سوچ انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ کیونکہ جو ہم سوچتے ہیں، وہی ہماری گفتگو ہوتی ہے اور وہی ہمارا کردار بن جاتا ہے۔ اسی لیے بزرگان دین فرمائے ہیں کہ دل صاف رکھو کیونکہ دل کا نور چہرےپر چمکتا ہے دل صاف رکھنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ کسی کا برا مت سوچیں۔

1۔ سوچ کا اثر سب سے پہلے خود پر ہوتا ہے، جب ہم کسی کے بارے میں برا سوچتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان اپنا ہوتا ہے۔ ہمارا دماغ بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے، اور نیند خراب ہو جاتی ہے۔ دوسرا شخص تو بے خبر اپنی زندگی گزار رہا ہوتا ہے، اور ہم اندر ہی اندر زہر پی رہے ہوتے ہیں۔یعنی برا سوچنے سے ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے

2۔ برا سوچنا، برا کرنے کی پہلی سیڑھی ہے، پہلے انسان سوچتا ہے، پھر بات کرتا ہے، اور آخر میں عمل کرتا ہے۔ اگر سوچ ہی صاف نہ ہو تو رشتے کیسے صاف رہیں گے؟ حسد، بغض اور بدگمانی سب کا آغاز ایک بری سوچ سے ہوتا ہے۔

3۔ ہر انسان کے حالات مختلف ہیں، ہم کسی کی زندگی کا صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں، پوری کتاب نہیں پڑھتے۔ ہو سکتا ہے جو شخص ہمیں برا لگ رہا ہو وہ کسی بڑی آزمائش سے گزر رہا ہو۔ اس لیے فیصلہ کرنے اور برا سوچنے سے پہلے 100 بار سوچیں۔

4۔ اچھا سوچیں گے تو اچھا ملے گا، جو لوگ دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں، ان کے لیے فرشتے بھی دعا کرتے ہیں۔ کسی کی کامیابی پر خوش ہوں، کسی کی غلطی کو معاف کریں، کسی کی مجبوری کو سمجھیں۔تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زندگی میں بھی سکون اور برکت آ جائے گی۔

زندگی بہت مختصر ہے اسے نفرتوں میں ضائع مت کریں۔ کسی کا برا سوچنے سے پہلے اپنا وقت، اور اپنی دعا کسی اچھے کام میں لگا دیں گے تو ہم اپنےوقت کو کرنے والے کاموں میں استعمال کر سکیں گے۔ یاد رکھیں، دنیا آئینہ ہے۔ آپ جیسا سوچیں گے، ویسا ہی آپ کو لوٹ کر ملے گا۔ اس لیے دل کوکینہ مسلم سے اور بری سوچوں سے پاک رکھیں۔ اور کسی کا برا مت سوچیں۔