انسان کی سب سے بڑی پہچان اس کا کردار ہے۔ دولت، طاقت، شہرت سب ایک دن ختم ہو جاتی ہے، لیکن کسی کے دل میں چھوڑا ہوا زخم یا محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اسی لیے اسلام کا سب سے بنیادی سبق یہی ہےکسی کو تکلیف نہ دو۔اور یہی انسانیت کا درس بھی ہے

اللہ پاک نے ہمیں صرف عبادت کا حکم نہیں دیا، معاشرے کے ساتھ حسن سلوک کا حکم بھی دیا۔

اللہ پاک قرآن پاک میں فرما تا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ- (پ 14، النحل: 80) ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔

یعنی اللہ خود چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ رشتہ داروں کیساتھ احسان بھلائی کا رویہ اختیار کریں زیادتی، برائی اور ظلم کا راستہ چھوڑ دیں۔

سورۂ نحل کی اس آیت مبارکہ سے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت تمام خیر و شر کے بیان کو جامع ہے۔ (شعب الایمان، 2/ 473، حدیث: 2440)

ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ: 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔

یہاں لوگوں کہا گیا ہے۔ مسلمان، غیر مسلم، دوست، دشمن، سب شامل ہیں۔ زبان سے برا بولنا بھی برا کرنا ہے۔ بلکہ ابتداء ہی زبان سے ہوتی ہے۔

ایک اور مقام پہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔

اس آیت کا شان نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو عام ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس سے انہیں اذیّت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں اذیت دی جائے توان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا اور خود کوبہتان کی سزا اور کھلے گناہ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔ (مدارک، ص 950)

یاد رہے کہ مسلمان مردو عورت کو دین اسلام میں یہ حق دیا گیا ہے کہ انہیں کوئی شخص اپنے قول اور فعل کے ذریعے نا حق ایذا نہ دے،یہاں اس سے متعلق تین احادیث اور بزرگان دین کے تین اقوال ملاحظہ ہوں،چنانچہ

(1)حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2/150، حدیث: 2518)

(2)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایامسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایاتم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ارشاد فرمایامومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ سمجھیں اور مہاجر وہ ہے جو گناہ کو چھوڑ دے اور اس سے بچے۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث: 6942)

(3)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسدنہ کرو،گاہک کو دھوکہ دینے اور قیمت بڑھانے کیلئے دکاندار کے ساتھ مل کر جھوٹی بولی نہ لگاؤ،ایک دوسرے سے بغض نہ کرو،ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو،کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور اے اللہ پاک کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،اس پر نہ ظلم کرے، نہ ا س کو رسوا کرے،نہ حقیر جانے، حضور پر نور ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا:تقویٰ یہاں ہے اور کسی شخص کی برائی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو برا جانے،ایک مسلمان دوسرے مسلمان پرحرام ہے،اس کا خون،اس کا مال اور ا س کی عزت۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

(4) حضرت فضیل رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مؤمنین و مؤمنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (مدارک، ص 950)

(5) حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مسلّط کردی جائے گی تووہ اپنے جسم کو کھجلائیں گے حتّٰی کہ ان میں سے ایک کے چمڑے سے ہڈی ظاہر ہو جائے گی تو اسے پکارا جائے گا:اے فلاں!کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟وہ کہے گا:ہاں۔پکارنے والا کہے گا:تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء علوم الدین، 2/242)

(6)علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:یہاں ایمان والوں کو اذیّت دینے کا ذکر نبی کریم ﷺ کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کو اذیت دینے کا ذکر اللہ پاک کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا،اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو اذیت دینا گویا کہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا ہے اور رسول کریم ﷺ کو اذیت دینا گویا کہ اللہ پاک کو اذیت دینا ہے تو جس طرح اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کو اذیت دینے والا دنیا اور آخرت میں لعنت کا مستحق ہے اسی طرح ایمان والوں کو اذیت دینے والا بھی دونوں جہاں میں لعنت و رسوائی کا حقدار ہے۔ (روح البیان، 7/239)

قرآن وحدیث اور صحابہ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو برا کہنا،برا کرنا اذیت وتکلیف دینا کس قدر برا عمل ہے اللہ اور اسکے نبی ﷺ کی ناراضگی کا سبب ہے۔

ہمیں چاہیے کہ کوئی برا کرے تو بدلہ نہ لیں کیونکہ۔ والعافين عن النّاس اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

مسکرا کر ملنا، راستے سے پتھر ہٹانا، کسی کا بوجھ اٹھا دینا۔ یہ سب برا نہ کرنے کی چھوٹی مگر بہترین شکل ہیں۔

دنیا میں ہم سب مسافر ہیں۔ جس کے ساتھ بھی 2 منٹ کا واسطہ پڑے، اسے اپنی وجہ سے سکون دیں، تکلیف نہیں۔

کیونکہ مرنے کے بعد لوگ ہمارا بینک بیلنس نہیں پوچھیں گے۔ وہ پوچھیں گے: یہ انسان کیسا تھا؟ اس نے کسی کے ساتھ برا تو نہیں کیا تھا؟

اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اور ہمیں بھی دوسروں کے ظلم اور شر سے بچائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ