انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی چیزوں میں سے ایک دوسرے کے دل کی قدر کرنا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے ایک لفظ، ایک طنز، ایک سخت لہجے یا ایک غلط رویّے سے سامنے والے کے دل پر کیا اثر پڑے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔

اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ: 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔

یاد رکھیے! کسی کو تکلیف دینا آسان ہے، لیکن کسی ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کبھی ہم غصے میں ایسی بات کہہ دیتے ہیں جسے بعد میں بھول جاتے ہیں، مگر وہ بات دوسرے شخص کے دل میں مدتوں رہ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ مسلمان مرد و عورت کو دین اسلام میں یہ حق دیا گیا ہے کہ انہیں کوئی شخص اپنے قول اور فعل کے ذریعے نا حق ایذا نہ دے،یہاں اس سے متعلق تین احادیث اور بزرگان دین کے دو اقوال ملاحظہ ہوں،چنانچہ

(1)حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2/150، حدیث: 2518)

(2)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایامسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری، 1/15، حدیث: 10)

ارشاد فرمایاتم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ارشاد فرمایامومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ سمجھیں اور مہاجر وہ ہے جو گناہ کو چھوڑ دے اور اس سے بچے۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث: 6942)

(3)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسدنہ کرو،گاہک کو دھوکہ دینے اور قیمت بڑھانے کیلئے دکاندار کے ساتھ مل کر جھوٹی بولی نہ لگاؤ،ایک دوسرے سے بغض نہ کرو،ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو،کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور اے اللہ پاک کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،اس پر نہ ظلم کرے، نہ ا س کو رسوا کرے،نہ حقیر جانے، حضور پر نور ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا:تقویٰ یہاں ہے اور کسی شخص کی برائی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو برا جانے،ایک مسلمان دوسرے مسلمان پرحرام ہے،اس کا خون،اس کا مال اور ا س کی عزت۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

(4) حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مسلّط کردی جائے گی تووہ اپنے جسم کوکھجلائیں گے حتّٰی کہ ان میں سے ایک کے چمڑے سے ہڈی ظاہر ہو جائے گی تو اسے پکارا جائے گا:اے فلاں!کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟وہ کہے گا:ہاں۔پکارنے والا کہے گا:تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء علوم الدین، 2/242)

(5)علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:یہاں ایمان والوں کو اذیّت دینے کا ذکر نبی کریم ﷺ کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کو اذیت دینے کا ذکر اللہ پاک کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا،اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو اذیت دینا گویا کہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا ہے اور رسول کریم ﷺ کو اذیت دینا گویا کہ اللہ پاک کو اذیت دینا ہے تو جس طرح اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کو اذیت دینے والا دنیا اور آخرت میں لعنت کا مستحق ہے اسی طرح ایمان والوں کو اذیت دینے والا بھی دونوں جہاں میں لعنت و رسوائی کا حقدار ہے۔ (روح البیان، 7/239)

اللہ پاک ہمیں شریروں کے شر اور ظالموں کے ظلم سے محفوظ فرمائے۔ آمین

اس لیے اگر کسی سے اختلاف ہو تو نرمی سے بات کریں، اگر کوئی غلطی کرے تو معاف کر دیں، اور اگر کوئی آپ سے برا سلوک کرے تو حتی الامکان برائی کا جواب برائی سے نہ دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہماری زبان سے کسی کے لیے بددعا نہیں بلکہ دعا نکلے، ہمارے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہیں بلکہ مدد ملے، اور ہمارے اخلاق سے لوگوں کو دین اسلام کی خوبصورتی نظر آئے۔

اللہ پاک ہمیں اچھے اخلاق اپنانے، دوسروں کے دل نہ دکھانے اور ہر ایک کے ساتھ محبت و نرمی سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین