قران کریم کی آیت مبارکہ ہے۔ وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ 24، حم السجدۃ: 34) ترجمہ: نیکی اور برائی برابر نہیں ہیں۔ تم برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو (یعنی اچھائی سے)، پھر دیکھو گے کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ گویا تمہارا دلی دوست بن گیا ہے۔

احادیث مبارکہ:

حضور ﷺ کا فرمان ہے: ہر مسلمان کا خون مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ (کسی کو تکلیف نہ دیجئے، ص 5)

بلا اجازت شرعی مسلمان کو تکلیف دینا کتنی بڑی جرأت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 342 میں طبرانی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں اللہ پاک کے حبیب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ پاک کو ایذا دی۔ (تکلیف نہ دیجیے، ص 6)

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: مسلمان وہ ہے جس کے زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہے لہذا کامل مسلمان وہی ہے جو زبان سے کسی کو گالی نہ دے بلا اجازت شرعی کسی کو برا نہ کہے کسی کی غیبت نہ کرے کسی کو بیوقوف نہ کہے کسی کے عیب نہ کھولے کسی کو ہاتھ سے تکلیف نہ دے کسی کی دل آزاری نہ کرے کسی کو بے جا تنقید کا نشانہ نہ بنائے اور جو ایسا نہ ہو بلکہ اس نے ہر طرح سے لوگوں کو تکلیف دی اور ہر شخص اس سے تنگ اور بیزار رہا وہ کامل مسلمان نہیں اس کے دل میں ایمان مضبوط نہیں۔ (غیبت کی تباہ کاریاں، ص 59)

کسی کے ساتھ برا کرنے کی چند مثالیں:

کسی کا مذاق اڑانا: کسی کے ساتھ برا کرنے کی ایک صورت کسی کا مذاق اڑانا بھی ہے یاد رکھیے کسی مسلمان کو مذاق میں بھی تکلیف پہنچانے سے منع کیا گیا ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی سے نہ تو جھگڑا کرو نہ اس کا مذاق اڑاؤ اور نہ ہی اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی خلاف ورزی کرو۔ (تکلیف نہ دیجیے، ص 51)

مریض کو تکلیف دینا: بیمارکی عیادت کرنا کار ثواب ہے لیکن بعض اوقات عیادت کرنے والے مریض کے لیے راحت کے بجائے زحمت کا سبب بن جاتے ہیں بلا ضرورت مرض کی تفصیل پوچھنا اور بلا ضرورت فضول سوال کرنا لہذا اس سے بچا جائے۔

پڑوسی کو تکلیف دینا: کوئی تکلیف دے تو اس کے شر سے بچنے کے لیے اس کے قریب سے اٹھا جا سکتا ہے آئندہ اس سے ملنے سے بچا جا سکتا ہے تعلقات ختم کیے جا سکتے ہیں لیکن اگر پڑوسی ہی تکلیف دینے پر تل جائے تو انسان کہاں پناہ ڈھونڈے کیونکہ اس کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا یا مکان بدلنا پڑے گا جو کہ بہت دشوار ہے اس لیے ہمیں ہمیشہ مسلمانوں اور خاص طور پر پڑوسی کو تکلیف دینے سے بچنا چاہیے۔

حضور ﷺ کا فرمان ہے: جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ہرگز تکلیف نہ دے۔ (تکلیف نہ دیجئے، ص 43)

پڑوسی کو تکلیف دینے کی مختلف صورتیں: اس کے دروازے کے سامنے کچرا ڈال دینا، ان کے دروازے کے پاس شور کرنا، ان کے گھر میں جھانکنا، ان کے بچوں کو جھاڑنا وغیرہ اللہ پاک ہمیں ان تمام باتوں سے بچائے۔ آمین

اللہ کریم ہمیں دوسروں کے ساتھ برا کرنے سے بچائے اور حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین