوں سے مل جاؤ، اس لیے کہ ایسا کرنا اسے غمگین کر دے گا۔
(بخاری، 4/185، حدیث: 6290)
ان احادیث سے
ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی مسلمان کی دل آزاری نہ کرے۔ لہذا ہر کسی کو یہ
کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی وجہ سے کبھی بھی کسی مسلمان کی دل آزاری نہ ہو کیونکہ یہ
معاملہ حقوق العباد کا ہے اور حقوق العباد اس وقت تک اللہ معاف نہیں کرے گا جب تک
بندہ نہ کر دے۔ اللہ پاک ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami