کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت احمد دین، فیضان بی بی ہاجرہ مسلم ٹاؤن کوئٹہ
انسان فطرتاً
عزت کا بھوکا ہے، کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہتا کہ اسکے ساتھ برا کیا جائے، اسے
دھوکا دیا جائے، اسکا مذاق اڑایا جائے، اسے نظر انداز کیا جائے، بے عزت کیا جائے
یا نا انصافی کی جائے، کسی کو گوارا ہوگا کہ کوئی اسے گالی دے اور یہ خاموش رہے؟ خود
کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر سوچیں تو یہ سوچ بھی اذیت دیتی ہے تو جیسا اپنے لیے
اچھا چاہتے ہیں ایسے ہی دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھیں تاکہ آپکے ساتھ بھی اچھا
ہو اور مسلمان کی حرمت کعبے کی حرمت سے بڑھ کر ہے، کسی کو حقیر نہ جانیں۔
الله تبارک
وتعالیٰ قرآن پاک کی سورۃ الحجرات آیت 11 میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا
مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ
لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ
الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)(پ
26، الحجرات: 11) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو!مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں،
ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں،
ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور
ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے
اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
بعض علما نے
فرمایا کہ اس سے وہ القاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو
ناگوار ہو (لیکن تعریف کے القاب جو سچے ہوں ممنوع نہیں، جیسے کہ حضرت ابوبکر رضی
اللہ عنہ کا لقب عتیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہ کا ذوالنّورین اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ابوتراب اور حضرت خالد رضی
اللہ عنہ کا سیف اللہ تھا) اور جو القاب گویا کہ نام بن گئے اور القاب والے کو
ناگوار نہیں وہ القاب بھی ممنوع نہیں،جیسے اعمش اور اعرج وغیرہ۔ (خازن، 4/170)
حضرت علامہ
عبد المصطفٰی اعظمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اس کی
تحقیر کرنے کے لیے اس کی خامیوں کو ظاہر کرنا،اس کا مذاق اڑانا،اس کی نقل اتارنایا
اس کو طعنہ مارنا یا عار دلانا یا اس پر ہنسنا یا اس کو برے برے القاب سے یاد کرنا
اور اس کی ہنسی اڑانا مثلاً آج کل کے بزعم خود اپنے آپ کو عرفی شرفاء کہلانے والے
کچھ قوموں کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں اور محض قومیّت کی بنا پر ان کا تمسخر اور
استہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور قسم قسم کے دل آزار القاب سے یاد کرتے
رہتے ہیں،کبھی طعنہ زنی کرتے ہیں، کبھی عار دلاتے ہیں، یہ سب حرکتیں حرام و گناہ
اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔لہٰذا ان حرکتوں سے توبہ لازم ہے، ورنہ یہ لوگ
فاسق ٹھہریں گے۔ اسی طرح سیٹھوں اور مالداروں کی عادت ہے کہ وہ غریبوں کے ساتھ
تمسخر اور اہانت آمیز القاب سے ان کو عار دلاتے اور طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں اور
طرح طرح سے ان کا مذاق اڑایا کرتے ہیں جس سے غریبوں کی دل آزاری ہوتی رہتی ہے، مگر
وہ اپنی غربت اور مفلسی کی وجہ سے مالداروں کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ ان مالدارو
ں کو ہوش میں آ جانا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ان کرتوتوں سے توبہ کرکے باز نہ آئے تو
یقینا وہ قہر قہّار و غضب جبّار میں گرفتار ہو کر جہنم کے سزاوار بنیں گے اور دنیا
میں ان غریبوں کے آنسو قہر خداوندی کا سیلاب بن کر ان مالداروں کے محلات کو خس و
خاشاک کی طرح بہا لے جائیں گے۔(جہنم کے خطرات، ص 175، 176)
حضرت ابو موسیٰ
اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ! کون سا اسلام افضل
ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت
رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
ایذا اور
تکلیف تو زبان اور ہاتھ کے علاوہ دوسرے اعضا سے بھی پہنچائی جاسکتی ہے اور کسی بھی
عضو سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچانا حرام ہے مگر اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ
زبان اور ہاتھ کا ذکر اس لئے ہے کہ انسان کے زیادہ تر اعمال و افعال زبان اور ہاتھ
ہی سے انجام پاتے ہیں اور حدیث میں ان دونوں اعضا میں سے زبان کا ذکر پہلے اور
ہاتھ کا ذکر بعد میں اس لئے کیا گیا کہ ایذا پہنچانے کے معاملہ میں زبان کا نمبر
ہاتھ سے بھی آگے ہے کیونکہ اوّلًا تو زبان سے تکلیف پہنچانا بہت ہی کثیر الو قوع
اور آسان ہے۔کون نہیں جانتا کہ انسان اپنی گالیوں، افترا پردازیوں، بدگوئیوں،غیبتوں،چغلیوں
سے اور زبان سے ظلم اورناانصافی کے احکام دے کر ایک منٹ میں سینکڑوں ایذائیں اور
تکلیفیں پہنچادیتا ہے۔پھر ایک و جہ یہ بھی ہے کہ زبان کی ایذائیں اور تکلیفیں ہاتھ
اور دوسرے اعضا کی تکلیفوں سے بدرجہا بڑھ کر دکھ دینے والی ہوا کرتی ہیں۔
حضرت معرور سے
روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملاقات
کی، وہ اور ان کا غلام ایک ہی جیسا جوڑا پہنے ہوئے تھے تو میں نے اس کے بارے میں ان
سے سوال کیا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ایک شخص سے گالی گلوچ
کی اور اس کو ماں کی گالی دی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوذر! تم نے اس کو ماں کی
گالی دی تم ایسے آدمی ہو کہ تمہارے اندر جاہلیت کی خصلت ہے تمہارے لونڈی غلام
تمہارے (دینی) بھائی ہیں۔ اللہ پاک نے ان لوگوں کو تمہارا ماتحت بنادیا ہے تو جس
کا بھائی اس کے ماتحت ہو اس کو چاہئے کہ جو خود کھائے اس کو کھلائے اور جو خود
پہنے اس کو پہنائے اور تم ان خادموں کو ایسے کاموں کی تکلیف مت دو جو انہیں لاچار
کردے اور اگر تم ایسی تکلیف دو تو خود بھی کام میں ان کی مددکرو۔
حدیث مذکور کا
خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ جناب معرور جب حضرت ابوذر کی ملاقات کے لیے ربذہ حاضر ہوئے
تو یہ منظر دیکھا کہ آپ کے اور آپ کے غلام کے بدن پر بالکل ایک ہی قسم کا جوڑا
ہے۔آقا اور غلام دونوں کا لباس یکساں دیکھ کر قدرتی طور پر جناب معرور کے دل میں اس
سوال نے سر اٹھایا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ آقا اور غلام دونوں ایک ہی قسم کے
لباس میں ملبوس ہیں تو آپ نے حضرت ابو ذر سے اس کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابو ذر
رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ میں نے ایک شخص کو ایک مرتبہ ماں کی گالی دے
دی اس شخص نے حضور ﷺ سے میری شکایت کردی تو حضور ﷺ نے سرزنش کے طور پر مجھ سے
فرمایا کہ کیا تو نے اس کو ماں کی گالی دی ہے۔ اے ابو ذر! رضی اللہ عنہ مسلمان
ہونے کے بعد بھی تیرے اندر زمانۂ جاہلیت کی خصلت باقی ہے۔
اس کے بعد
حضور ﷺ نے مجھے یہ نصیحت فرمائی کہ تم اپنے لونڈی غلاموں اور نوکروں چاکروں کو
ہرگز ہرگز حقیر و ذلیل مت سمجھو بلکہ یہ سمجھو کہ یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جن کو
خدا نے تمہارے ماتحت بناکر تمہارے قبضہ میں دے دیا ہے۔لہٰذا اگر تمہارا کوئی دینی
بھائی تمہارا ماتحت اور تمہارا غلام ہوتو اس کے ساتھ برادرانہ سلوک کرو یہاں تک کہ
جو تم خود کھاتے ہو وہی اس کو کھلاؤ اور جو تم خود پہنتے ہو وہی اس کو بھی
پہناؤاور ان لوگوں سے ان کی طاقت سے زیادہ مشقت کا کام نہ کراؤاور اگر کوئی مشقت
کا کام ان لوگوں کے سپرد کرو تو تم خود بھی ان لوگوں کی مدد کرو۔اس لیے میں نے
حضور ﷺ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ دستور بنالیا ہے کہ میں جو کھاتا ہوں وہی
اپنے غلام کو بھی کھلاتا ہوں اور جس قسم کا جوڑا خود پہنتا ہوں اسی قسم کا جوڑا
اپنے غلام کو بھی پہناتا ہوں۔یہی و جہ ہے کہ تم میرا اور میرے غلام کا لباس ایک ہی
جیسا دیکھ رہے ہو۔
حضرت ابو ذر رضی
اللہ عنہ کا ایک شاہکار: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جس شخص کو ماں کی گالی دی تھی
وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔کیا گالی دی تھی بس اتنا کہدیا تھا کہ (اے کالی ماں
کے بیٹے)حضرت بلال نے جب دربار رسالت میں اس
کی شکایت کی تو سرکار مدینہ ﷺ نے حضرت ابو
ذر رضی اللہ عنہ کو ڈانٹا اور نصیحت فرمائی۔اس کے بعد حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ پر
اس کا کیا رد عمل ہوا، یہ بہت ہی لرزہ برا ندام کردینے والی داستان ہے۔اس کو بار
بار پڑھتے رہیے اور خدا کے خوف سے ڈرتے رہیے۔
دربار رسالت کی ملامت سن کر فوراًہی حضرت ابوذر رضی
اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ندامت کے ساتھ حاضر ہوئے اور ایک دم
اپنا حسین رخسار زمین پر رکھ کر انتہائی لجاجت کے ساتھ روتے اور گڑگڑاتے ہوئے یہ
کہا کہ اے بلال! جب تک تم اپنے قدم کے تلوے سے میرے اس رخسار کو نہ روندوگے میں اس
وقت تک اپنا یہ چہرہ ہرگز ہرگز زمین سے نہیں اٹھاؤں گا۔حضرت ابو ذر کے شدید اصرار
سے مجبور ہوکر حضرت بلال رضی اللہ پاک عنہن ے بادل نخواستہ اپنا قدم ابو ذر رضی
اللہ عنہ کے چہرے پر رکھ کر فوراً ہی ہٹالیا اور حضرت ابو ذر کو معاف کردیا۔ (ارشاد
الساری،1/246)
تو ہمیں جتنا
ہوسکے اچھائی کے ساتھ چلنا ہے، با اخلاق بن جائیں الله کرے، بس جو کام کرنا ہے
الله تبارک وتعالی اور آقا کریم ﷺ کی اور مرشد کریم کی رضا دیکھنی ہے اگر ایسا
کریں گے تو ان شاءاللہ الکریم بیڑا پار ہوجائے گا۔ نہ دوسروں کو حقیر جانیں گے اور
نہ ہی خود کو حقیر جانیں گے۔ پہلے تو اپنی پھر دوسروں کی اصلاح کرنی ہے۔ ان
شاءاللہ الکریم
Dawateislami