کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت طاہر حسین، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
اسلام ایک
خوبصورت دین ہے جوحقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بھی تعلیم دیتا ہے۔معاشرے میں
رہتے ہوئے انسان کو دوسرے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے اور باہمی حقوق و فرائض کی
ادائیگی سے ہی خوبصورت معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ اسلامی معاشرے کی خوبیوں میں سے یہ
بھی ہے کہ کسی کے ساتھ بھی برا سلوک نہ کیا جائے۔
برے سلوک میں
کسی مسلمان کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آنا، ناحق ظلم کرنا، اس کی دل آزاری کرنا یا
کسی بھی طریقے سے تکلیف پہنچانا ہے جیسا کہ کسی کی غیبت و چغلی کرنا یا کسی سے حسد
اور بغض و کینہ رکھنا وغیرہ۔یار رکھیے کہ حقوق العباد اس وقت تک معاف نہ ہوں گے جب
تک بندہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔
جو لوگ ناحق
برا رویہ اختیار کرتے ہیں اللہ پاک بھی انہیں پسند نہیں فرماتا جیسا کہ ارشاد باری
ہے: وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ
الظّٰلِمِیْنَ(۵۷) (پ 3، آل عمران: 57) ترجمہ: اور اللہ ظالموں کو
پسند نہیں کرتا۔
اس کے برعکس
اسلام ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح کثیر احادیث مبارکہ
میں بھی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کے ساتھ برا کرنے سے منع فرمایا گیا
ہے۔ چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے:
رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ تو وہ اس پر ظلم کرے اور
نہ ہی اسے کسی ظالم کے حوالے کرے۔ جو مسلمان اپنے کسی بھائی کی حاجت پوری کرتاہے
اللہ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے۔ جوکسی مسلمان بھائی کی ایک دنیوی تکلیف کو دور
کرے گا، اللہ قیامت کی تکالیف میں سے اس کی ایک تکلیف کو دور فرمائے گا۔ جس نے کسی
مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (مسلم، ص
1069، حدیث: 6578)
سب
سے بھاری عمل:حضرت
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مومن کی
میزان (ترازو) میں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھا اخلاق ہوگی۔ (ترمذی، 3/404، حدیث: 2010)
سچے
مسلمان کی پہچان: آپ
ﷺ نے فرمایا: حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
(بخاری، 1/15، حدیث: 10)
مفلس
کون:آپ
ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو مفلس کون ہے؟ عرض کیا کہ ہم تو اسی کو مفلس
سمجھتے ہیں جس کے پاس درہم اور سامان نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس
وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی
دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا
ہوگا۔ پس اس نیک آدمی کو اس کے ظالم کی نیکیاں دے دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم
ہو گئیں تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال کر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص
1069، حدیث:6579)
برا
سلوک کرنے کے نقصانات: دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر نا صرف انسان
قلبی طور پر مطمئن ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اس کا اجر حاصل ہوگا جب کہ بد سلوکی
کے نتیجے میں دنیاوی اخروی کئی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن میں سے چند
درج ذیل ہیں:
1)گناہوں میں
اضافہ ہوتا ہے۔
2)ضمیر کی
ملامت سے اندرونی سکون چھن جاتا ہے۔
3)باہمی محبت
اور بھائی چارہ ختم ہو جاتا ہے۔اور لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے جس سے شک و نفرت
بڑھتی ہے۔
4) انسان
اندرونی طور پر حسد اور منفی سوچ کا شکار رہتا ہے اور دوسروں کے عیب ڈھونڈنے پر
خود بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
5)سب سے بڑا
نقصان یہ ہے کہ آخرت میں جس کے ساتھ برا سلوک کیا ہوگا اس کے معاف نہ کرنے کی صورت
میں اپنی نیکیاں اس مظلوم کو دینی ہوں گی اور نیکیاں ختم ہونے کی صورت میں آس ادمی
کے گناہ اپنے سر لینے پڑیں گے۔کیونکہ بروز قیامت ہر ہر عمل کا حساب و کتاب ہوگا
جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: تم لوگ
قیامت میں حقوق حق والوں کے سپرد کرو گے حتی کہ منڈی بکری کا سینگ والی بکری سے
بدلہ لیا جاوے گا۔ (مسلم، ص 1070، حدیث:
6580)
لہذا عافیت
اسی میں ہے کہ اگر کسی مسلمان کے ساتھ کسی بھی قسم کا برا سلوک کیا ہے تو دنیا میں
ہی اس سے معافی تلافی کر لی جائے۔
Dawateislami